Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ان جنگوں سے متعلق سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا مؤقف

  علی محمد الصلابی

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مابین برپا ہونے والی جنگوں سے متعلق اہل سنت و الجماعت کا جو مؤقف ہے وہی سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا مؤقف تھا، وہ یہ کہ قابلِ ذکر باتوں کو چھوڑ کر ان کے درمیان رونما ہونے والے اختلاف پر خاموشی برتی جائے، اس لیے کہ اس سلسلے میں زیادہ کرید کرنا ایک فریق کی دشمنی، کینہ اور بغض کو جنم دے گا، ان کی رائے ہے کہ ہر مسلمان تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت کرے ان کے حق میں رضی اللہ عنہم کہے، ان کے لیے دعائے رحمت کرے، ان کے فضائل کا پاس و لحاظ رکھے، ان کے کارناموں کا اعتراف کرے، جو کچھ ان کے مابین رونما ہوا اجتہاد کی بنیاد پر ہوا، صحیح اور غلط دونوں صورتوں میں ثواب کے مستحق ہیں، فرق اتنا ہے کہ صحیح اجتہاد والے کا ثواب غلط اجتہاد والے کے ثواب سے دوگنا ہوگا، قاتل و مقتول دونوں طرح کے صحابہ کرامؓ جنت میں ہوں گے، اہل سنت و الجماعت نے ان کے اختلافات کی گہرائی میں جانے سے روکا ہے۔

(عقیدۃ أہل السنۃ فی الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 727)

قبل اس کے کہ اس سلسلے میں اہل سنت کے اقوال ذکر کروں بعض ان نصوص کا ذکر کر رہا ہوں جن میں صحابہ کرامؓ کے اوصاف اور ان کے مابین برپا ہونی والی جنگوں کی جانب اشارہ ہے:

ا: فرمان الہٰی ہے:

وَاِنۡ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اقۡتَتَلُوۡا فَاَصۡلِحُوۡا بَيۡنَهُمَا‌ فَاِنۡۢ بَغَتۡ اِحۡدٰٮهُمَا عَلَى الۡاُخۡرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِىۡ تَبۡغِىۡ حَتّٰى تَفِىۡٓءَ اِلٰٓى اَمۡرِ اللّٰهِ ‌فَاِنۡ فَآءَتۡ فَاَصۡلِحُوۡا بَيۡنَهُمَا بِالۡعَدۡلِ وَاَقۡسِطُوۡا اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُقۡسِطِيۡنَ ۞

(سورۃ الحجرات آیت 9)

ترجمہ: اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کراؤ۔ پھر اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے کے ساتھ زیادتی کرے تو اس گروہ سے لڑو جو زیادتی کر رہا ہو، یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے۔ چنانچہ اگر وہ لوٹ آئے، تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ صلح کرادو، اور (ہر معاملے میں) انصاف سے کام لیا کرو، بیشک اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا حکم دیا ہے کہ جب مسلمان آپس میں لڑ پڑیں توان کے مابین میل ملاپ کرایا جائے اس لیے کہ وہ سب بھائی بھائی ہیں، اس طرح کی لڑائی انھیں دائرہ ایمان سے خارج نہیں کرتی، اور جب عام مسلمانوں کے مابین لڑائی انھیں ایمان سے خارج نہیں کرتی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے بعد کی آیت إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ

میں انھیں ایمان کے وصف سے متصف کرتے ہوئے 

’’اَلْمُؤْمِنُوْنَ‘‘ کہا ہے، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جو جنگ جمل وغیرہ میں لڑپڑے تھے اس ایمان کے وصف کے زیادہ مستحق ہیں جس کا اس آیت میں تذکرہ کیا گیا ہے، اس لیے وہ اپنے رب کے نزدیک حقیقی مومن رہیں گے اور اجتہادی غلطی کی بناء پر ان کے مابین رونما ہونے والی لڑائی ان کے ایمان کو کسی حال میں ختم نہیں کرسکتی۔

(العواصم من القواصم: صفحہ 169، 170، احکام القرآن: جلد 4 صفحہ 1717)

ب: ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

تَمْرُقُ مَارِقَۃٌ عِنْدَ فِرْقَۃٍ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ تَقْتُلُہُمْ أَوْلَی الطَّائِفَتَیْنِ بِالْحَقِّ۔

(صحیح مسلم: جلد1 صفحہ 745)

’’مسلمانوں کے ایک فریق میں سے ایک گروہ خروج کرے گا انھیں حق کا زیادہ مستحق فریق قتل کرے گا۔‘‘

حدیث میں جس اختلاف کی جانب اشارہ کیا گیا ہے وہ سیدنا علی و معاویہ رضی اللہ عنہما کا باہمی اختلاف ہے، دونوں فریقوں کو مسلمان کہا گیا ہے، اور دونوں کا تعلق حق سے جوڑا گیا ہے، یہ حدیث نبوت کی ایک دلیل ہے اس لیے کہ خبر نبوی کے مطابق ہی واقعہ پیش آیا، اس میں اہل شام و اہل عراق دونوں فریقوں کو مسلمان کہا گیا ہے، اس سے اس بات کا بھی پتہ چلتا ہے کہ اصحابِ علی رضی اللہ عنہم حق سے زیادہ قریب ہیں، یہی اہل سنت و الجماعت کا مذہب ہے، سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا بھی خیال تھا کہ علی رضی اللہ عنہ حق پر تھے اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ مجتہد تھے، انھیں اپنے اجتہاد کا اجر ان شاء اللہ ملے گا، لیکن علی خلیفۂ برحق تھے انھیں دوہرا اجر ملے گا جیسا کہ صحیح بخاری میں وار دہے:

إِذَا اجْتَہَدَ الْحَاکِمُ فَأَصَابَ فَلَہٗ أَجْرَانِ وَ إِذَا اجْتَہَدَ فَأَخْطَأَ فَلَہٗ أَجْرُہٗ۔

(صحیح البخاری: مع فتح الباری: جلد 13، صفحہ 318)

’’جب حاکمِ وقت اجتہاد کرے اور اس کا اجتہاد درست نکلے تو اس کو دوہرا اجر ملے گا، اور جب اس کا اجتہاد درست نہ ثابت ہو تو اس کو ایک اجر ملے گا۔‘‘

ج: عَنْ أَبِيْ بَکْرَۃَ قَالَ: بَیْنَمَا النَّبِیُّ صلي الله عليه وسلم یَخْطُبُ جَائَ الْحَسَنُ فَقَالَ النَّبِیُّ صلي الله عليه وسلم : اِبْنِيْ ہذَا سَیِّدٌ، وَ لَعَلَّ اللّٰہُ أَنْ یُصْلِحَ بِہٖ بَیْنَ فِئَتَیْنِ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔

(صحیح البخاری: کتاب الفتن: 7109) 

’’ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطاب کر رہے تھے اسی دوران میں سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما پہنچ گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا یہ لاڈلا سردار ہے، امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ سے مسلمانوں کے دو گروہوں کے مابین صلح کرائے گا۔‘‘ 

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے اہلِ عراق و اہل شام دونوں گروہوں کے اسلام کی شہادت موجود ہے، اس میں علی واصحاب علی رضی اللہ عنہم اور معاویہ و اصحابِ معاویہ رضی اللہ عنہم کو کافر قرار دینے والے خوارج کی واضح تردید ہے، اس لیے کہ اس میں سب کے مسلمان ہونے کی شہادت ہے۔ اسی لیے سفیان بن عیینہ کہا کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول: ’’فِئَتَیْنِ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ‘‘ ہمیں بہت اچھا لگتا ہے۔ امام بیہقیؒ کہتے ہیں: انھیں اس لیے اچھا لگتا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو مسلمان کہا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشین گوئی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے ذریعہ سے اس طرح سچ ثابت ہوئی کہ آپ نے خلافت سے دستبردار ہو کر سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے حوالے کردی۔

(الاعتقاد للبیہقی: صفحہ 198، فتح الباری: جلد 13 صفحہ 66)

مذکورہ حدیثوں میں اہل عراق (جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے) اور اہلِ شام (جو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے) کی جانب اشارہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو اپنا امتی بتایا ہے، 

(صحیح مسلم: جلد 2 صفحہ 746)

سب کا تعلق حق سے جوڑا ہے، سب کے ایمان کی شہادت دی ہے، ان کے مابین برپا ہونے والی جنگ کے باعث وہ دائرۂ ایمان سے خارج نہیں ہوئے، سب کے سب اس فرمانِ الٰہی کے عموم میں داخل ہیں:

وَاِنۡ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اقۡتَتَلُوۡا فَاَصۡلِحُوۡا بَيۡنَهُمَا‌

(سورۃ الحجرات آیت 9)

’’اگر مسلمانوں کی دو جماعتیں آپس میں لڑپڑیں تو ان کے مابین میل ملاپ کرا دو۔‘‘

ہم بیان کر چکے ہیں کہ آیت کا مفہوم ان سب کو شامل ہے اس لیے جنگ کے باعث نہ تو وہ کافر ہوئے اور نہ فاسق، بلکہ وہ تاویل کرنے والے مجتہد تھے، اس جنگ سے متعلق سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا حکم بھی گزر چکا ہے، اس لیے ہر مسلمان اور اہل بیت کی محبت کا دم بھرنے والے پر واجب ہے کہ صحابہ کرامؓ کے مابین رونما ہونے والی جنگوں کے بارے میں وہی عقیدہ رکھے جو اہل سنت و الجماعت کا ہے جن کے ائمہ میں سے امیر المؤمنین علی اور آپ کے دونوں صاحبزادے حسن و حسین رضی اللہ عنہم ہیں، اور وہ عقیدہ یہ ہے کہ ان کے مابین جو کچھ ہوا اس پر خاموشی برتی جائے، اور قابلِ ذکر باتوں کو چھوڑ کر دوسری باتوں کو نہ کریدا جائے۔