پاؤں دھونے میں شیعہ حضرات کا اختلاف - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

پاؤں دھونے میں شیعہ حضرات کا اختلاف

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 2 از 2
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَى قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِی طَلْحَةَ قَالَ: حَدَّثَنِی عَلِیُّ بْنُ یَحْیَى بْنِ خَلَّادٍ، عَنْ أَبِیهِ، عَنْ عَمِّهِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، أَنَّهُ کَانَ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّهَا لَا تَتِمُّ صَلَاةٌ لِأَحَدٍ، حَتَّى یُسْبِغَ الْوُضُوءَ، کَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ تَعَالَى، یَغْسِلُ وَجْهَهُ وَیَدَیْهِ إِلَى الْمِرْفَقَیْنِ وَیَمْسَحُ بِرَأْسِهِ، وَرِجْلَیْهِ إِلَى الْکَعْبَیْنِ
(سنن ابنِ ماجہ: .جلد، 1 صفحہ، 291 ط موسسة الرسالة تصحیح سند روایت شعیب الارنووط: إسناده صحیحسنن ابنِ ماجہ: جلد، 1 صفحہ، 291 ط موسسة الرسالةسنن ابی داو: جلد، 2 صفحہ، 144 ط دار الرسالة العالمیةناصر الدین البانی: صحیح سنن ابنِ ماجہ: صفحہ، 95 ط مکتبة المعارف سنن ابی داود: صفحہ، 151 ط مکتبة المعارف حسین سلیم اسد الدارانی (محقق کتاب سنن الدارمی): اسناده صحیح سنن الدارمی: جلد، 2 صفحہ، 839 ط دار المغنی حاکم نیشاپوری: هذا حدیث صحیح علی شرط الشیخین قال الذہبی: علی شرطهماالمستدرک علی الصحیحین: جلد، 1 صفحہ، 368 ط دار الکتب العلمیة)
حمران بن ابان سے سند معتبر کے ساتھ نقل ہوا ہے کہ سیدنا عثمانؓ اپنے پیروں کا مسح کیا کرتا تھا اور خود بھی واضح طور پر کہتا تھا کہ رسول خداﷺ بھی اسی طرح وضو کیا کرتے تھے:
حدثنا محمد بن بِشْرٍ قال حدثنا سَعِيدُ بن أبی عَرُوبَةَ عن قَتَادَةَ عن مُسْلِمِ بن يَسَارٍ عن حُمْرَانَ قال دَعَا عُثْمَانَ بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ ضَحِكَ فقال ألا تَسْأَلُونِی مِمَّا أَضْحَكُ قالوا يا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ما اضحكك قال رَأَيْت رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم تَوَضَّأَ كما تَوَضَّأْت فَمَضْمَضَ وَ اسْتَنْشَقَ وَ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثًا وَ يَدَيْهِ ثَلاَثًا وَ مَسَحَ بِرَأْسِهِ وَ ظَهْرِ قَدَمَيْهِ
حضرت عثمانؓ نے کہا کہ میں نے رسولِ خداﷺ کو دیکھا تھا کہ وہ بھی وضو کرتے وقت اپنے سر اور پیروں کا مسح کیا کرتے تھے۔
(مصنف ابنِ أبی شيبة: جلد، 1 صفحہ، 16)
کیا شیعہ قرآن کے مطابق اسی ترتیب سے وضو کرتے ہیں؟ 
شیعہ کی اصولِ اربعہ سے بھی وضو کی وہی ترتیب اور طریقہ مل جائے گا جو اہلِ سنت کا طریقہ ہے۔  
شیعہ تفسیر مجمع البیان کی عبارت۔ 
(لفظ ارجلکم) کی نصب کے ساتھ قرآت کے بارے میں مفسرین کرام نے فرمایا کہ اس صورت میں اس کا عطف “ایدیکم” پر ہو گا۔ (جس کی وجہ سے “فاغسلوا” امر کا مفعول یہ بنے گا اور ہاتھوں کی طرح پاؤں کے بھی دھونے کا حکم ہوگا نہ کہ مسح کرنے کا) کیونکہ ہر دور کے فقہائے کرام کو ہم دیکھتے ہیں کہ وہ (اس آیت مبارکہ پر عمل کرتے ہوئے) پاؤں کو دھوتے ہوئے مسح نہیں کرتے دوسری دلیل یہ بھی ہے کہ: 
حضور سرور کائناتﷺ سے مروی ہے کہ آپﷺ نے کچھ لوگوں کو وضو کرتے دیکھا اور وضو کرتے وقت پاؤں کی ایڑیاں نہ دھلنے کی وجہ سے سفید سی نظر آ رہی تھیں تو آپﷺ نے فرمایا ایسی ایڑیوں کے لیے جہنم کی آگ سے تباہی اور ہلاکت ہے۔
(تفسير مجمع البیان: جلد، دوم جز، سوم صفحہ، 165 مطبوعہ تہران جدید)
شیعہ کی اصول اربعہ کی کتاب الاستبصار میں موجود ایک صحیح السند روایت 
فأما ما رواه محمد بن الحسن الصفار، عن عبيدالله بن المنبه، عن الحسين بن علوان، عن عمرو بن خالد، عن زيد بن علی، عن آبائه، عن علی (ع) قال: جلست أتوضأ فأقبل رسول الله (ﷺ) حين ابتدأت فی الوضوء، فقال لی: تمضمض واستنشق واستن، ثم غسلت ثلاثاً فقال: قد يجزيك من ذلك المرتان، فغسلت ذراعی ومسحت برأسی مرتين، فقال: قد يجزيك من ذلك المرة، وغسلت قدمی، فقال لی: يا علی خلل بين الأصابع لا تخلل بالنار
ترجمہ: حضرت زید بن علی اپنے آباؤ اجداد رضوان اللہ علیہم اجمعین روایت کرتے ہیں۔ کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں ایک دفعہ بیٹھا وضو کر رہا تھا کہ اتنے میں حضور اکرمﷺ تشریف فرما ہوئے۔ ابھی میں نے وضو شروع ہی کیا تھا۔ تو آپﷺ نے فرمایا کلی کرو اور ناک میں پانی ڈال کر صاف کرو۔ پھر میں نے تین مرتبہ منہ دھویا۔ اس پر آپﷺ نے فرمایا۔ دو دفعہ ہی کافی تھا۔ پھر میں نے اپنے دونوں بازو دھوئے۔ اور اپنے سر کا دو مرتبہ مسح کیا۔ آپﷺ نے فرمایا ایک دفعہ ہی کافی تھا۔ پھر میں نے اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔ آپﷺ نے فرمایا۔ اے سیدنا علیؓ! انگلیوں کے درمیان خلال۔ اللہ تمہیں اگ کے خلال سے بچائے۔
یہی روایت شیعہ کی تہذیب الاحکام میں بھی موجود ہے۔
اگر سورت المائدہ کی آیت 6 کا ترجمہ پاؤں دھونا غلط ہے بلکہ مسح کرنا درست ہوتا تو نبی کریمﷺ کے سامنے حضرت علیؓ وضو کرتے وقت پاؤں کیوں دھوتے؟ کیا اس وقت بھی تقیہ کرنا ضروری تھا؟

صفحہ 2 از 2