دلائل شیعہ (خمّ غدیر)
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہشیعہ کے دلائل کا زیادہ مدار حدیث خمِ غد پر ہے اور اس کو وہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کی خلافت بلافصل پر زبردست دلیل سمجھتے ہیں تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ جب حضورﷺ نے حجۃ الوداع سے مراجعت فرمائی اور آنجناب نے مقامِ خمِ غدیر میں قیام فرمایا جو مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان واقع ہے تو بعض اشخاص نے جو بما تحتی جناب امیرؓ ملک یمن پر مامور تھے جناب امیرؓ کی آنحضرتﷺ کے پاس کچھ بیجا شکایات کیں۔ حضورﷺ نے اس خیال سے کہ اگر ماتحت لوگ اپنے افسر سے اس طرح کی بدگمانیاں کریں گے تو انتظام میں خلل واقع ہونے کا اندیشہ ہے۔ اس لیے حضورﷺ نے یہ مصلحت سمجھی کہ عام لوگوں کو جمع کر کے خطبہ فرمایا جس سے اصلی غرض جناب امیرؓ کی بریت اور شاکیوں کو تنبیہ تھی اور اس خطبہ میں یہ الفاظ فرمائے:
يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِين اَلَسْتُ أَوْلَى بِكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ قَالُوا بْلَى قَالَ مَنْ كُنْتُ مَوْلاهُ فَعَلِی مَوْلاهُ اللَّهَم وَالِ مَنْ والاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ۔
ترجمہ: اے جماعتِ مسلمانان کیا میں تمہارے نزدیک تمہاری جانوں سے بہتر نہیں ہوں۔ حاضرین نے کہا ہاں۔ حضورﷺ پھر فرمایا: جو شخص مجھ کو دوست رکھے حضرت علیؓ کو دوست رکھتا ہے بار خدایا۔ جو شخص علیؓ کو دوست رکھے تو بھی اس کو دوست رکھیوں اور جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دشمن رکھے تو اس کو دشمن رکھیو۔
شیعہ کہتے ہیں کہ یہ خلافت بلافصل حضرت علی رضی اللہ عنہ کا اعلان تھا جو رسول اللہﷺ نے خدا کے حکم سے کیا۔ چنانچہ بارہا جبرائیل علیہ السلام نے آنحضرتﷺ کو خدا کا پیغام سنایا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ولایت کا اعلان کیا جائے لیکن آپﷺ ڈرتے تھے کہ لوگ کہیں گے اپنے داماد کے لیے ایسا کرتا ہے آخر جبرائیلؑ نے یہ آیت سنائی: يٰۤـاَيُّهَا الرَّسُوۡلُ بَلِّغۡ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ وَاِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلۡ فَمَا بَلَّغۡتَ رِسٰلَـتَهٗ وَاللّٰهُ يَعۡصِمُكَ مِنَ النَّاسِ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِى الۡقَوۡمَ الۡـكٰفِرِيۡنَ ۞
(سورۃ المائدہ: آیت 67)
ترجمہ: اے رسولﷺ جو حکم تیرے رب نے مجھے دیا ہے اس کی تبلیغ کر دیجیے اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو حق رسالت کا ادا نہ کیا اور خدا لوگوں کے شر سے تجھے بچانے والا ہے خدا کافروں کی رہبری نہیں کرتا۔
سو آیت اور حدیث میں کوئی لفظ ایسا نہیں ہے کہ جو ولایتِ علی رضی اللہ عنہ یا خلافتِ بلافصل پر صراحت یا کنایت سے دلالت کرے۔ حدیث کا صرف اس قدر مفہوم ہے کہ حضرت علیؓ کی شکایات بے بنیاد ہیں اور ان کے ماتحتوں کو شکایت کرتے وقت یہ خیال کرنا چاہیے کہ وہ رسول اللہﷺ کے دوست کی شکایت کرتے ہیں حالانکہ ان کو ان سے محبت و پیار کرنا چاہیے اور حضرت علیؓ کی عداوت باعث نارضا مندی حق تعالیٰ ہے۔
اس آیت کے معنیٰ یہ ہیں کہ نبی کریمﷺ کو جو احکام حق تعالیٰ نے بابتِ توحید، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ وغیرہ بھیجے ہیں ان کی بخوبی تبلیغ کر دینی چاہیے۔ ایسا نہ کریں گے تو حقِ رسالت ادا نہیں ہو گا اور لوگوں کی شر و ایذاء کا کچھ فکر نہ رکھیں۔ اللہ تعالیٰ ان کا حافظ و ناصر ہے۔ شیعہ دھینگا مشتی سے آیت و حدیث میں ولایت و خلافت کو گھسیڑنا چاہتے ہیں۔ اگر اللہ کو منظور ہوتا کہ اس کا رسول ﷺصاف الفاظ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت بلافصل کا اعلان کر دیتے۔ اور ایسے فعل مول الفاظ اور چیستان کی کیا ضرورت تھی؟ صاف طور پر حکم ہوتا يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغُ بِوَلايَةِ علی۔
ترجمہ: اے رسول علی کی ولایت کی تبلیغ (اعلان) کر دیجیے
پھر حضرت محمدﷺ جیسا افصح الفصحاء ایسا گورکھ دھندا گول مول کلام کیوں بولتا بلکہ صاف طور پر فرما دیتے: يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ أَنَا رَسُولُ الله وَعَلِی خَلِيفَتِی بَعْدَ وَفَاتِی۔
جب خدا نے وَاللّٰهُ يَعۡصِمُكَ مِنَ النَّاسِ الخ۔
(سورۃ المائدہ: آیت 67)
فرما کر وعدہ حفاظت بھی فرمایا تھا تو پھر کس انسان کا خوف ہو سکتا تھا؟ بے کھٹکے صاف الفاظ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت بلافصل کا اعلان کر دیتے۔ لیکن شیعہ ایمان سے کہیں کہ اس حدیث اور آیت میں کون سا لفظ ایسا ہے جس سے علیؓ کی خلافت و ولایت کا استدلال کیا جا سکتا ہے؟