Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ثانیا شیعہ اثنا عشریہ کی دلیلیں

  علی محمد الصلابی

جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یکون اثنا عشرا أمیرا‘‘ بارہ امیر ہوں گے، پھر آپ نے ایک بات کہی جسے میں نہ سن سکا، تو میرے والد نے کہا کہ آپﷺ نے فرمایا ہے ’’کلہم من قریش‘‘

(صحیح البخاری: کتاب الاحکام: باب الاستخلاف: جلد 8 صفحہ 127)

سب کے سب قریش میں سے ہوں گے۔

صحیح مسلم میں جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے:

لَا یَزَالُ الْاِسْلَامُ عَزِیْزًا إِلٰی اِثْنٰی عَشَرَ خَلِیْفَۃً۔

’’اسلام بارہ خلیفوں تک غالب رہے گا۔‘‘

پھر آپﷺ نے ایک کہی جسے میں نہ سمجھ سکا، میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ آپﷺ نے کیا فرمایا ہے؟ تو انھوں نے بتایا کہ آپﷺ نے فرمایا ہے: ’’کلہم من قریش‘‘ سب کے سب قریش سے ہوں گے۔

(صحیح مسلم: کتاب الإمارۃ: باب الناس تبع لقریش و الخلافۃ فی قریش: جلد 2 صفحہ 1453)

حدیث کے یہ الفاظ بھی وارد ہیں:

لَا یَزَالُ ہٰذَا الدِّیْنُ عَزِیْزًا مَنِیِْعًا إِلٰی اِثْنٰی عَشَرَ خَلِیْفَۃً۔

(صحیح مسلم: کتاب الإمارۃ: جلد 2 صفحہ 1453)

’’یہ دین بارہ خلیفوں تک غالب اور طاقتور رہے گا۔‘‘

حدیث کے دوسرے الفاظ یہ بھی ہیں:

لَا یَزَالُ اَمْرُ النَّاسِ مَاضِیًا مَا وَلِیَہُمْ اِثْنَا عَشَرَ رَجُلًا۔

(صحیح مسلم: کتاب الإمارۃ: جلد 2 صفحہ 1453)

’’بارہ لوگوں کی خلافت تک لوگوں کا معاملہ غالب رہے گا۔‘‘

سنن ابی داؤد کی روایت ہے:

لَا یَزَالُ ہٰذَا الدِّیْنُ قَائِمًا حَتّٰی یَکُوْنَ عَلَیْکُمْ اِثْنَا عَشَرَ خَلِیْفَۃً، کُلُّہُمْ تَجْتَمِعُ عَلَیْہِ الْأُمَّۃُ۔

(سنن ابی داود: کتاب المہدی: جلد 4 صفحہ 471)

’’بارہ خلیفوں تک یہ دین مضبوطی سے قائم رہے گا، ان تمام پر امت کے لوگوں کا اتفاق ہوگا۔‘‘

امام ابو داؤدؒ نے جابر رضی اللہ عنہ کی مذکورہ حدیث کو اسود بن سعید کے طریق سے بھی روایت کیا ہے اس میں ان الفاظ کی زیادتی ہے:

فَلَمَّا رَجَعَ إِلٰی مَنْزِلِہٖ اَتَتْہُ قُرَیْشٌ فَقَالُوْا: ثُمَّ یَکُوْنُ مَاذَا قَالَ: اَلْہَرَجُ۔

( سنن ابی داود: جلد 4 صفحہ 472، فتح الباری: جلد 13 صفحہ 211)

’’جب آپ گھر لوٹے تو قریش کے لوگ آپ کے پاس آئے اور پوچھا: پھر کیا ہوگا، آپ نے فرمایا: فتنہ و فساد، قتل و غارت گری ہوگی۔‘‘

شیعہ اثنا عشریہ اس حدیث سے چمٹے ہوئے ہیں اور اسی سے اہل سنت کے خلاف دلیل قائم کرتے ہیں، اس لیے نہیں کہ وہ کتبِ حدیث میں وارد احادیث پر یقین رکھتے ہیں، بلکہ اس لیے کہ اہل سنت جس حدیث کو مانتے ہیں اسی سے ان کے خلاف دلیل قائم کریں، اس حدیث میں معروضی انداز میں پوری غیرجانبداری سے غور کرنے سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ حدیث میں مذکور بارہ آدمیوں کے یہ اوصاف بیان کیے گئے ہیں کہ وہ خلیفہ ہوں گے، ان کے عہد میں اسلام غالب و طاقتور ہوگا، لوگوں کا ان پر اتفاق ہوگا، ان کے عہد میں لوگوں کا معاملہ درست اور غالب رہے گا۔

لیکن یہ اوصاف ان لوگوں پر منطبق نہیں ہوتے جن کی امامت کے شیعہ اثنا عشریہ دعویدار ہیں، ان میں سے صرف امیر المؤمنین علی و حسن رضی اللہ عنہما خلیفہ ہوئے، خود شیعوں کی نظر میں ان بارہ میں سے کسی ایک کی مدت میں امت کا معاملہ درست نہیں رہا، بلکہ خراب رہا، ان پر ظالم بلکہ کافر حکمران مقرر ہوتے رہے۔

(منہاج السنۃ: جلد 4 صفحہ 210، المنتقی: صفحہ 533)

ائمہ خود اپنے دینی امور میں ’’تقیہ‘‘ کی آڑ لیتے تھے۔

(أصول الشیعۃ الإمامیۃ: جلد 2 صفحہ 816)

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا دورِ خلافت بھی ’’تقیہ‘‘ کا دور تھا، جیسا کہ اس کی صراحت ان کے شیخ ’’المفید‘‘ نے کی ہے۔

(أصول الشیعۃ الإمامیۃ: جلد 2 صفحہ 816)

چنانچہ آپ قرآن کو غالب نہ رکھ سکے، اور بعض اسلامی احکام کو نافذ نہ کرسکے جیسا کہ اس کی صراحت ان کے شیخ ’’الجزائری‘‘ نے کی ہے،

(أصول الشیعۃ الإمامیۃ: جلد 2 صفحہ 816)

اور دین میں چھوٹ دے کر صحابہؓ کا تعاون و حمایت حاصل کرنے پر مجبور ہوگئے جیسا کہ اس کا اقرار ان کے شیخ ’’المرتضی‘‘ (أصول الشیعۃ الإمامیۃ: جلد 2 صفحہ 816) نے کیا ہے۔ اس لیے حدیث ایک طرف ہے،

اور ان لوگوں کی باطل رائے دوسری طرف ہے، پھر دوسری بات یہ کہ اس حدیث میں ائمہ کے اس مخصوص تعداد میں منحصر ہونے کا تذکرہ نہیں ہے، بلکہ آپ کی پیشین گوئی ہے کہ اسلام ان لوگوں کے زمانے میں غالب رہے گا اور خلفائے راشدینؓ و بنوامیہ کا زمانہ غلبہ و قوت کا زمانہ رہا۔

(أصول الشیعۃ الإمامیۃ: جلد 2 صفحہ 816)

اسی لیے امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:

’’بعد کے مقابلے میں بنو امیہ کے زمانے میں اسلام اور اس کے قوانین زیادہ غالب اور وسیع تر تھے۔‘‘ پھر آپ نے اس حدیث سے دلیل پیش کی:

لَا یَزَالُ ہٰذَا الْأَمْرُ عَزِیْزًا إِلٰی اِثْنٰی عَشَرَ خَلِیْفَۃً کُلُّہُمْ مِّنْ قُرَیْشٍ۔

’’بارہ خلیفوں تک یہ اسلام غالب رہے گا، وہ سب کے سب قریش سے ہوں گے۔‘‘

پھر کہا:

’’معاملہ ایسا ہی ہوا، چنانچہ ابوبکر، عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم خلیفہ ہوئے، پھر وہ لوگ خلیفہ ہوئے جن پر لوگوں کا اتفاق رہا، اور انھیں غلبہ و قوت حاصل رہی، یعنی معاویہ، ان کے لڑکے یزید، پھر عبدالملک نیز ان کے چار بیٹے اور انھی کے درمیان عمر بن عبدالعزیز رہے، اس کے بعد کمی ہونے لگی جو آج تک باقی ہے۔

پھر آپ نے اس کی شرح کی۔ ‘‘

(منہاج السنۃ: جلد 4 صفحہ 206)

پھر آپ نے حدیث کے اس ٹکڑے ’’کُلُّہُمْ مِّنْ قُرَیْشٍ‘‘ کے بارے میں کہا: 

’’اس کا مطلب یہ ہے کہ مذکورہ بارہ خلفاء علی رضی اللہ عنہ اور آپؓ کی اولاد کے ساتھ خاص نہیں ہیں۔ اگر خاص ہوتے تو ان کا کوئی امتیازی وصف بیان کیا جاتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں کہا کہ سب کے سب اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ہوں گے اور نہ یہ کہا کہ سب عرب میں سے ہوں گے، اگر ان کا امتیاز یہ ہوتا کہ وہ بنوہاشم یا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خاندان سے ہوں گے تو اس کا تذکرہ کیا گیا ہوتا، جب آپ نے ان کے بارے میں کہا کہ وہ مطلقاً قریش سے ہوں گے تو وہ کسی خاص قبیلہ کے نہیں ہوں گے، بلکہ بنوتیم، بنوعدی، بنوعبدشمس اور بنوہاشم قبائل سے خلفائے راشدینؓ کا تعلق تھا۔‘‘ 

(منہاج السنۃ: جلد 4 صفحہ 211)

اس طرح حدیث میں وارد اوصاف میں سے صرف عدد ہی ان کے بارہ اماموں پر منطبق ہوتا ہے، اور عدد کا کوئی مطلب نہیں ہوتا ہے۔

 (اصول الشیعۃ: جلد 2 صفحہ 818)