اولا خلافت حسن رضی اللہ عنہ کی تنصیص کا قضیہ باطل ہے
علی محمد الصلابیبیعتِ حسن رضی اللہ عنہ پر گفتگو کرتے وقت ایک ایسا قضیہ ہمارے سامنے آتا ہے جسے شیعہ امامیہ بڑے شد و مد سے رواج دیتے ہیں اور وہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی جانب سے خلافتِ حسن رضی اللہ عنہ کی تنصیص کا قضیہ ہے۔
(فرق الشیعۃ للنوبختی: صفحہ 24، مرویات خلافۃ معاویۃ۔)
اس کا شمار امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ پر افتراء پردازیوں میں ہوتا ہے، اس لیے کہ اس بارے میں کوئی منقول چیز ثابت نہیں ہے۔ شیعوں کا عقیدہ ہے کہ امامت نبوت کے مانند ہے، اس کے سلسلے میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی من جانب اللہ تنصیص ضروری ہے، اور نبوت ہی کی طرح وہ من جانب اللہ خاص لطف و کرم ہے اور ہر دور میں منجانب اللہ ایک امام ہونا ضروری ہے، جس کی اطاعت فرض ہو، انسانوں کو امام کے انتخاب و تعیین کا حق نہیں ہے، بلکہ امام کو بھی اپنے بعد کے امام کی تعیین کا حق نہیں ہے، اور انھوں نے اپنے ائمہ کی طرف سے اس بارے میں دسیوں روایتیں وضع کرلی ہے، انھی روایتوں میں سے وہ روایت بھی ہے جسے وہ امام محمد باقرؒ کی جانب منسوب کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا:
’’کیا تمھارا خیال ہے کہ یہ معاملہ (امامت) ہمارے دائرہِ اختیار میں ہے کہ جسے چاہیں امام بنا دیں؟ نہیں، اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے یکے بعد دیگرے لوگ مقرر ہیں تاآنکہ امامت صاحبِ امامت تک پہنچے۔‘‘
(الإمامۃ و النص: فیصل نور: صفحہ 8)
شیعوں کا عقیدہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد ائمہ کی تنصیص کی ہے، انھیں نام کے ساتھ مقرر کردیا ہے، اور وہ بارہ امام ہیں، ان میں نہ کمی ہوگی اور نہ زیادتی، اور وہ درج ذیل لوگ ہیں:
1۔ علی بن ابی طالب المرتضیٰ رضی اللہ عنہ متوفی 40ھ
2۔ حسن بن علی الزکی رضی اللہ عنہما متوفی 50ھ
3۔ حسین بن علی رضی اللہ عنہما متوفی 61ھ
4۔ علی بن حسین زین العابدینؒ متوفی 95ھ
5۔ محمد بن علی الباقرؒ متوفی 114ھ
6۔ جعفر بن محمد الصادقؒ متوفی 148ھ
7۔ موسیٰ بن جعفر الکاظمؒ متوفی 183ھ
8۔ علی بن موسیٰ الرضؒا متوفی 203ھ
9۔ محمد بن علی الجوادؒ متوفی 220ھ
10۔ علی بن محمد الہادیؒ متوفی 254ھ
11۔ حسن بن علی العسکریؒ متوفی 256ھ
12۔ محمد بن حسن المہدیؒ متوفی 260ھ
وصیت کے عقیدہ کی جڑ اور بنیاد عبداللہ بن سبا ہے، لیکن وہ وصیت کا معاملہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تک محدود رکھتا تھا، بعد کے لوگوں نے اسے آپ کی چند اولاد میں عام کر دیا، جب کہ رافضی شیعہ بڑی خاموشی اور رازداری کے ساتھ کام کر رہے تھے، یہ لوگ اس کا سختی سے انکار کرتے تھے، جیسا کہ خود امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ نے کیا، اسی لیے آلِ بیت پر افترا پردازی کرنے والوں نے ’’تقیہ‘‘ کا عقیدہ گھڑ لیا تاکہ آسانی سے اپنے عقائد و نظریات کی نشر و اشاعت کرسکیں، اور ان کے متبعین اہلِ بیت کے سچے اور اعلان کردہ مؤقف سے محفوظ رہیں۔
(اصول الشیعۃ الإمامیۃ: جلد 2 صفحہ 800)
وصیت نہایت خطرناک چیز ہے جسے شیعوں نے گھڑ لیا ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے بعد براہِ راست سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لیے خلافت کی وصیت کی تھی، ان سے پہلے کے خلفاء نے ان کا حق غصب کرلیا، ان کی کتاب ’’الکافی‘‘ میں ہے کہ جو اپنے امام کو پہچانے بغیر مر گیا، وہ جاہلیت کی موت مرا۔
(أصول الکافی: جلد 2 صفحہ 16، 17)
لیکن خلفائے راشدینؓ کی تاریخ کو کھنگالنے کے بعد ہمیں نہ تو خلافتِ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ میں وصیت کا ذکر ملتا ہے، نہ ہی خلافتِ عمر رضی اللہ عنہ میں، خلافتِ عثمان رضی اللہ عنہ کے آخری سالوں میں فتنہ کی ابتداء کے وقت ہمیں اس کے ظہور کی ابتداء ملتی ہے، یہ بات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے کانوں تک پہنچی تو اس کی تردید کی اور اس کے جھوٹ کو واضح کیا، ان میں سب سے مشہور علی بن ابی طالب و ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہما تھے۔
پھر رفتہ رفتہ یہ بات خلافت علی رضی اللہ عنہ میں ایک عقیدہ و نظریہ کی صورت اختیار کر گئی، جس وصیت کا رافضی شیعہ انکار کرتے ہیں، ان کے علماء نے یہ بات ثابت کی ہے کہ اسے عبداللہ بن سبا نے گھڑا ہے جیسا کہ نوبختی اور کشی نے ذکر کیا ہے، میں نے اپنی کتاب ’’أسمی المطالب فی سیرۃ أمیر المؤمنین علی بن أبی طالب‘‘ میں اس کی تفصیلات کو ذکر کیا ہے۔
ان کے اس زعم باطل کی تردید کے لیے صحابہ کرامؓ سے صحیح روایتیں کافی ہیں، تردید کرنے والوں میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ خود بھی ہیں۔ چند روایتیں درج ذیل ہیں:
1۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جب اس بات کا تذکرہ کیا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لیے وصیت کی ہے، تو سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کب ان کے لیے وصیت کی؟ میں آپﷺ کو اپنے سینے سے سہارا دیے ہوئے تھی، آپﷺ نے طشت طلب کیا، آپ میری گود میں جھک گئے، مجھے پتہ بھی نہ چلا کہ آپﷺ کی وفات ہوگئی، تو کب وصیت کردی؟
(صحیح البخاری: کتاب الوصایا: رقم: 1471)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ صراحت کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لیے وصیت نہیں کی ہے، عدم وصیت کی سب سے بڑی دلیل ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدہ عائشہؓ کی گود میں انتقال ہوا اگر آپﷺ نے وصیت کی ہوتی تو سیدہ عائشہ صدیقہؓ سب سے زیادہ جاننے والی ہوتیں۔
(بذل المجہود فی إثبات مشابہۃ الرافضۃ للیہود: جلد 1 صفحہ 190)
2۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے آپﷺ کی اس بیماری میں عیادت کے بعد باہر آئے جس میں آپﷺ کی وفات ہوئی ہے۔ لوگوں(صحابہ) نے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آج کیسے ہیں؟ سیدنا علیؓ نے کہا: بحمد اللہ ٹھیک ہیں، عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے سیدنا علیؓ کا ہاتھ پکڑ کر کہا: اللہ کی قسم تم تین دن کے بعد دوسرے کے تابع ہو کر زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاؤ گے، اللہ کی قسم مجھے تو ایسے آثار نظر آ رہے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مرض سے شفا یاب نہیں ہو سکیں گے، موت کے وقت بنوعبدالمطلب کے چہروں کی مجھے خوب شناخت ہے، اب ہمیں آپﷺ کے پاس چلنا چاہیے، اور آپﷺ سے پوچھنا چاہیے کہ ہمارے بعد خلافت کسے ملے گی؟ اگر ہم اس کے مستحق ہیں تو ہمیں معلوم ہو جائے گا اور اگر کوئی دوسرا مستحق ہوگا تو وہ بھی معلوم ہو جائے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے متعلق اپنے خلیفہ کو ممکن ہے کچھ وصیتیں کردیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم اگر ہم نے اس وقت آپﷺ سے اس کے متعلق کچھ پوچھا اور آپﷺ نے انکار کردیا تو پھر لوگ ہمیں ہمیشہ کے لیے اس سے محروم کردیں گے، میں تو اللہ کی قسم ہرگز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق کچھ نہیں پوچھوں گا۔
(صحیح البخاری: کتاب المغازی: رقم: 4447)
آپ کے مذکورہ قول میں اس بات کی شہادت موجود ہے کہ صحابہ کرامؓ فرامینِ نبویہ کو لازماً نافذ کرتے تھے، اگر آپﷺ کی کوئی وصیت ہوتی تو کوئی اس سے پیچھے نہ ہٹتا، اور سقیفۂ بنو ساعدہ میں انصار پوری آزادی اور دلیری سے ’’منا امیر و منکم امیر‘‘
(صحیح البخاری: کتاب الحدود: رقم: 6830) نہ کہتے، جس کے لیے وصیت ہوتی اس کے لیے بیعت کرلیتے، یا کم از کم ان میں سے بعض اس کا تذکرہ کرتے۔
اور اگر وصیت ہوتی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ عباس رضی اللہ عنہ سے یوں کہتے:
’’ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیسے پوچھیں کہ خلافت کن لوگوں میں ہوگی جب کہ آپﷺ نے میرے لیے خلافت کی وصیت کردی ہے؟‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی دن وفات پاگئے۔
جب اس سلسلے میں کوئی صحیح چیز نہیں ملی تو اس سے یہ بات صاف ہوگئی کہ تنصیص کا دعویٰ بے بنیاد ہے، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی تنصیص کے سلسلے میں جو کچھ بیان کرتے ہیں، وہ سب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اس صریح نص کے مخالف ہونے کے باعث مردود و ناقابل قبول ہے۔ ان کی تمام سمعی دلیلیں یا تو دعویٰ پر دلالت نہیں کرتیں یا دلالت کرتی ہیں لیکن وہ موضوع و من گھڑت ہیں۔
(الإمامۃ والرد علی الرافضۃ: تحقیق علی ناصر الفقیہی: صفحہ 238)
3۔ (ابوطفیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ لوگوں کے لیے کوئی چیز خاص کی ہے؟ سیدنا علیؓ نے جواب دیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے کوئی ایسی چیز خاص نہیں کی ہے جسے اور لوگوں میں عام نہ کیا ہو، سوائے اس کے جو میری اس تلوار کی نیام میں ہے، چنانچہ سیدنا علیؓ نے ایک تحریر نکالی جس میں لکھا تھا:
لَعَنَ اللّٰہُ مَنْ ذَبَحَ لِغَیْرِ اللّٰہِ وَ لَعَنَ مَنْ سَرَقَ مَنَارَ الْأَرْضِ وَ لَعَنَ اللّٰہُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَہٗ وَ لَعَنَ اللّٰہُ مَنْ آوٰی مُحْدِثًا۔
(صحیح مسلم: جلد 3 صفحہ 1567، رقم: 1978)
’’جو غیر اللہ کے لیے ذبح کرے اس پر اللہ کی لعنت ہے، جو زمین کی حد بندی کے نشان کو مٹا دے اس پر لعنت ہے، جو اپنے والد پر لعنت بھیجے اس پر اللہ کی لعنت ہے اور جو کسی بدعتی کو پناہ دے اس پر اللہ کی لعنت ہے۔‘‘
ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’صحیحین وغیرہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی صحیح حدیث رافضی فرقہ کے اس زعم باطل کی کہ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے خلافت کی وصیت کی تھی‘‘ تردید کرتی ہے، اگر معاملہ ان کے زعم کے مطابق ہوتا تو صحابہ اس کا انکار نہ کرتے، وہ سب تو اللہ کے اور اس کے رسول کی حیات میں اور وفات کے بعد بھی مطیع و فرمانبردار تھے، وہ من مانی نہیں کرسکتے تھے کہ آپﷺ کے مقدم کیے ہوئے شخص کے علاوہ کسی اور کو وہ مقدم کریں، اور جس کی تقدیم پر آپﷺ نے تنصیص کی ہو اسے مؤخر کردیں، ایسا نہیں ہوسکتا تھا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں جو ایسا سوچتا ہے، وہ انھیں گناہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دشمنی پر اتفاق کرنے اور آپﷺ کے حکم اور تنصیص کی مخالفت کی جانب منسوب کرتا ہے، جب کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ان کی تعریف نازل فرمائی ہے، جو شخص بھی اس مقام کو پہنچ جاتا ہے، ائمہ اعلام کا اجماع ہے کہ وہ اسلام کا قلادہ اتار پھینکتا ہے اور کافر ہو جاتا ہے۔
(البدایۃ و النہایۃ: جلد 5 صفحہ 221)
امام نوویؒ فرماتے ہیں اس میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی وصیت اور دوسری من گھڑت باتوں کے بارے میں روافض اور امامی شیعہ کا جو باطل عقیدہ ہے اس کی تردید ہے۔
(شرح صحیح مسلم: جلد 13 صفحہ 151)
4۔ عمرو بن سفیان سے مروی ہے کہتے ہیں: جنگ جمل کے دن جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ لوگوں کے سامنے آئے تو فرمایا: لوگو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خلافت کے سلسلے میں ہمیں کوئی حکم نہیں دیا ہے، تاآنکہ اپنی رائے سے ہم نے باہم مشورہ سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا، چنانچہ آپ نے لوگوں کو درست کیا اور خود درست رہے تاآنکہ آخرت کی راہ لی۔
(الاعتقاد: صفحہ 184، دلائل النبوۃ میں بیہقی کہتے ہیں اس کی سند حسن ہے۔)
5۔ امام ابوبکر بیہقیؒ اپنی سند سے شقیق بن سلمہ کی حدیث روایت کرتے ہیں انھوں نے کہا کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: کیا آپ اپنے بعد خلیفہ کی تعیین نہیں کریں گے؟ تو سیدنا علیؓ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خلیفہ کی تعیین نہیں کی کہ میں کروں، لیکن اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کی بھلائی چاہے گا تو انھیں ان کے افضل شخص پر اکٹھا کردے گا، جیسا کہ انھیں ان کے نبی کے بعد ان کے افضل شخص پر اکٹھا کردیا تھا۔
(الاعتقاد: صفحہ 184 اس کی سند جید ہے۔)
یہ واضح دلیل ہے کہ تنصیص کے دعویٰ کو ان رافضیوں نے گھڑلیا تھا جن کے دل علی و اہل بیت سمیت تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بغض و عناد سے بھرے ہوئے تھے، وہ اہل بیتؓ کی محبت کا دعویٰ محض اس لیے کرتے تھے کہ اسلام کی آڑ میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرسکیں۔
(عقیدۃ أہل السنۃ فی الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 620)
ان قطعی نصوص سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ من گھڑت وصیت کی کوئی بنیاد نہیں ہے، اور جس بنیاد پر شیعوں نے اعتماد کیا ہے وہ عبداللہ بن سبا کی گھڑی ہوئی ہے، سب سے پہلے اسی نے وصیت کو جنم دیا، پھر اس کے لیے سندیں اور حدیثیں گھڑی گئیں، پھر بہتان تراشی اور غلط طریقے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب انھیں منسوب کردیا گیا، اس سے ان کا مقصد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مطعون کرنا تھا کہ وہ سب فرمان نبویﷺ کی مخالفت کرتے ہیں اور اس بارے میں ان کا اجماع ہے، پھر اس کے ذریعہ سے ان کے نقل کردہ قرآن و حدیث کو مطعون کرنا تھا۔
(خلافۃ علی بن أبی طالب: صفحہ 65 عبدالحمید)
حلی کی تردید کرتے ہوئے امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کی تنصیص محدثین کی کسی معتمد کتاب میں نہیں ہے، اس کے باطل ہونے پر محدثین کا اجماع ہے۔
ابومحمد بن حزمؒ کہتے ہیں: اس ادعائی تنصیص سے متعلق ہمیں کوئی روایت نہیں ملی ہے سوائے ایک مجہول شخص کی روایت کے جس کی کنیت ابوالحمراء ہے، اللہ کی مخلوق میں وہ کون ہے ہمیں معلوم نہیں۔
(المنہاج: جلد 8 صفحہ 362، الفصل: جلد 4 صفحہ 161)
ایک دوسرے مقام پر کہتے ہیں: ’’یہاں اس بات کا پتہ چل گیا کہ شیعہ جس تنصیص کا دعویٰ کرتے ہیں اسے نہ تو پہلے کسی محدث نے سنا ہے نہ بعد میں، اسی لیے محدثین جس طرح غلط طریقے سے منقول دوسری چیزوں کے جھوٹ کو جانتے ہیں اس منقول چیز کے جھوٹے ہونے کو لازمی طور پر جانتے ہیں۔‘‘
(المنہاج: جلد 7 صفحہ 50)
بعد میں ایسے غلو پسند شیعہ آئے جنھوں نے امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ سے متعلق عبداللہ بن سبا کے نظریہ کو زندہ کیا پھر اسے علی و حسین رضی اللہ عنہما کی نسل کے دوسرے لوگوں پر عام کردیا تاکہ لوگوں کے جذبات کو ابھارا جا سکے، لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی جا سکے، اور اس کی آڑ میں وہ اسلامی حکومت کے خلاف اپنے مقاصد کوحاصل کر سکیں، سب سے پہلے جس نے یہ بات پھیلانی شروع کی کہ امامت اہلِ بیت کے چند مخصوص لوگوں میں منحصر ہے، وہ شیطان الطاق ہے جسے شیعہ ’’مومن الطاق‘‘ کے لقب سے یاد کرتے ہیں۔
(اصول الشیعۃ الإمامیۃ: جلد 2 صفحہ 800)
زید بن علی رحمہ اللہ کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو انھوں اسے بلا بھیجا تاکہ اس افواہ کی حقیقت سے آگاہ ہوں، چنانچہ اس سے زید بن علی نے کہا: مجھے پتہ چلا ہے کہ تمھارا خیال ہے کہ آلِ محمد میں ایسا امام ہوتا رہے گا جس کی اطاعت فرض ہوگی، شیطان الطاق نے کہا: ہاں، اور تمھارے والد علی بن حسین ان میں سے ایک تھے، اس پر انھوں نے کہا: یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ وہ گرم لقمے کو ٹھنڈا کر لیتے تھے پھر مجھے کھلاتے تھے، تم ہی بتاؤ کہ وہ لقمے کی گرمی سے میرے سلسلے میں خائف رہیں گے اور جہنم کی گرمی سے خائف نہ ہوں گے؟ شیطان الطاق کہتا ہے کہ میں نے ان سے کہا: تمھیں بتانا اس لیے ناپسند کیا ہو گا کہ تم کافر ہو جاؤ گے پھر وہ تمھاری شفاعت نہیں کرسکیں گے۔
(رجال الکشی: صفحہ 186)
ان کی ثقہ ترین کتب رجال میں مروی یہ قصہ واضح طور پر یہ بتلاتا ہے کہ امامت کا یہ نظریہ اس طرح مخفی طریقے سے لوگوں کے مابین رائج تھا کہ اہلِ بیت کے امام زید پر بھی مخفی رہا۔
محب الدین خطیب نے واضح کیا ہے کہ شیطان الطاق نے سب سے پہلے اس گمراہ عقیدہ کو گھڑا، امامت و تشریع کو اہل بیت کے مخصوص لوگوں میں محصور کردیا اور ان کے معصوم ہونے کا دعویٰ کیا۔
(مجلۃ الفتح: صفحہ 5، العدد: 862، عام: 1367ھ)
ہشام بن حکم متوفی 179ھ نامی شخص شیطان الطاق کا شریک کار رہا۔
(أصول الشیعۃ الإمامیۃ: جلد 3 صفحہ 803)
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہشام و شیطان الطاق کے کچھ متبعین کی کوششوں سے کچھ متعین لوگوں میں امامت کے محصور کرنے کا عقیدہ کوفہ میں پھیل گیا تھا،
(أصول الشیعۃ الإمامیۃ: جلد 2 صفحہ 805، بحار الأنوار: جلد 1 صفحہ 259)
چند مخصوص لوگوں میں امامت کے محصور کرنے کے عقیدے کی بنیاد دوسری صدی ہجری میں ایک ایسے گروہ نے رکھا جو اہل بیتؓ سے اپنے تعلق کا دعویدار ہے، جیسے شیطان الطاق، ہشام بن حکم وغیرہ۔
(اصول الشیعۃ: جلد 2 صفحہ 806)
ائمہ کی تعداد سے متعلق شیعوں کے نظریات و آراء مختلف ہیں، مختصر التحفۃ الاثنی عشریۃ میں ہے کہ شیعہ امامیہ ائمہ کے محصور ہونے کے قائل ہیں، لیکن ان کی مقدار میں ان کا اختلاف ہے، بعض کے نزدیک پانچ، بعض کے نزدیک سات، بعض کے نزدیک آٹھ، بعض کے نزدیک بارہ، اور بعض کے نزدیک تیرہ ہیں۔
(مختصر التحفۃ الاثنی عشریۃ: صفحہ 193)
عجیب وغریب بات یہ ہے کہ نظریۂ امامت کے قائلین کئی فرقوں میں بٹ گئے، ہر فرقہ اپنے امام کے بارے میں ایسی روایتیں نقل کرتا ہے جو دوسرے فرقے کے بالکل متضاد و متناقض ہیں، پھر انھیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی جانب منسوب کرتے ہیں، شیعوں کی کتابوں میں یہ اختلاف و تناقض منقول ہے، چاہے وہ اسماعیلیہ فرقے کی کتابیں ہوں جیسے تاشی اکبر کی ’’مسائل الإمامۃ‘‘ اور ابو حاتم رازی کی ’’الزینۃ‘‘ یا اثنا عشریہ فرقے کی کتابیں ہوں، جیسے اشعری کی ’’المقالات و الفرق‘‘ اور نوبختی کی ’’فرق الشیعۃ‘‘
ان کے نزدیک امامت کا مسئلہ کوئی ایسا فرعی مسئلہ نہیں ہے جس میں اختلاف معمولی قسم کا ہو، بلکہ وہ دین کی بنیاد و جڑ ہے، جو ان کے امام پر ایمان نہ لائے وہ دین سے خارج ہے، اور اسی بنا پر ان میں سے بعض بعض کو کافر و ملعون قرار دیتے ہیں۔
(اصول الشیعۃ الإمامیۃ: جلد 2 صفحہ 807)
فرقہ اثنا عشریہ کی رائے بعد میں اس بات پر ٹھہر گئی کہ امامت بارہ اماموں میں محصور ہے، جب کہ عہد نبوی و عہد خلفائے راشدین ابوبکر، عمر، عثمان، علی رضی اللہ عنہم میں اور خاندان نبوت بنوہاشم میں کوئی بھی بارہ اماموں کی امامت کا قائل نہ تھا۔
(منہاج السنۃ: جلد 2 صفحہ 11)
بارہ اماموں کے عقیدہ کی ابتداء حسن عسکری کی وفات کے بعد ہوئی۔
(اصول الشیعۃ الإمامیۃ: جلد 2 صفحہ 808)
متعینہ عدد میں اماموں کو محصور کرنے کا عقیدہ سراسر فاسد و باطل ہے، امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد اس سے بری ہے، شیعوں کی معتمد کتاب ’’نہج البلاغۃ‘‘ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہتے ہیں:
’’مجھے چھوڑ دو اور (اس خلافت کے لیے) میرے علاوہ کسی اور کو ڈھونڈ لو، ہمارے سامنے ایک ایسا معاملہ ہے جس کے کئی رخ اور رنگ ہیں، جسے نہ قلوب برداشت کرسکتے ہیں، اور نہ ہی عقلیں اسے مان سکتی ہیں،(دیکھو) افق عالم پر گھٹائیں چھائی ہوئی ہیں، راستہ پہچاننے میں نہیں آتا، تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ اگر میں تمھاری اس خواہش کو مان لوں تو تمھیں اس راستے پر لے چلوں گا جو میرے علم میں ہے، اور اس کے متعلق کسی کہنے والے کی بات اور کسی ملامت کرنے والے کی سرزنش پر کان نہیں دھروں گا۔ اور اگر تم میرا پیچھا چھوڑ دو تو پھر جیسے تم ہو میں بھی ویسا ہی ہوں، اور ہوسکتا ہے کہ جسے تم اپنا امیر بناؤ اس کی میں تم سے زیادہ سنوں اور مانوں، اور میرا (تمھارے دنیوی مفاد کے لیے) امیر ہونے سے وزیر ہونا بہتر ہے۔‘‘
(نہج البلاغۃ: خطبہ: رقم: 92، صفحہ 236)
اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی امامت پر من جانب اللہ تنصیص ہوتی تو کسی بھی حال میں سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے لیے جائز نہ ہوتا کہ لوگوں سے کہیں ’’دَعُوْنِیْ وَ الْتَمِسُوْا غَیْرِیْ‘‘ (مجھے چھوڑ کر دوسرے کو تلاش کرو) اور : ’’اَنَا لَکُمْ وَزِیْرًا خَیْرٌلَّکُمْ مِّنِّیْ اَمِیْرًا‘‘ (تمھارے لیے میرا وزیر ہونا خلیفہ ہونے سے بہتر ہے) ایسا کیسے ہو سکتا ہے، جب کہ لوگ آپ کو چاہتے تھے اور آپ سے بیعت کرنے آرہے تھے۔
(ثم أبصرت الحقیقۃ: صفحہ 158)
’’نہج البلاغۃ‘‘ میں اس سے بھی زیادہ صریح اور واضح قول موجود ہے:
’’جن لوگوں نے ابوبکر و عمر اور عثمان( رضی اللہ عنہم ) کے لیے بیعت کی تھی انھوں نے میرے ہاتھ پر انھی اصولوں کے مطابق بیعت کی ہے جن اصولوں پر وہ ان کی بیعت کر چکے تھے اور اس کی بنا پر جو حاضر ہے اسے نظر ثانی کا حق نہیں، اور جو بروقت موجود نہ ہو اسے رد کرنے کا اختیار نہیں اور شوریٰ کا حق صرف مہاجرین و انصار کو ہے، ان کا اگر کسی پر اتفاق ہو جائے اور اسے خلیفہ سمجھ لیں تو اسی میں اللہ کی رضا و خوشنودی سمجھی جائے گی، اب جو کوئی اس کی شخصیت پر اعتراض یا نیا نظریہ اختیار کرتا ہوا الگ ہو جائے تو اسے وہ سب اسی طرف واپس لائیں گے جدھر سے وہ منحرف ہوا ہے، اور اگر انکار کرے تو اس سے لڑیں گے کیوں کہ وہ مومنوں کے طریقے سے ہٹ کر دوسری راہ پر ہو لیا ہے، اور جدھر وہ پھر گیا ہے، اللہ تعالیٰ بھی اسے ادھر ہی پھیر دے گا۔‘'
(نہج البلاغۃ: صفحہ 526: رقم 6)
امیر المؤمنین نے اس عبارت سے چند قابل توجہ حقائق کی جانب اشارہ کیا ہے:
- سیدنا نے واضح کردیا کہ مجلس شوریٰ میں مہاجرین و انصار صحابہ کرام ہوں گے، وہی اصحابِ حل و عقد ہوں گے۔
- ان کا کسی شخص پر متفق ہونا اللہ کی رضا کا باعث اور من جانب اللہ ان کی موافقت کی علامت ہوگا۔
- ان کے زمانے میں ان کے بغیر، اور ان کے انتخاب کے بغیر امامت و خلافت منعقد نہیں ہوگی۔
- ان کی بات کا انکار اور ان کی حکم عدولی، بدعتی، باغی اور غیر ایمانی راہ اختیار کرنے والا ہی کرسکتا ہے، یہ اہم تصریحات شیعہ اثنا عشریہ پر کس طرح مخفی رہیں۔
(ثم أبصرت الحقیقۃ: صفحہ 161)
تنصیص کا مسئلہ کسی طرح بھی ثابت نہیں ہے، اور چند لوگوں میں امامت کو محصور کرنے کا مسئلہ کتاب و سنت کی روشنی میں مردود ہے، اسی طرح عقل اور حقیقت واقعہ بھی اسے قبول نہیں کرتی، اس لیے کہ متعینہ عدد کے ختم ہوجانے کے بعد کیا امت بغیر امام کے رہے گی؟ اثنا عشریہ کے نزدیک ائمہ کا زمانہ ڈھائی صدی سے کچھ زیادہ ہے، امرِ واقع یہ ہے کہ وہ سب اس وقت سے اب تک بغیر امام کے ہیں، ان کی اس حالت سے یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ ان کے خیال میں امام معصوم کے وجود کے لیے جو ضروری سبب اور مصلحت ہے وہ اسے مفقود پاتے ہیں اور یہ سراسر تناقض و تضاد ہے، اسی لیے شیعہ نے مسئلہ حصرِ ائمہ کے اشکال سے بچنے کے لیے ایک نئے مسئلے کو جنم دیا کہ مجتہد امام کا نائب ہوگا، نیابت کی حدود میں ان کے اقوال مختلف ہیں، عصر حاضر میں اپنے دین کی اس بنیاد کو مکمل طور سے چھوڑنے پر مجبور ہوگئے، اور حاکم وقت کی تعیین انتخاب کے طریقے سے کرنے لگے، حصر عدد کو چھوڑ کر حصرِ نوع کے قائل ہوگئے، چنانچہ ان کے نزدیک ملک کا سربراہ صرف شیعی فقیہ ہوسکتا ہے،
(اصول الشیعۃ: جلد 2 صفحہ 814، الحکومۃ الإسلامیۃ للخمینی: صفحہ 248)
جب کہ وہ بالفعل و بالاتفاق غیرمعصوم ہوتا ہے اور نہ ہی اس کے پاس کوئی نص صریح ہوتی ہے جو اسے امامت کا اہل بناتی ہو۔
انھوں نے اپنے اس طرز عمل سے اس نظریۂ امامت کو منسوخ کردیا جس کی وجہ سے انھوں نے امت کے اتحاد کو پارہ پارہ کردیا تھا، چنانچہ ان کے نزدیک ایک عام آدمی جو اہل بیتؓ میں سے نہ ہو اپنے فقیہ ہونے کے ناتے اس بات کا اہل ہوسکتا ہے کہ وہ حکومت و قیادت کرے۔
احمد کاتب نے شوریٰ سے لے کر ولایت فقیہ تک شیعی سیاسی فکر کے ارتقاء کی تفصیلات بیان کی ہیں۔ امیر المؤمنین حسن بن علی رضی اللہ عنہما اور شوریٰ کے بارے میں اس نے گفتگو کی ہے اور واضح طور پر بیان کیا ہے کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے لوگوں کو اپنی بیعت کی جانب بلانے میں اپنے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا اپنے والد امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کی جانب سے کسی نص پر اعتماد نہیں کیا، نیز بتایا ہے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ شورائی نظام اور خلیفہ کے انتخاب میں امت کے حق کے قائل تھے، آپ کا یہ نظریہ دوبارہ اس وقت کھل کر سامنے آیا جب آپ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں خلافت سے دستبردار ہوگئے، اور ان پر یہ شرط عائد کی کہ مسلمانوں کے مابین شورائی نظام لوٹنا چاہیے۔
اگر خلافت کا تعلق منجانب اللہ تنصیص سے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعیین سے ہوتا تو کسی بھی حال میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے لیے جائز نہ ہوتا کہ کسی کے حق میں خلافت سے دستبردار ہوجاتے، اس کے بعد ان کے لیے یہ بھی جائز نہ ہوتا کہ وہ سیدنا معاویہ کے ہاتھ پر خود بیعت کرتے یا اپنے ساتھیوں کو ان کی بیعت کی دعوت دیتے، ان کے لیے یہ بھی جائز نہ ہوتا کہ وہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے چشم پوشی کرتے، بلکہ اپنے بعد ان کی تعیین کی جانب ضرور اشارہ کرتے، لیکن سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ایسا کچھ نہ کیا، بلکہ آپ کا طرز عمل بتاتا ہے کہ آپ شورائی نظام کے تحت خلیفہ کے انتخاب میں مسلمانوں کے حق کے قائل تھے، اسی طرح سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی زندگی کے آخری لمحات تک ان کی بیعت پر برقرار رہے اور امیر المؤمنین حسن رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد کوفہ کے شیعوں کے اس مطالبہ کو مسترد کر دیا کہ وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت کر دیں، اور صاف واضح کر دیا کہ ان کے اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے مابین ایسا عہد و پیمان ہے جو توڑا نہیں جاسکتا،