امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کی سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو وصیت
علی محمد الصلابیامیر المؤمنین نے سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو بلا کر کہا: میں تم دونوں کو وصیت کرتا ہوں کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو، دنیا اگرچہ تمھیں چاہے تم دنیا کو نہ چاہو، کسی چیز کی محرومی پر مت رونا، حق بات کہو، یتیموں پر رحم کرو، پریشان حال کی مدد کرو، آخرت کی تیاری کرو، ظالم سے لڑنے والے مظلوم کی مدد کرنے والے بنو، کتاب اللہ کی پیروی کرو، اللہ کی راہ میں کسی کی ملامت کی پروا مت کرو، پھر محمد بن حنفیہ کو دیکھ کر پوچھا: تمھارے دونوں بھائیوں کو جو میں نے وصیت کی ہے کیا تو نے اسے محفوظ کرلیا ہے؟
(تاریخ الطبری: جلد 6 صفحہ 63)
انھوں نے کہا: ہاں، تو سیدنا علیؓ نے فرمایا: وہی وصیت تمھیں بھی کرتا ہوں، اور تمھیں اس کی بھی وصیت کرتا ہوں کہ اپنے بھائیوں کااحترام کرنا اس لیے کہ ان کا تم پر بڑا حق ہے، ان دونوں کی بات ماننا، ان کے بغیر کسی معاملے میں قطعی فیصلہ نہ کرنا، پھر فرمایا: میں تم دونوں کو ان کے بارے میں وصیت کرتا ہوں، وہ تمھارے علاتی بھائی ہیں، تمھیں معلوم ہے کہ تمھارے والد ان سے محبت کرتے ہیں۔
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے کہا: اے میرے لاڈلے میں تمھیں وصیت کرتا ہوں کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو، وقت پر نماز ادا کرو، فرض ہونے پر زکوٰۃ ادا کرو، اچھی طرح وضو کرو اس لیے کہ بغیر وضو نماز نہیں ہوتی اور مانع زکوٰۃ کی نماز قبول نہیں ہوتی، تمھیں وصیت کرتا ہوں کہ غلطیوں کو معاف کردو، غصہ کو پی جاؤ، صلہ رحمی کرو، جہالت پر بردباری سے کام لو، دین میں تفقہ حاصل کرو، معاملے کی چھان بین کیا کرو، قرآن کی حفاظت کرو، پڑوسی سے اچھا سلوک کرو، بھلی بات کا حکم دو، بری بات سے روکو، فحش کاموں سے بچو۔
(تاریخ الطبری: جلد 6 صفحہ 63)
سیدنا علیؓ نے وفات کے وقت درج ذیل وصیت کی:
بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم
’’یہ علی بن ابی طالب کی وصیت ہے، انھوں نے اس بات کی وصیت کی کہ وہ شہادت دیتے ہیں کہ معبود برحق صرف اللہ کی ذات ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں، انھیں ہدایت اور دینِ حق دے کر بھیجا تاکہ مشرکوں کے نہ چاہتے ہوئے بھی اسے تمام دنیوں پر غالب کرے، میری نماز، میری ساری عبادت، میرا جینا، میرا مرنا صرف اللہ رب العالمین کے لیے ہے، جس کا کوئی شریک نہیں، مجھ کو اسی کا حکم ہوا ہے، میں مسلمانوں میں سے ہوں۔
پھر اے حسن میں تمھیں اور اپنے تمام اہل و عیال کو وصیت کرتا ہوں کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو، تمھیں موت آئے تو بحالتِ اسلام آئے، اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو، اختلاف نہ کرو، میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے:
إِنَّ صَلَاحَ ذَاتِ الْبَیْنِ أَفْضَلُ مِنْ عَامَّۃِ الصَّلَاۃِ وَالصِّیَامِ۔
’’افضل باہمی تعلقات کو ٹھیک رکھنا عام نماز اور روزے سے افضل ہے۔‘‘
صلہ رحمی کرو، اللہ تعالیٰ تمھارا محاسبہ آسان کرے گا، یتیموں کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو، ان کا منہ بند مت کرو، تمھاری موجودگی میں وہ ضائع نہ ہونے پائیں، اپنے پڑوسیوں کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو، ان کے بارے میں تمھارے نبی وصیت کرتے رہے تاآنکہ ہم سوچنے لگے کہ عنقریب آپ انھیں وارث بنا دیں گے، قرآن کریم کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو، اس پر عمل کرنے میں کوئی دوسرا تم پر سبقت نہ لے جائے، نماز کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو، بلاشبہ وہ دین کا ستون ہے، خانہ کعبہ کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو، اپنی زندگی بھر اسے مت چھوڑنا، اگر اسے چھوڑ دیا گیا تو اس کی دیکھ ریکھ نہ ہوگی، جہاد فی سبیل اللہ کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو، زکوٰۃ کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو، بلاشبہ زکوٰۃ اللہ کے غصہ کو ختم کردیتی ہے، اپنے نبی کے ذمیوں کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو، تمھارے درمیان ان پر ظلم نہ ہونے پائے، صحابہ کرامؓ کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو، اللہ تعالیٰ نے خود ان کا خیال رکھنے کا حکم دیا ہے، فقراء و مساکین کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو، اپنے کھانے پینے میں انھیں شریک کرو، اپنے غلام و لونڈیوں کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو، نماز کی حفاظت کرنا، نماز کی حفاظت کرنا، اللہ کی راہ میں کسی ملامت گر کی ملامت سے مت ڈرنا، جو تم پر حملہ کرے گا اور تمھارے خلاف بغاوت کرے گا اللہ تعالیٰ تمھیں ان سے بچائے گا، فرمانِ الہٰی کے مطابق اچھی بات کہو، امر بالمعروف و نہی عن المنکر کو ترک مت کرنا کہ برے لوگ ذمہ دار بنا دیے جائیں، پھر تمھاری دعائیں قبول نہ ہوں، باہمی تعلقات باقی رکھنا، ایک دوسرے پر خرچ کرنا، اختلاف، قطعِ تعلقات اور دوسروں کے پیچھے پڑنے سے بچنا، بھلائی و تقویٰ میں ایک دوسرے کی مدد کرنا، برائی و ظلم پر مدد نہ کرنا، اللہ سے ڈرتے رہنا، بلاشبہ اللہ تعالیٰ سخت عذاب والا ہے، اللہ تمھاری حفاظت کرے، میں تمھیں اللہ کے حوالے کر رہا ہوں، اور السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ کہہ رہا ہوں۔‘‘
پھر کلمہ لا إلہ إلا اللّٰہ کے علاوہ کچھ زبان سے نہ کہہ سکے تاآنکہ آپ کی روح پرواز کرگئی۔
(تاریخ الطبری: جلد 6 صفحہ 64)
ایک دوسری روایت میں ہے:
’’اے میرے لاڈلے! میں تمھیں وصیت کرتا ہوں کہ غائب و حاضر میں اللہ سے ڈرتے رہو، خوشی اور ناراضی دونوں صورتوں میں حق بات کہو، مالداری اور محتاجی میں میانہ روی اختیار کرو، دوست دشمن کے ساتھ انصاف سے کام لو، نشاط و سستی میں کام کرتے رہو، تنگی اور کشادگی ہر حال میں اللہ سے راضی رہو۔
اے میرے لاڈلے جس پریشانی کے بعد جنت ہو وہ پریشانی نہیں، جس آسانی کے بعد جہنم ہو وہ آسانی نہیں، جنت کو چھوڑ کر ہر نعمت کمتر ہے، اور جہنم کو چھوڑ کر ہر پریشانی عافیت جیسی ہے۔
اے میرے لاڈلے جس نے اپنے ذاتی عیوب کو دیکھا اسے دوسروں کے عیوب کو دیکھنے کی فرصت نہیں ملی، جو اللہ کی تقسیم پر راضی رہا اسے کسی چیز کے فوت ہوجانے پر افسوس نہیں ہوا، جو بغاوت کی تلوار بے نیام کرتا ہے اسی سے وہ قتل کردیا جاتا ہے، جو اپنے بھائی کے لیے کنواں کھودتا ہے خود اس میں گرجاتا ہے، جو اپنے بھائی کو ننگا کرتا ہے وہ خود لوگوں کے سامنے ننگا ہو جاتا ہے،جو اپنی غلطی کو بھلا دیتا ہے دوسرے کی غلطی کو عظیم سمجھتا ہے، جو خودپسندی میں مبتلا ہوجاتا ہے گمراہ ہو جاتا ہے، جو صرف اپنی عقل سے کام لیتا ہے لغزش کھا جاتا ہے، جو تکبر کرنے لگتا ہے رسوا ہو جاتا ہے، جو نااہل لوگوں کے ساتھ رہنے لگتا ہے ذلیل ہو جاتا ہے، جو برائی کی جگہوں میں جاتا ہے متہم ہو جاتا ہے، جو علماء کی ہم نشینی اختیار کرتا ہے اس کی عزت کی جاتی ہے، جو بکثرت ہنسی مذاق کرتا ہے لوگوں کی نگاہوں میں وہ بے وزن ہو جاتا ہے، جو کسی چیز کو بکثرت انجام دیتا ہے اسی سے مشہور ہو جاتا ہے، جس کی باتیں زیادہ ہوں گی اس کی غلطیاں زیادہ ہوں گی، جس کی غلطیاں زیادہ ہوں گی اس کی حیا کم ہو جائے گی، جس کی حیا کم ہو جائے گی اس کا خوفِ الہٰی کم ہو جائے گا، جس کا خوف الہٰی کم ہو جائے گا اس کا دل مردہ ہو جائے گا، جس کا دل مردہ ہو جائے گا جہنم میں داخل ہوگا۔
اے میرے لاڈلے! حُسنِ ادب بہترین ورثہ ہے، حسنِ اخلاق بہترین ساتھی ہے، اے میرے لاڈلے! عافیت کے دس حصے ہیں، نو حصے ذکر الہٰی کو چھوڑ کر بقیہ باتوں کی خاموشی میں ہے، ایک حصہ بے وقوفوں سے کنارہ کشی میں ہے، اے میرے لاڈلے! غریبی کی زینت صبر ہے، مالداری کی زینت شکر ہے۔
اے میرے لاڈلے! اسلام سے بڑھ کر کوئی فضیلت نہیں، تقویٰ سے بڑھ کر کوئی عزت نہیں، خوفِ الہٰی سے بڑھ کر کوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں، توبہ سے بڑھ کر کوئی کامیاب سفارشی نہیں، عافیت سے بڑھ کر کوئی خوبصورت لباس نہیں، لالچ پریشانی کی کنجی ہے، عمل سے پہلے تدبیر آپ کو ندامت سے بچائے گی، لوگوں پر ظلم آخرت کا نہایت برا زادِ سفر ہے، خوش خبری ان کے لیے ہے جن کا علم وعمل، محبت و دشمنی، کسی چیز کو اختیار کرنا و چھوڑنا اور گفتگو و خاموشی اور قول و عمل سب خالصتاً اللہ کے لیے ہو۔‘‘
(الشہب اللامعۃ فی السیاسۃ النافعۃ لابن رضوان: صفحہ 632، 633)