حدیث خم غدیر کا نص خلافت نہ ہونے کا ثبوت کتب شیعہ سے - ردِ…

حدیث خم غدیر کا نص خلافت نہ ہونے کا ثبوت کتب شیعہ سے

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

صفحہ 1 از 2

شیعہ حضرات مسئلہ خلافتِ بلافصل ثابت کرنے کے متعلق عجیب چکر کھاتے ہیں اور ہر چند جدوجہد کرتے ہیں لیکن ان کی ڈگمگاتی کشتی ساحل مراد تک پہنچ نہیں سکتی

ظفر نے قصہ زلف دراز جاناں کو 

کیا بیان تو کیا کیا بیان میں الجھا 

اُدھر تو یہ کہتے ہیں کہ حدیثِ خمِ عذیر خلافتِ بلافصل علیؓ پر نص جلی ہے اُدھر قصہ قرطاس کو دلیل ثابت کرنے کی بے سود کوشش کرتے ہیں لیکن کسی طرح بھی اپنے مقصود میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ ہم اس امر کو ثابت کرنے کے لیے کہ حدیث خمِ غدیر خلافتِ بلافصل جناب امیرؓ کی ثابت نہیں ہوتی کتبِ شیعہ سے ہی حسبِ ذیل استدلال کرتے ہیں:

اول: جلاء العیون اردو مطبوعہ مطبع جعفری لکھنؤ کے جلد 1، صفحہ 60 میں ذکر وقت وفاتِ رسول اللہﷺ میں لکھا ہے۔ پس حضرت محمدﷺ نے چشم کھول کر فرمایا: اے عباس اے عم رسول اللہﷺ میری وصیت میرے اہلِ بیتؓ اور میری عورتوں کے حق میں قبول کرو اور میری میراث لو اور میرا دین ادا کرو اور میرے وعدوں کو عمل میں لاؤ اور مجھ کو بری کرو۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہﷺ میں پیر مرد عیالدار ہوں اور آپ ہوائے تند اور ابر بہار سے زیادہ بخشش و سخاوت فرمانے والے میں اور میرا مال آپ کے وعدوں اور بخششوں کو وفا نہیں کر سکتا اس سے مجھ کو معاف رکھیے۔

پس حضرت نے فرمایا: میں میراث اس کو دوں گا جو قبول کرے اور اس طرح قبول کرے جو حق قبول کرنے کا ہے اور جیسا کہ اے عباس رضی اللہ عنہ تو نے جواب دیا وہ جواب نہ دے گا پس جناب امیرؓ سے خطاب فرمایا اور ارشاد فرمایا اے علیؓ تم میری میراث لو کہ تم سے مخصوص ہے اور کسی کو تم سے اس میں نزاع نہیں ہے میری وصیت کو قبول کرو اور میرے وعدوں پر عمل کرو اور میرے قرض ادا کرو۔ 

اس روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ خلیفہ وصی کے متعلق پہلے خمِ غدیر وغیرہ میں فیصلہ ہوا نہیں تھا ورنہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو یہ کیوں کہا جاتا کہ میری وصیت کو قبول کرو بلکہ پہلے ہی سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کہا جاتا کہ اے علی المرتضیٰؓ تم کو ہم نے بمقامِ خمِ غدیر خلیفہ اور اپنا وصی بنا دیا ہے تم ایسا کرنا اور ویسا کرنا۔

دوم: جلاء العیون: جلد 1، صفحہ 64 میں لکھا ہے کہ حضورﷺ نے آخری وقت میں جو خطبہ فرمایا اس میں یہ بھی فرمایا کہ جو شخص والی امر مسلمانان ہو لازم ہے کہ انصار نیکوکار کی رعایت اور بدکار سے درگزر کرے اور یہ آخری مجلس تھی کہ حضرتِ محمدﷺ منبر پر تشریف لے گئے یہاں تک کہ حق تعالیٰ سے ملاقات فرمائی حضورِ اکرمﷺ کے اس آخری خطبہ سے یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ اس وقت تک کسی شخص کو حضورِ اکرمﷺ نے خلیفہ نہیں بنا رکھا تھا۔ اگر خمِ غدیر میں آپ خلیفہ بنا چکے ہوتے تو حضورِ اکرمﷺ یہ نہ فرماتے کہ جو شخص والی امر مسلمانان ہو بلکہ حضرت علیؓ کو صریح خطاب فرما کر کہتے کہ اے علی المرتضیٰؓ تم میرے بعد والی امر مسلمانان ہو تم ایسا کرنا اور ویسا کرنا۔

سوم: جلاءُ العیون: جلد 1، صفحہ 62 میں ہے شیخ مفید نے روایت کی ہے کہ حضرت محمد ﷺ نے لوگوں کو رخصت کیا اور سب چلے گئے سیدنا عباسؓ نے کہا یا رسول اللہﷺ اگر امرِ خلافت ہم بنی ہاشم میں قرار پائے گا پس ہم کو بشارت دیجیے کہ بادشاہ ہوں اور اگر آپ جانتے ہیں کہ ہم پر ستم کریں گے اور ہم سے خلافت کو غصب کریں گے پس اپنے اصحاب سے ہماری سفارش کیجیے۔ حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے فرمایا تم کو بعد میرے ضعیف کریں گے اور تم پر غالب ہوں گے۔

اگر امیرؓ کی خلافت کا فیصلہ پہلے ہو گیا ہوتا تو اس موقعہ پر حضرت عباسؓ بجائے اس کے کہ امرِ خلافت ہم بنی ہاشم میں قرار پائے گا۔ یوں کہتے کہ اگر خلافتِ علیؓ جس کا آپ نے فیصلہ کر دیا ہے قائم و بحال رہے گی تو ہم کو بشارت دیجیے۔

چہارم: کتاب حیاتُ القلوب: جلد 2، صفحہ 223 میں ہے روایت کرده اند کہ عامر بن طفیل و ازید بن قیس بقصدِ قتل آنحضرتﷺ آمدند چون داخل مسجد شدند عامر بہ نزدیک آنحضرتﷺ آمد و گفت یا محمدﷺ اگر من مسلمان شوم برائے من چہ خواہد بود حضرت فرمود برائے تو خواہد بود آنچہ برائے ہمہ مسلمانانست و بر تو خواہد بود آنچہ برہمہ مسلمانان است گفت می خواہم بعد از خود امر خلیفہ گردانی حضرت فرمود اختیار این امر بدست خداست و بدست من و تونیست۔

ترجمہ: روایت ہے کہ عامر بن طفیل اور زید بن قیس بارادہ قتل آنحضرت آئے جب مسجد میں داخل ہوئے تو عامر نے کہا اگر میں مسلمان ہو جاؤں تو مجھے کیا ملے گا؟ آپﷺ نے فرمایا تجھے وہ کچھ ملے گا جو تمام مسلمانوں کو ملے گا اور جو مسلمانوں کو حرج پہنچے گا نہیں بھی پہنچے گا۔ پھر اُس نے کہا میں چاہتا ہوں کہ آپ اپنے بعد مجھے خلیفہ بنادیں آپ نے فرمایا اس کا اختیار خدا کو ہے مجھے اور تجھے اس بات میں دخل نہیں ہے۔

سو اگر فیصلہ خلافت بحقِ علیؓ ہو گیا ہوتا تو آپﷺ کا جواب یہ ہوتا کہ خلافت کا فیصلہ تو ہم بحقِ علیؓ کر چکے ہیں اب اس کا مطالبہ بے سود ہے۔ آپﷺ کا یہ فرمانا کہ خلافت کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اس امر کا بدیہی ثبوت ہے کہ آنحضرتﷺ اپنی زندگی میں اس کے متعلق کوئی فیصلہ نہیں فرما گئے۔

پنجم: حیاتُ القلوب: جلد 2، صفحہ 559 میں زیرِ تفسیر آیت (وَاِذۡ اَسَرَّ النَّبِىُّ اِلٰى بَعۡضِ اَزۡوَاجِهٖ حَدِيۡثًا‌) یوں لکھا ہے علی بن ابراہیم و عیاشی روایت کرده اند که چون حفصہ بر قصہ ماریہ مطلع شد و حضرت را دراں باب عتاب نمود حضرت فرمود که دست از من بدار کہ برائے خاطر تو ماری را بر خود حرام گردانیدم و رازے بتوے گوئیم کہ اگر آں راز را بدیگرے خبر دہی بر تو خواہد نفریں خدا و قہر ملائکہ وطعن جميع مردماں حفصه گفت چنین باشد بگوں آل راز کدام است حضرت فرمود که راز آنست که ابوبکر بعد از من بجوره 

(یہ ملا باقر مجلسی کی ایجاد ہے)

صفحہ 1 از 2