Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے قتل کی خبر کا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر اثر

  علی محمد الصلابی

جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے قتل کی خبر پہنچی تو رونے لگے، اس پر ان کی اہلیہ نے ان سے کہا: آپ ان پر رو رہے ہیں جب کہ آپ نے ان سے جنگ کی ہے؟ جواباً سیدنا امیر معاویہؓ نے کہا: تم پر افسوس ہے، تمھیں نہیں معلوم کہ لوگوں نے کس صاحبِ فضل و فقہ اور علم کو کھو دیا ہے۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 8 صفحہ 133)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نوآمدہ مسائل سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو لکھ کر پوچھتے تھے، جب سیدنا امیر معاویہؓ کو ان کے قتل کی خبر پہنچی تو کہا: علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے وفات پاجانے سے علم و فقہ کا ایک اچھا خاصا حصہ جاتا رہا، اس پر ان کے بھائی عتبہ نے کہا: آپ کی یہ بات اہل شام نہ سن لیں، تو سیدنا معاویہؓ نے فرمایا: چپ رہو۔

(الاستیعاب: جلد 3 صفحہ 1108)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد خلافت میں ضرار صدائی سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے اوصاف بیان کرنے کا مطالبہ کیا، انھوں نے کہا: مجھے معاف رکھیں، سیدنا معاویہؓ نے فرمایا: تم ضرور اوصاف بیان کرو، تو کہا کہ جب بیان کرنا ضروری ٹھہرا تو:

’’اللہ کی قسم آپ دور بیں، مضبوط اعصاب والے تھے، حکیمانہ گفتگو کرتے، عادلانہ فیصلہ کرتے، آپ سے علم و حکمت کے چشمے پھوٹتے، دنیا اور اس کی چمک دمک سے وحشت محسوس کرتے، رات اور اس کی تاریکی سے آپ کو انسیت تھی، کافی آنسو بہانے والے اور دیر تک سوچنے والے تھے، آپ کو کوتاہ لباس اور معمولی کھانا پسند تھا، آپ ہم میں ہماری طرح رہتے، ہمارے سوالوں کا جواب دیتے، ہمارے پوچھنے پر ہمیں بتلاتے، اور ہم اللہ کی قسم ہمارے مابین قربت کے باوجود سیدنا علیؓ کی ہیبت کے باعث آپ سے بات نہیں کرپاتے، دین پسندوں کا آپ احترام کرتے، مسکینوں کو اپنے قریب کرتے، قوی شخص کو غلط کام نہ کرنے دیتے، ضعیف سیدنا علیؓ کے عدل و انصاف سے مایوس نہ ہوتا، میں اس بات کی شہادت دیتا ہوں کہ ایک مرتبہ رات کی تاریکی میں میں نے سیدنا علیؓ کو دیکھا کہ آپ اپنی داڑھی پکڑے سانپ ڈسے ہوئے شخص کی طرح تڑپ رہے ہیں، غمزدہ شخص کی طرح رو رہے ہیں، اور کہہ رہے ہیں: اے دنیا! تو میرے علاوہ کسی دوسرے کو دھوکہ دے، تو میری جانب بڑھنے والی یا میری مشتاق ہو تو دور ہوجا، میں نے تجھے تین طلاق دے دی ہے، جس میں رجعت نہیں ہے، تیری عمر چھوٹی ہے، تیری اہمیت کم ہے، مجھے زادِ سفر کی کمی، سفر کی دوری اور راستہ کے پُر خطر ہونے پر افسوس ہے۔‘‘

اس پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ رو پڑے اور کہا: اللہ تعالیٰ ابوالحسن پر رحم کرے، سیدنا علیؓ ایسے ہی تھے، اے ضرار ان کی وفات پر تمھیں کتنا غم ہے؟ کہا: اس عورت کے غم جیسا جس کا بچہ اس کی گود میں ذبح کردیا گیا ہو۔‘‘

(الاستیعاب: جلد 3 صفحہ 1108)

عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے مروی ہے کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا، سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما آپﷺ کے پاس بیٹھے تھے، میں سلام کرکے بیٹھ گیا، میں بیٹھا ہی تھا کہ علی و معاویہ رضی اللہ عنہما کو لایا گیا، انھیں ایک گھر میں داخل کیا گیا اور دروازہ بند کردیا گیا، میں دیکھ رہا تھا، بہت جلد ہی سیدنا علی رضی اللہ عنہ یہ کہتے ہوئے نکلے:ربِ کعبہ کی قسم! فیصلہ میرے حق میں ہوا، پھر جلد ہی ئمعاویہ رضی اللہ عنہ یہ کہتے ہوئے نکلے: ربِ کعبہ کی قسم مجھے بخش دیا گیا۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 133)

ابن عساکرؒ نے ابوزرعہ سے روایت کیا ہے کہ ان سے ایک شخص نے کہا: میں معاویہ سے بغض رکھتا ہوں، تو انھوں نے اس سے پوچھا کیوں؟ اس نے کہا: اس لیے کہ انھوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے جنگ کی ہے تو اس پر ابوزرعہ نے کہا: تم پر افسوس ہے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے رب رحیم ہیں، اور معاویہ رضی اللہ عنہ کے فریقِ مخالف کریم ہیں، پھر ان کے مابین تمھارا کیا دخل ہے۔

  (البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 133)