Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی بیعت

  علی محمد الصلابی

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی بیعت عبدالرحمٰن بن ملجم خارجی کے ہاتھوں امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد رمضان 40ھ میں انجام پائی۔ 

(الطبقات: جلد 3 صفحہ 35،38، تحقیق دیکھیے۔ احسان عباس)

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو ان کے والد کے بعد لوگوں نے منتخب کیا۔ خود امیر المؤمنین نے اپنے بعد کسی کو متعین نہیں کیا تھا۔

عبداللہ بن سبع سے مروی ہے کہتے ہیں: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا ہے: ’’یہ (داڑھی) اس (سر کے خون) سے رنگی جائے گی، تو بدبخت میرے بارے میں کس چیز کا انتظار کر رہا ہے، لوگوں نے کہا: اے امیر المؤمنین! ہمیں اس کے بارے میں بتائیے ہم اس کے اقرباء کا خاتمہ کردیں، سیدنا علیؓ نے فرمایا: تب تو اللہ کی قسم! تم لوگ میرے بدلے میں میرے قاتل کے علاوہ کو قتل کردو گے۔ لوگوں نے کہا: سیدنا علیؓ اپنا خلیفہ مقرر کردیں، سیدنا علیؓ نے فرمایا: نہیں، میں تمھیں ویسے چھوڑ کر جاؤں گا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چھوڑ کر گئے تھے، لوگوں نے کہا: ملاقات ہونے پر آپ اپنے رب سے کیا کہیں گے؟ سیدنا علیؓ نے فرمایا: میں کہوں گا: اَللّٰہُمَّ تَرَکْتَنِیْ فِیْہِمْ مَا بَدَا لَکَ ثُمَّ قَبَضْتَنِیْ إِلَیْکَ وَ أَنْتَ فِیْہِمْ فَإِنْ شِئْتَ اَصْلَحْتَہُمْ وَإِنْ شِئْتَ اَفْسَدْتَّہُمْ۔

 اے اللہ! جب تک تو نے چاہا مجھے ان کے درمیان چھوڑے رکھا، پھر تو نے مجھے اٹھا لیا جب کہ تو ان کے ساتھ ہے، اگر چاہے تو ان کی اصلاح کردے، اور اگر چاہے تو ان کو بگاڑ دے۔‘‘ 

(مسند أحمد: جلد 2 صفحہ 325، حدیث حسن لغیرہ ہے۔)

دوسری روایت میں ہے: میں کہوں گا: اے اللہ! جب تک تو نے چاہا مجھے ان کا خلیفہ باقی رکھا، پھر تو نے مجھے اٹھا لیا، میں انھیں تیرے حوالے کرکے آگیا۔

(کشف الأستار عن زوائد البزار: جلد 3 صفحہ 204)

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ان کی صلوۃِ جنازہ پڑھائی، کوفہ میں سیدنا علیؓ کی تدفین ہوئی، سب سے پہلے سیدنا حسنؓ سے قیس بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیعت کی، سیدنا حسنؓ سے کہا: اپنا ہاتھ پھیلائیے، میں آپ سے کتاب اللہ و سنت رسول، اور شریعت کی حرام کردہ چیزوں کو حلال سمجھنے والوں سے قتال پر بیعت کرتا ہوں، ان سے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کہا: بیعت صرف کتاب اللہ و سنت رسول پر ہونی چاہیے، ہر شرط اس میں موجود ہے، چنانچہ انھوں نے بیعت کرلی، خاموش رہے، پھر دوسرے لوگوں نے بھی بیعت کی۔

(تاریخ الطبری: جلد 6 صفحہ 73)

اہل عراق نے جب بیعت کا ارادہ کیا تو سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے ان سے شرط لگاتے ہوئے کہا: تم لوگوں میں سمع و طاعت کا جذبہ ہے میں جن سے جنگ نہیں کروں گا ان سے تم لوگ بھی جنگ نہیں کرو گے، اور جن سے میں جنگ کروں گا ان سے تم بھی جنگ کروگے۔

(تاریخ الطبری: جلد 6 صفحہ 77)

دوسری روایت کے مطابق سیدنا حسنؓ نے ان سے کہا: اللہ کی قسم! میں تم سے ایک شرط پر بیعت لوں گا، لوگوں نے کہا: وہ کیا ہے؟ سیدنا حسنؓ نے فرمایا: میں جن سے جنگ نہیں کروں گا، ان سے تم لوگ بھی جنگ نہیں کرو گے، اور جن سے میں جنگ کروں گا ان سے تم بھی جنگ کرو گے۔

(الطبقات: تحقیق دیکھیے۔ محمد السلمی: جلد 1 صفحہ 286، 287)۱؍۲۸۶

ابن سعدؒ کی روایت میں ہے: سیدنا حسن بن علی بن ابی طالب نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بعد اہل عراق سے دو بیعتیں لیں، ایک خلافت کی، دوسری بیعت اس بات کی کہ جو کام وہ کریں گے وہی وہ سب کریں گے، اور جس چیز پر وہ راضی ہوں گے اس پر وہ سب راضی ہوں گے۔

(الطبقات: جلد 1 صفحہ 316، 317)

سابقہ روایتوں سے پتہ چلتا ہے کہ خلیفہ بنتے ہی سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے صلح کی راہ ہموار کرنی شروع کردی تھی، اس کی تفصیل آئندہ آرہی ہے۔

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی بیعت کا تجزیہ کرنے سے درج ذیل نتائج و فوائد سامنے آتے ہیں: