شیعہ حضرات مسئلہ خلافتِ بلافصل ثابت کرنے کے متعلق عجیب چکر کھاتے ہیں اور ہر چند جدوجہد کرتے ہیں لیکن ان کی ڈگمگاتی کشتی ساحل مراد تک پہنچ نہیں سکتی
ظفر نے قصہ زلف دراز جاناں کو
کیا بیان تو کیا کیا بیان میں الجھا
اُدھر تو یہ کہتے ہیں کہ حدیثِ خمِ عذیر خلافتِ بلافصل علیؓ پر نص جلی ہے اُدھر قصہ قرطاس کو دلیل ثابت کرنے کی بے سود کوشش کرتے ہیں لیکن کسی طرح بھی اپنے مقصود میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ ہم اس امر کو ثابت کرنے کے لیے کہ حدیث خمِ غدیر خلافتِ بلافصل جناب امیرؓ کی ثابت نہیں ہوتی کتبِ شیعہ سے ہی حسبِ ذیل استدلال کرتے ہیں:
اول: جلاء العیون اردو مطبوعہ مطبع جعفری لکھنؤ کے جلد 1، صفحہ 60 میں ذکر وقت وفاتِ رسول اللہﷺ میں لکھا ہے۔ پس حضرت محمدﷺ نے چشم کھول کر فرمایا: اے عباس اے عم رسول اللہﷺ میری وصیت میرے اہلِ بیتؓ اور میری عورتوں کے حق میں قبول کرو اور میری میراث لو اور میرا دین ادا کرو اور میرے وعدوں کو عمل میں لاؤ اور مجھ کو بری کرو۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہﷺ میں پیر مرد عیالدار ہوں اور آپ ہوائے تند اور ابر بہار سے زیادہ بخشش و سخاوت فرمانے والے میں اور میرا مال آپ کے وعدوں اور بخششوں کو وفا نہیں کر سکتا اس سے مجھ کو معاف رکھیے۔
پس حضرت نے فرمایا: میں میراث اس کو دوں گا جو قبول کرے اور اس طرح قبول کرے جو حق قبول کرنے کا ہے اور جیسا کہ اے عباس رضی اللہ عنہ تو نے جواب دیا وہ جواب نہ دے گا پس جناب امیرؓ سے خطاب فرمایا اور ارشاد فرمایا اے علیؓ تم میری میراث لو کہ تم سے مخصوص ہے اور کسی کو تم سے اس میں نزاع نہیں ہے میری وصیت کو قبول کرو اور میرے وعدوں پر عمل کرو اور میرے قرض ادا کرو۔
اس روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ خلیفہ وصی کے متعلق پہلے خمِ غدیر وغیرہ میں فیصلہ ہوا نہیں تھا ورنہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو یہ کیوں کہا جاتا کہ میری وصیت کو قبول کرو بلکہ پہلے ہی سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کہا جاتا کہ اے علی المرتضیٰؓ تم کو ہم نے بمقامِ خمِ غدیر خلیفہ اور اپنا وصی بنا دیا ہے تم ایسا کرنا اور ویسا کرنا۔
دوم: جلاء العیون: جلد 1، صفحہ 64 میں لکھا ہے کہ حضورﷺ نے آخری وقت میں جو خطبہ فرمایا اس میں یہ بھی فرمایا کہ جو شخص والی امر مسلمانان ہو لازم ہے کہ انصار نیکوکار کی رعایت اور بدکار سے درگزر کرے اور یہ آخری مجلس تھی کہ حضرتِ محمدﷺ منبر پر تشریف لے گئے یہاں تک کہ حق تعالیٰ سے ملاقات فرمائی حضورِ اکرمﷺ کے اس آخری خطبہ سے یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ اس وقت تک کسی شخص کو حضورِ اکرمﷺ نے خلیفہ نہیں بنا رکھا تھا۔ اگر خمِ غدیر میں آپ خلیفہ بنا چکے ہوتے تو حضورِ اکرمﷺ یہ نہ فرماتے کہ جو شخص والی امر مسلمانان ہو بلکہ حضرت علیؓ کو صریح خطاب فرما کر کہتے کہ اے علی المرتضیٰؓ تم میرے بعد والی امر مسلمانان ہو تم ایسا کرنا اور ویسا کرنا۔
سوم: جلاءُ العیون: جلد 1، صفحہ 62 میں ہے شیخ مفید نے روایت کی ہے کہ حضرت محمد ﷺ نے لوگوں کو رخصت کیا اور سب چلے گئے سیدنا عباسؓ نے کہا یا رسول اللہﷺ اگر امرِ خلافت ہم بنی ہاشم میں قرار پائے گا پس ہم کو بشارت دیجیے کہ بادشاہ ہوں اور اگر آپ جانتے ہیں کہ ہم پر ستم کریں گے اور ہم سے خلافت کو غصب کریں گے پس اپنے اصحاب سے ہماری سفارش کیجیے۔ حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے فرمایا تم کو بعد میرے ضعیف کریں گے اور تم پر غالب ہوں گے۔
اگر امیرؓ کی خلافت کا فیصلہ پہلے ہو گیا ہوتا تو اس موقعہ پر حضرت عباسؓ بجائے اس کے کہ امرِ خلافت ہم بنی ہاشم میں قرار پائے گا۔ یوں کہتے کہ اگر خلافتِ علیؓ جس کا آپ نے فیصلہ کر دیا ہے قائم و بحال رہے گی تو ہم کو بشارت دیجیے۔
چہارم: کتاب حیاتُ القلوب: جلد 2، صفحہ 223 میں ہے روایت کرده اند کہ عامر بن طفیل و ازید بن قیس بقصدِ قتل آنحضرتﷺ آمدند چون داخل مسجد شدند عامر بہ نزدیک آنحضرتﷺ آمد و گفت یا محمدﷺ اگر من مسلمان شوم برائے من چہ خواہد بود حضرت فرمود برائے تو خواہد بود آنچہ برائے ہمہ مسلمانانست و بر تو خواہد بود آنچہ برہمہ مسلمانان است گفت می خواہم بعد از خود امر خلیفہ گردانی حضرت فرمود اختیار این امر بدست خداست و بدست من و تونیست۔
ترجمہ: روایت ہے کہ عامر بن طفیل اور زید بن قیس بارادہ قتل آنحضرت آئے جب مسجد میں داخل ہوئے تو عامر نے کہا اگر میں مسلمان ہو جاؤں تو مجھے کیا ملے گا؟ آپﷺ نے فرمایا تجھے وہ کچھ ملے گا جو تمام مسلمانوں کو ملے گا اور جو مسلمانوں کو حرج پہنچے گا نہیں بھی پہنچے گا۔ پھر اُس نے کہا میں چاہتا ہوں کہ آپ اپنے بعد مجھے خلیفہ بنادیں آپ نے فرمایا اس کا اختیار خدا کو ہے مجھے اور تجھے اس بات میں دخل نہیں ہے۔
سو اگر فیصلہ خلافت بحقِ علیؓ ہو گیا ہوتا تو آپﷺ کا جواب یہ ہوتا کہ خلافت کا فیصلہ تو ہم بحقِ علیؓ کر چکے ہیں اب اس کا مطالبہ بے سود ہے۔ آپﷺ کا یہ فرمانا کہ خلافت کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اس امر کا بدیہی ثبوت ہے کہ آنحضرتﷺ اپنی زندگی میں اس کے متعلق کوئی فیصلہ نہیں فرما گئے۔
پنجم: حیاتُ القلوب: جلد 2، صفحہ 559 میں زیرِ تفسیر آیت (وَاِذۡ اَسَرَّ النَّبِىُّ اِلٰى بَعۡضِ اَزۡوَاجِهٖ حَدِيۡثًا) یوں لکھا ہے علی بن ابراہیم و عیاشی روایت کرده اند که چون حفصہ بر قصہ ماریہ مطلع شد و حضرت را دراں باب عتاب نمود حضرت فرمود که دست از من بدار کہ برائے خاطر تو ماری را بر خود حرام گردانیدم و رازے بتوے گوئیم کہ اگر آں راز را بدیگرے خبر دہی بر تو خواہد نفریں خدا و قہر ملائکہ وطعن جميع مردماں حفصه گفت چنین باشد بگوں آل راز کدام است حضرت فرمود که راز آنست که ابوبکر بعد از من بجوره
(یہ ملا باقر مجلسی کی ایجاد ہے)
خلیفه خواهد شد و بعد از و پدر تو خلیفه خواهد شد حفصه گفت ترا که خبر داده است بایں امر؟ حضرت فرمود خدا مرا خبر داده است پس حفصه در همان روز این خبر را بعائشه از حفصہ مخبر سے نقل کرد من اعتمادے ہر قول او ندارم تو از حفصه سوال نما که آن خبر راست است یا نه؟ پس عمر به نزد یک حفصه آمد و گفت این چه خبر است که عائشه از تو نقل میکند حفصه در ابتداء حال منکر شد و گفت من بانه سخنی نگفته ام گفت اگر خبر راست از ما خفی مدار تا آنکه بیشتر در کار خود تد بیرے بکینم چوں حفصه این را شنید گفت بلے حضرت چنین گفت۔
ترجمہ: علی بن ابراہیم اور عیاشی نے روایت کیا ہے کہ حفصہ کو ماریہ کا حال معلوم ہوا اور آنحضرتﷺ سے شکایت کی تو حضورﷺ نے فرمایا: خفا نہ ہو میں نے تمہاری خاطر ماریہ کو اپنے اوپر حرام کر دیا ہے اور میں ایک راز بتاتا ہوں اگر ظاہر کرو گی تو تمہارے لیے برا ہو گا۔ حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا نہ بتاؤں گی بتائیے وہ راز کیا ہے؟ فرمایا راز یہ ہے کہ میرے بعد ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ زبردستی خلیفہ بن جائے گا اور اس کے بعد تیرا باپ عمر خلیفہ ہو گا۔ حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا آپ کو کس نے بتایا؟ آپﷺ نے فرمایا خدا نے مجھے خبر دی ہے۔ پس حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے اس روز یہ بات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتا دی، اس نے اپنے باپ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بتایا اور اس نے عمر رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا کہ عائشہؓ حفصہؓ سے یہ روایت کرتی ہے اس سے پوچھ کر بتاؤ کیا یہ سچ ہے؟ عمر رضی اللہ عنہ نے حفصہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا پہلے انکار کیا کہ مجھے اس کی خبر نہیں۔ لیکن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا بتا دو کہ اگر یہ سچ ہے تو ہم زیادہ حیلہ سازی کریں۔ حفصہؓ نے کہا ہاں پیغمبر نے ایسا ہی بتایا ہے۔
ایسا ہی دیگر شیعہ مفسرین نے بھی آیت اِذۡ اَسَرَّ النَّبِىُّ کے متعلق اسی طرح روایت کی ہے۔ چنانچہ تفسیر مجمع البیان میں یہ روایت وضاحت سے بیان کی گئی ہے۔
اب اس سے صاف ثابت ہو گیا کہ حق تعالیٰ نے خلافت کے متعلق آنحضرتﷺ کو اطلاع بخش دی تھی کہ آپﷺ کے بعد خلیفہ ابوبکر صدیقؓ اور پھر حضرت عمر فاروقؓ ہوں گے پھر آنحضرتﷺ کس طرح اس کا فیصلہ حضرت علیؓ کے حق میں فرما سکتے تھے؟ دیکھو شیعہ کی کتب اس امر کی شہادت دے رہی ہیں کہ حضرت علیؓ کی خلافت منصوص نہیں بلکہ بموجب آیت وَاِذۡ اَسَرَّ النَّبِىُّ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی منصوص ہو چکی تھی جس کی اطلاع خدا نے رسولﷺ کو دی اور آپﷺ نے اپنی ازواج کو اس سے مطلع کر دیا۔ سچ ہے الْفَضْلُ مَا شَهِدَتْ بِهِ الْأَعْدَاء۔
ششم:
شیعہ کہتے ہیں کہ مقام خم غدیر میں رسول پاکﷺ نے 2 لاکھ اصحابؓ کے روبرو جناب امیرؓ کی خلافت کا اعلان کر دیا تھا۔ اگر ایسا ہوتا تو ناممکن تھا کہ اصحاب رسولﷺ جو حضورﷺ کے قول و فعل پر اپنی جانیں قربان کئے ہوئے تھے، حضورﷺ کی وفات کے بعد حضرت علیؓ کے خلاف ابوبکر صدیقؓ کی خلافت پر اجماع کر لیتے۔
جلاء العیون: صفحہ 149 میں ہے جب رات ہوئی جناب امیر رضی اللہ عنہ سیدنا حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کو اپنے ہمراہ لے کر ایک ایک گھر مہاجرین و انصار کے پھرے۔ مگر بغیر چار آدمیوں کے اور بروایت تین آدمیوں کے اور کسی آدمی نے بیعت قبول نہ کی۔ (انتھٰی ملخصا )
شیعہ تسلیم کرتے ہیں کہ سوائے چار اشخاص مقداد، سلمان، عمار کے باقی جمیع اصحابؓ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر لی اور جناب امیر رضی اللہ عنہ حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کو ہمراہ لے کر مہاجرین و انصار کے در بدر پھر کر الحاح کرتے رہے کہ میرا ساتھ دو۔ کسی نے ساتھ نہ دیا۔ اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علیؓ میں کچھ ایسا نقص تھا کہ کوئی مسلمان بھی ان کا خلیفہ بننا پسند نہ کرتا تھا یا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ میں کچھ ایسے اوصاف تھے جن کے گرویدہ ہو کر اصحابِ رسولﷺ نے قاطبۃً ان کی بیعت اختیار کر لی اہلِسنت والجماعت کے ہاں ایک حدیث ہے لا تَجْتَمِعُ أُمَّتی عَلَى الضَّلالَةِ حضورﷺ نے فرمایا میری امت گمراہی پر جمع نہ ہو گی
ایسا ہی کتب شیعہ سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے جیسا کہ حیات القلوب: جلد 2، صفحہ 133 میں ہے سیز دہم آنست کہ خدا ایشان را از گرسنگی نمی کشد و ایشان را بر گمراهی جمع نمی کند
ترجمہ: خواص امت نبی آخر الزمان سے تیرھویں بات یہ ہے کہ یہ امت بھوک سے ہلاک نہ ہو گی اور گمراہی پر ان کا اجماع نہ ہوگا۔
پھر کیسے مانا جا سکتا ہے کہ امت مرحومہ کلہم گمراہی پر جمع ہو کر خلافت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر متفق ہو گئی اور اپنے رسول پاکﷺ کے فیصلہ کی پرواہ نہ کی۔ اس بات کو عقل و نقل دونوں تسلیم نہیں کرتے لامحالہ ماننا پڑے گا کہ یہ بات درست نہیں ہے کہ بمقام خم غدیر آنحضرتﷺ نے حضرت علیؓ کی خلافت کا فیصلہ کر دیا تھا۔
ہفتم:
خم غدیر کا مسئلہ بلا فصل خلافت اس واسطے بھی صحیح نہیں ہے کہ جناب امیرؓ نے دعویٰ خلافت کے وقت اس حدیث سے استدلال نہیں کیا۔ اگر حدیث خلافت بلا فصل پر نص صریح تھی تو آپؓ کو عین وقت پر اس سے استدلال کر کے فریق مقابل کو ملزم کرنا چاہیے تھا لیکن کسی کتاب شیعہ سے یہ ثابت نہیں ہے کہ جناب امیرؓ نے حدیث خم غدیر کو استدلال میں پیش کیا تھا۔
ہشتم:
حدیث خم غدیر پر شیعہ کو بھی اطمینان نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ حدیث قرطاس سے تمسک کر کے اپنا مدعا ثابت کرنا چاہتے ہیں ورنہ اگر پہلے ہی سے مسئلہ خلافت کا فیصلہ ہو چکا تھا تو پھر بوقت وفات اس تکلیف کی حالت میں حضورﷺ کو خلافت کا فیصلہ لکھنے کے لیے قلم دوات منگوانے کی کیا ضرورت تھی؟ اور اگر کہا جائے کہ آنحضرتﷺ کو اطمینان نہ تھا کہ آپﷺ کا فیصلہ مان لیا جائے گا تو پھر جب کھلے فیصلہ پر جو لاکھوں کے مواجہ میں بحالت صحت ایک کھلے میدان میں کیا گیا تھا، اطمینان نہ تھا تو بحالت مرض ایک تنگ حجرہ میں چند افراد کے رو برو اعلان خلافت بلا فصل علی المرتضیٰؓ پر کس طرح اطمینان ہو سکتا تھا؟