حدیث خم غدیر کا نص خلافت نہ ہونے کا ثبوت کتب شیعہ سے - ردِ…

حدیث خم غدیر کا نص خلافت نہ ہونے کا ثبوت کتب شیعہ سے

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

صفحہ 2 از 2

خلیفه خواهد شد و بعد از و پدر تو خلیفه خواهد شد حفصه گفت ترا که خبر داده است بایں امر؟ حضرت فرمود خدا مرا خبر داده است پس حفصه در همان روز این خبر را بعائشه از حفصہ مخبر سے نقل کرد من اعتمادے ہر قول او ندارم تو از حفصه سوال نما که آن خبر راست است یا نه؟ پس عمر به نزد یک حفصه آمد و گفت این چه خبر است که عائشه از تو نقل میکند حفصه در ابتداء حال منکر شد و گفت من بانه سخنی نگفته ام گفت اگر خبر راست از ما خفی مدار تا آنکه بیشتر در کار خود تد بیرے بکینم چوں حفصه این را شنید گفت بلے حضرت چنین گفت۔

ترجمہ: علی بن ابراہیم اور عیاشی نے روایت کیا ہے کہ حفصہ کو ماریہ کا حال معلوم ہوا اور آنحضرتﷺ سے شکایت کی تو حضورﷺ نے فرمایا: خفا نہ ہو میں نے تمہاری خاطر ماریہ کو اپنے اوپر حرام کر دیا ہے اور میں ایک راز بتاتا ہوں اگر ظاہر کرو گی تو تمہارے لیے برا ہو گا۔ حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا نہ بتاؤں گی بتائیے وہ راز کیا ہے؟ فرمایا راز یہ ہے کہ میرے بعد ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ زبردستی خلیفہ بن جائے گا اور اس کے بعد تیرا باپ عمر خلیفہ ہو گا۔ حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا آپ کو کس نے بتایا؟ آپﷺ نے فرمایا خدا نے مجھے خبر دی ہے۔ پس حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے اس روز یہ بات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتا دی، اس نے اپنے باپ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بتایا اور اس نے عمر رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا کہ عائشہؓ حفصہؓ سے یہ روایت کرتی ہے اس سے پوچھ کر بتاؤ کیا یہ سچ ہے؟ عمر رضی اللہ عنہ نے حفصہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا پہلے انکار کیا کہ مجھے اس کی خبر نہیں۔ لیکن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا بتا دو کہ اگر یہ سچ ہے تو ہم زیادہ حیلہ سازی کریں۔ حفصہؓ نے کہا ہاں پیغمبر نے ایسا ہی بتایا ہے۔

 ایسا ہی دیگر شیعہ مفسرین نے بھی آیت اِذۡ اَسَرَّ النَّبِىُّ کے متعلق اسی طرح روایت کی ہے۔ چنانچہ تفسیر مجمع البیان میں یہ روایت وضاحت سے بیان کی گئی ہے۔

اب اس سے صاف ثابت ہو گیا کہ حق تعالیٰ نے خلافت کے متعلق آنحضرتﷺ کو اطلاع بخش دی تھی کہ آپﷺ کے بعد خلیفہ ابوبکر صدیقؓ اور پھر حضرت عمر فاروقؓ ہوں گے پھر آنحضرتﷺ کس طرح اس کا فیصلہ حضرت علیؓ کے حق میں فرما سکتے تھے؟ دیکھو شیعہ کی کتب اس امر کی شہادت دے رہی ہیں کہ حضرت علیؓ کی خلافت منصوص نہیں بلکہ بموجب آیت وَاِذۡ اَسَرَّ النَّبِىُّ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی منصوص ہو چکی تھی جس کی اطلاع خدا نے رسولﷺ کو دی اور آپﷺ نے اپنی ازواج کو اس سے مطلع کر دیا۔ سچ ہے الْفَضْلُ مَا شَهِدَتْ بِهِ الْأَعْدَاء۔

ششم:

شیعہ کہتے ہیں کہ مقام خم غدیر میں رسول پاکﷺ نے 2 لاکھ اصحابؓ کے روبرو جناب امیرؓ کی خلافت کا اعلان کر دیا تھا۔ اگر ایسا ہوتا تو ناممکن تھا کہ اصحاب رسولﷺ جو حضورﷺ کے قول و فعل پر اپنی جانیں قربان کئے ہوئے تھے، حضورﷺ کی وفات کے بعد حضرت علیؓ کے خلاف ابوبکر صدیقؓ کی خلافت پر اجماع کر لیتے۔ 

جلاء العیون: صفحہ 149 میں ہے جب رات ہوئی جناب امیر رضی اللہ عنہ سیدنا حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کو اپنے ہمراہ لے کر ایک ایک گھر مہاجرین و انصار کے پھرے۔ مگر بغیر چار آدمیوں کے اور بروایت تین آدمیوں کے اور کسی آدمی نے بیعت قبول نہ کی۔ (انتھٰی ملخصا )

شیعہ تسلیم کرتے ہیں کہ سوائے چار اشخاص مقداد، سلمان، عمار کے باقی جمیع اصحابؓ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر لی اور جناب امیر رضی اللہ عنہ حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کو ہمراہ لے کر مہاجرین و انصار کے در بدر پھر کر الحاح کرتے رہے کہ میرا ساتھ دو۔ کسی نے ساتھ نہ دیا۔ اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علیؓ میں کچھ ایسا نقص تھا کہ کوئی مسلمان بھی ان کا خلیفہ بننا پسند نہ کرتا تھا یا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ میں کچھ ایسے اوصاف تھے جن کے گرویدہ ہو کر اصحابِ رسولﷺ نے قاطبۃً ان کی بیعت اختیار کر لی اہلِسنت والجماعت کے ہاں ایک حدیث ہے لا تَجْتَمِعُ أُمَّتی عَلَى الضَّلالَةِ حضورﷺ نے فرمایا میری امت گمراہی پر جمع نہ ہو گی 

ایسا ہی کتب شیعہ سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے جیسا کہ حیات القلوب: جلد 2، صفحہ 133 میں ہے سیز دہم آنست کہ خدا ایشان را از گرسنگی نمی کشد و ایشان را بر گمراهی جمع نمی کند

ترجمہ: خواص امت نبی آخر الزمان سے تیرھویں بات یہ ہے کہ یہ امت بھوک سے ہلاک نہ ہو گی اور گمراہی پر ان کا اجماع نہ ہوگا۔

پھر کیسے مانا جا سکتا ہے کہ امت مرحومہ کلہم گمراہی پر جمع ہو کر خلافت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر متفق ہو گئی اور اپنے رسول پاکﷺ کے فیصلہ کی پرواہ نہ کی۔ اس بات کو عقل و نقل دونوں تسلیم نہیں کرتے لامحالہ ماننا پڑے گا کہ یہ بات درست نہیں ہے کہ بمقام خم غدیر آنحضرتﷺ نے حضرت علیؓ کی خلافت کا فیصلہ کر دیا تھا۔

ہفتم:

خم غدیر کا مسئلہ بلا فصل خلافت اس واسطے بھی صحیح نہیں ہے کہ جناب امیرؓ نے دعویٰ خلافت کے وقت اس حدیث سے استدلال نہیں کیا۔ اگر حدیث خلافت بلا فصل پر نص صریح تھی تو آپؓ کو عین وقت پر اس سے استدلال کر کے فریق مقابل کو ملزم کرنا چاہیے تھا لیکن کسی کتاب شیعہ سے یہ ثابت نہیں ہے کہ جناب امیرؓ نے حدیث خم غدیر کو استدلال میں پیش کیا تھا۔

ہشتم:

حدیث خم غدیر پر شیعہ کو بھی اطمینان نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ حدیث قرطاس سے تمسک کر کے اپنا مدعا ثابت کرنا چاہتے ہیں ورنہ اگر پہلے ہی سے مسئلہ خلافت کا فیصلہ ہو چکا تھا تو پھر بوقت وفات اس تکلیف کی حالت میں حضورﷺ کو خلافت کا فیصلہ لکھنے کے لیے قلم دوات منگوانے کی کیا ضرورت تھی؟ اور اگر کہا جائے کہ آنحضرتﷺ کو اطمینان نہ تھا کہ آپﷺ کا فیصلہ مان لیا جائے گا تو پھر جب کھلے فیصلہ پر جو لاکھوں کے مواجہ میں بحالت صحت ایک کھلے میدان میں کیا گیا تھا، اطمینان نہ تھا تو بحالت مرض ایک تنگ حجرہ میں چند افراد کے رو برو اعلان خلافت بلا فصل علی المرتضیٰؓ پر کس طرح اطمینان ہو سکتا تھا؟


صفحہ 2 از 2