شیعوں کی طرف سے حضرت آدم علیہ السلام کی گستاخی (اہل تشیع کی صحیح روایت)
جعفر صادقرافضیوں کے نزدیک حضرت آدم علیہ السلام کافر ہیں۔ العیاذ بااللہ
باب في أصول الكفر وأركانہ
1 - الحسين بن محمد، عن أحمد بن إسحاق، عن بكر بن محمد، عن أبي بصير قال: قال أبو عبد الله (عليه السلام): أصول الكفر ثلاثة: الحرص، والاستكبار، والحسد، فأما الحرص فان آدم (عليه السلام) حين نهي عن الشجرة، حمله الحرص على أن أكل منها وأما الاستكبار فإبليس حيث أمر بالسجود لآدم فأبى، وأما الحسد فابنا آدم حيث قتل أحدهما صاحبه
الكافي، الشيخ الكليني: جلد 2 صفحہ 289
ابو عبد اللہ علیہ السلام فرماتے ہیں
اصول کفر تین ہیں ( 1) حرص ( 2) تکبر ( 3) حسد
بہرحال حرص بیشک آدم علیہ السلام نے کی جب انھیں درخت سے روکا گیا تھا، حرص نے آدم علیہ السلام کو اسکے کھانے پر آمادہ کیا
اور تکبر شیطان نے کیا جب اسے آدم علیہ السلام کے سجدہ کا حکم کیا گیا۔
حسد آدم علیہ السلام کے بیٹوں( ھابیل، قابیل) نے کیا جب ایک نے دوسرے کا قتل کیا۔
( العیاذ بااللہ)
حوالہ جات شیعہ کتب سے



یہ روایت شیعہ کی اصول کی پہلی کتاب کافی کی ہے
جسکی سند کو مرآة العقول میں باقر مجلسی نے الصحیح لکھا ہے





آنلائن لنک
بحار الأنوار: العلامة المجلسي: جلد 69 صفحہ 104
آنلائن لنک
موسوعة أحاديث أهل البيت (ع) الشيخ هادي النجفي: جلد 3 صفحہ 296
آنلائن لنک
ميزان الحكمة: محمد الريشهري: جلد 3 صفحہ 2711
آنلائن لنک
مستدرك سفينة البحار: الشيخ علي النمازي الشاهرودي: جلد 9 صفحہ 128
آنلائن لنک
الأمالي: الشيخ الصدوق: صفحہ 505
آنلائن لنک



اس پوسٹ کا شیعوں کی طرف سے رد لکھا گیا تھا۔ الحمدللہ اس رد کی اصل حقیقت بمعہ اسکینز کے ساتھ اہلسنت پر لگائے گئے اعتراضات کا جواب پڑھیں۔
توہین حضرت آدم علیہ السلام (شیعہ کی صحیح روایت) اور اہلسنت پر اعتراض کا تحقیقی رد