اولا خلافت حسن رضی اللہ عنہ کی تنصیص کا قضیہ باطل ہے -…

اولا خلافت حسن رضی اللہ عنہ کی تنصیص کا قضیہ باطل ہے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 5 از 5

اگر خلافت کا تعلق منجانب اللہ تنصیص سے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعیین سے ہوتا تو کسی بھی حال میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے لیے جائز نہ ہوتا کہ کسی کے حق میں خلافت سے دستبردار ہوجاتے، اس کے بعد ان کے لیے یہ بھی جائز نہ ہوتا کہ وہ سیدنا معاویہ کے ہاتھ پر خود بیعت کرتے یا اپنے ساتھیوں کو ان کی بیعت کی دعوت دیتے، ان کے لیے یہ بھی جائز نہ ہوتا کہ وہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے چشم پوشی کرتے، بلکہ اپنے بعد ان کی تعیین کی جانب ضرور اشارہ کرتے، لیکن سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ایسا کچھ نہ کیا، بلکہ آپ کا طرز عمل بتاتا ہے کہ آپ شورائی نظام کے تحت خلیفہ کے انتخاب میں مسلمانوں کے حق کے قائل تھے، اسی طرح سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی زندگی کے آخری لمحات تک ان کی بیعت پر برقرار رہے اور امیر المؤمنین حسن رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد کوفہ کے شیعوں کے اس مطالبہ کو مسترد کر دیا کہ وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت کر دیں، اور صاف واضح کر دیا کہ ان کے اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے مابین ایسا عہد و پیمان ہے جو توڑا نہیں جاسکتا،

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد، جنھوں نے اپنے بعد اپنے بیٹے یزید کو خلافت سونپ دی تھی، آپ نے لوگوں کو اپنی جانب بلایا، یزید کی بیعت کا انکار کیا، عراق جانے پر مصر رہے تاآنکہ 61ھ میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو کربلا میں شہید کردیا گیا۔

(تطور الفکر السیاسی الشیعی من الشوریٰ إلی ولایۃ الفقیہ: صفحہ 17، 18)


صفحہ 5 از 5