Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کا اپنے قاتل کا مثلہ کرنے سے روکنا

  علی محمد الصلابی

امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا:

’’اس حملہ آور شخص کو جیل میں ڈال دو، اگر میں مرگیا تو اسے قتل کر دینا اور اگر زندہ رہا تو زخموں کے بدلے متعین ہیں۔‘‘

(فضائل الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 560، اس کی سند حسن ہے۔)

دوسری روایت میں ہے کہ سیدنا علیؓ نے فرمایا:

’’اسے کھلاؤ پلاؤ، اچھی طرح قید میں رکھو، اگر میں ٹھیک ہوگیا تو میں اپنا ولی دم ہوں، چاہوں گا تو معاف کردوں گا اور اگر چاہوں گا تو بدلہ لوں گا۔‘‘

(المحن لابن أبي العرب: صفحہ 94، خلافۃ علی: صفحہ 439، عبدالحمید علی)

ایک دوسری روایت میں سیدنا علیؓ کے اس قول کی زیادتی ہے:

’’اگر میں مر گیا تو میرے قتل کی طرح اسے قتل کر دینا، زیادتی نہ کرنا، اللہ تعالیٰ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘

(الطبقات: جلد 3 صفحہ 35)

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو مثلہ کرنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا:

’’اے بنوعبدالمطلب میں تمھیں مسلمانوں کے خون سے کھلواڑ کرتے اور یہ کہتے نہ پاؤں کہ امیر المؤمنین قتل کردیے گئے، امیر المؤمنین قتل کردیے گئے، خبردار (قاتل کے علاوہ) کوئی قتل نہ کیا جائے،

اے حسن خیال رکھنا جس نے تلوار سے یہ حملہ کیا ہے اس کے بدلے میں اسے تلوار سے مارنا اور اس کا مثلہ مت کرنا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا ہے:

إِیَّاکُمْ وَالْمُثْلَۃَ وَ لَوْ أَنَّہَا بِالْکَلْبِ الْعَقُوْرِ۔

(تاریخ الطبری: جلد6 صفحہ 64)

’’تم مثلہ کرنے سے بچو چاہے کاٹ کھانے والا کتا ہی کیوں نہ ہو۔‘‘

قاتل کے معاملے میں امیر المؤمنین کی وصیت سے متعلق صحیح و ضعیف مختلف روایتیں آئی ہیں، چنانچہ وہ روایت جس میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کمبخت کو قتل کرنے کے بعد جلادینے کا حکم دیا ہے اس کی سند ضعیف ہے، بقیہ دوسری روایتوں میں صرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا یہ حکم ہے کہ اگر وہ وفات پا جاتے ہیں تو اسے قتل کردیا جائے، اس کے علاوہ دوسری باتوں سے سیدنا علیؓ نے روکا ہے، یہ روایتیں ایک دوسری کی مؤید ہیں اور لائقِ استدلال ہیں۔ امیر المؤمنین نے اسے مرتد قرار دے کر اس کے قتل کا حکم نہیں دیا بلکہ اس بنا پر جب بعض مسلمانوں نے اسے قتل کرنا چاہا تو آپ نے انھیں روکا اور کہا: اس شخص کو قتل نہ کرو، اگر میں ٹھیک ہوگیا تو زخموں کے بدلے متعین ہیں، اور اگر وفات پاگیا تو اسے قتل کر دینا۔

(منہاج السنۃ: جلد 5 صفحہ 245)

مشہور تاریخی روایت میں ہے کہ جب ئ علی رضی اللہ عنہ وفات پاگئے، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ابن ملجم کو بلا بھیجا، تو اس نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ ایک بات پسند کریں گے؟ اللہ کی قسم میں نے اللہ سے جو بھی عہد کیا پورا کیا ہے، میں نے حطیم کعبہ کے پاس اللہ سے عہد کیا تھا کہ میں علی اور معاویہ کو قتل کروں گا یا اسی راہ میں مر جاؤں گا، اس لیے اگر آپ چاہیں تو مجھے اور ان کو چھوڑ دیں، میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ اگر میں انھیں قتل نہ کرسکا یا قتل کرکے بچ گیا تو دونوں صورتوں میں آپ کے پاس آکر اپنے آپ کو آپ کے حوالے کردوں گا، اس سے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! ایسا آگ دیکھ کر کہہ رہے ہو، ایسا نہیں ہوگا، پھر اس کو سامنے کیا اور قتل کردیا،

(تاریخ الطبری: جلد 6 صفحہ 64)

پھر لوگ اسے لے گئے اور آگ سے جلا دیا، لیکن یہ روایت منقطع ہے۔

(خلافۃ علي بن أبي طالب: صفحہ 440 عبدالحمید علی)

صحیح روایت کے مطابق جو حسن، حسین اور ابنائے آل بیت رضی اللہ عنہم کے شایان شان ہے وہ یہ ہے کہ عبدالرحمٰن بن ملجم سے متعلق امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کی وصیت پر عمل کیا۔ اس سے شرعی قصاص کے نفاد اور مثلہ سے منع کرنے کے بارے میں اسلامی اخلاق کی عظمت کا پتہ چلتا ہے۔

یہ روایت صحیح نہیں ہے کہ جب سیدنا علیؓ کی تدفین ہوگئی تو ابن ملجم کو لائے، لوگ اکٹھے ہوئے، پٹرول اور چٹائیاں لے کر آئے، محمد بن حنفیہ، حسین اور عبداللہ بن جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہم نے کہا: ہمیں اس سے اپنا دل ٹھنڈا کرنے دیں، چنانچہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس کے ہاتھ پاؤں کو کاٹ دیے، اس پر اس نے نہ تو گریہ وزاری کی اور نہ ہی کچھ کہا، پھر اس کی آنکھوں میں گرم سلائی پھیر دی اس پر بھی گریہ و زاری نہ کی اور کہنے لگا تم اپنے چچا کی آنکھوں میں گرم سلائی پھیر رہے ہو نیز سورۂ علق کی تلاوت شروع کردی، اور اسے ختم کردیا جب کہ اس کی دونوں آنکھیں بہ رہی تھیں، پھر حکم دیا کہ اس کی زبان کاٹ دی جائے تو گریہ وزاری کرنے لگا، اس سلسلے میں اس سے پوچھا گیا تو کہا: یہ گریہ وزاری نہیں ہے، لیکن میں ناپسند کرتا ہوں کہ میں دنیا میں ہوش و حواس میں رہ کر اللہ کو یاد نہ کرسکوں، چنانچہ اس کی زبان کو کاٹ دیا پھر اسے جلا دیا، اس کا رنگ گندمی، چہرہ خوبصورت، دانتوں کے مابین کشادگی، بال کانوں کی لو تک اور پیشانی پر سجدوں کی نشانی تھی۔ 

(طبقات ابن سعد: جلد 3 صفحہ 39، الأخبار الطوال: صفحہ 215)

ابن ملجم شیعوں کے نزدیک آخرت میں سب سے بدبخت انسان ہوگا، ہم اہل سنت کو اس کے جہنمی ہونے کی امید ہے نہ کہ جیسا خوارج کہتے ہیں، اس کا حکم عثمان، زبیر، طلحہ، سعید بن جبیر، عمار، خارجہ اور حسین رضی اللہ عنہم کے قاتلوں جیسا ہے، ان تمام سے ہم برأت کا اظہار کرتے ہیں، اللہ کے واسطے ان سے بغض رکھتے ہیں، ان کے معاملوں کو اللہ کے حوالے کرتے ہیں۔

( تاریخ الإسلام: عہد الخلفاء الراشدین: صفحہ 654)