ثالثا امیر المؤمنین حسن رضی اللہ عنہ کی مدت خلافت اور خلافت سے متعلق اہل سنت کی رائے
علی محمد الصلابیامیر المؤمنین سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما اپنی بیعت کے بعد حجاز، یمن اور عراق وغیرہ کے تقریباً سات مہینے، دوسرے قول کے مطابق آٹھ مہینے، تیسرے قول کے مطابق چھ مہینے خلیفہ رہے۔ اس مدت میں سیدنا حسنؓ کی خلافت صحیح معنوں میں خلافت راشدہ تھی، اس لیے کہ یہ مدت اس خلافتِ راشدہ کی مدت کا تکملہ ہے جس کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ اس کی مدت تیس سال ہوگی، پھر ملوکیت کا زمانہ آجائے گا۔
(عقیدۃ اہل السنۃ والجماعۃ فی الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 743)
امام ترمذیؒ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کو روایت کیا ہے:
اَلْخِلَافَۃُ فِیْ أُمَّتِیْ ثَلَاثُوْنَ سَنَۃً ثُمَّ مُلْکٌ بَعْدَ ذٰلِکَ۔
(سنن الترمذی مع شرحہا تحفۃ الاحوذی: جلد 6 صفحہ 395، 396، یہ حدیث حسن ہے۔)
’’میری امت میں خلافت تیس سال رہے گی پھر اس کے بعد ملوکیت ہوگی۔‘‘
اس حدیث پر ابن کثیر رحمہ اللہ گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی خلافت پر تیس سال پورے ہوجاتے ہیں، سیدنا حسنؓ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں خلافت سے ربیع الاول 41ھ میں دست بردار ہوئے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے لے کر یہاں تک پورے تیس سال ہوجاتے ہیں، اس لیے کہ آپﷺ کی وفات ربیع الاول 11ھ میں ہوئی تھی، اور یہ آپﷺ کی نبوت کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 11 صفحہ 134)
اس طرح سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما پانچویں خلیفۂ راشد قرار پاتے ہیں۔‘‘
(مآثر الأناقۃ: جلد 1 صفحہ 105، مرویات خلافۃ معاویۃ للخالد الغیث: صفحہ 155)
امام احمد رحمہ اللہ نے سفینہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کو روایت کیا ہے:
اَلْخِلَافَۃُ ثَلَاثُوْنَ عَامًا ثُمَّ یَکُوْنُ بَعْدَ ذٰلِکَ الْمُلْکُ۔
(فضائل الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 477، اس کی سند حسن ہے۔)
’’خلافت تیس سال ہوگی پھر اس کے بعد ملوکیت ہوگی۔‘‘
امام ابو داؤد رحمۃاللہ نے اس حدیث کو ان لفظوں میں روایت کیا ہے:
خِلَافَۃُ النُّبُوَّۃِ ثَلَاثُوْنَ سَنَۃً ثُمَّ یُؤْتِی اللّٰہُ الْمُلْکَ (أَوَ مَلَّکَہُ) مَنْ یَّشَائُ۔
(سنن ابی داؤد: جلد 3 صفحہ 879، سنن أبی داود: جلد 2 صفحہ 515)(
’’خلافت علیٰ منہاج النبوۃ تیس سال رہے گی پھر اللہ تعالیٰ سلطنت یا اپنی سلطنت جسے چاہے گا دے گا۔‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تیس سالوں میں خلفائے اربعہ و حسن رضی اللہ عنہم ہی تھے، ’’الخلافۃ فی أمتی ثلاثون سنۃ‘‘کی شرح کرتے ہوئے بہت سارے علما نے اس بات کو ثابت کیا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی خلافت خلافت علیٰ منہاج النبوۃ میں داخل اور اس کا تکملہ ہے۔ چنانچہ ان کے اقوال درج ذیل ہیں:
1۔ ابوبکر ابن العربی کا قول ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ سچا وعدہ ’’اَلْخِلَافَۃُ فِیْ أُمَّتِیْ ثَلَاثُوْنَ سَنَۃً ثُمَّ تَعُوْدُ مُلْکًا‘‘ صحیح ثابت ہوا، چنانچہ ابوبکر، عمر، عثمان، علی رضی اللہ عنہم کی خلافت اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی آٹھ مہینے کی خلافت تیس سال سے نہ ایک دن زیادہ ہوتی ہے اور نہ کم۔ ہم تمام چیزوں کا علم رکھنے والے رب کی پاکیزگی بیان کرتے ہیں جس کے علاوہ کوئی حقیقی رب نہیں۔
(أحکام القرآن لابن العربی: جلد 4 صفحہ 1720)
2۔ قاضی عیاض رحمۃاللہ کا قول ہے: تیس سالوں میں چاروں خلفاء کی مدت خلافت اور سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی خلافت کے چند مہینے ہی شامل ہیں اور حدیث کے ٹکڑے ’’اَلْخِلَافَۃُ ثَلَاثُوْنَ سَنَۃً‘‘ میں خلافت سے مراد خلافت علیٰ منہاج النبوۃ ہے جیسا کہ اس کی تفسیر دوسری روایتوں میں اس طرح آئی ہے:
خِلَافَۃُ النُّبُوَّۃِ بَعْدِیْ ثَلَاثُوْنَ سَنَۃً ثُمَّ تَکُوْنُ مُلْکًا۔
(شرح النووی علی صحیح مسلم: جلد 12 صفحہ 201)
’’میرے بعد خلافت علی منہاج النبوۃ تیس سال رہے گی پھر ملوکیت ہوگی۔‘‘
3۔ حافظ ابن کثیر رحمۃاللہ کا قول ہے: اس بات کی دلیل کہ وہ (حسن رضی اللہ عنہ ) خلفائے راشدینؓ میں سے ہیں، وہ حدیث ہے جسے میں نے سفینہ رضی اللہ عنہ کے طریق سے نبوت کی نشانیوں میں ذکر کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اَلْخِلَافَۃُ بَعْدِیْ ثَلَاثُوْنَ سَنَۃً ثُمَّ تَکُوْنُ مُلْکًا۔‘‘ اور تیس سال سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی خلافت کو لے کر پورے ہوتے ہیں۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 11 صفحہ 134)
4۔ شارح الطحاویہ رحمۃاللہ کا قول ہے: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی مدت خلافت دو سال تین مہینے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی ساڑھے دس سال، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی بارہ سال، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی چار سال نو مہینے، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی چھ مہینے تھی۔
(شرح الطحاویۃ: صفحہ 545)
5۔ مناوی رحمۃاللہ نے قولِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ’’اِبْنِیْ ہٰذَا سَیِّدٌ وَ لَعَلَّ اللّٰہُ یُصْلِحُ بِہٖ بَیْنَ فِئَتَیْنِ عَظِیْمَتَیْنِ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ‘‘
(صحیح البخاری: جلد 7 صفحہ 94)
(میرا یہ لاڈلا سردار ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ سے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں کے مابین صلح کرائے گا) کو ذکر کرنے کے بعد کہا: اور معاملہ ایسا ہی ہوا، سیدنا حسنؓ کے والد کے بعد جب سیدنا حسنؓ کے لیے بیعت کی گئی، اور سیدنا حسنؓ چھ مہینے تک خلیفہ برحق رہے جو ان تیس سالوں کا تکملہ ہے جن کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے، تو یہ مدت مدتِ خلافت ہے، اس کے بعد ملوکیت ہے۔
(فیض القدیر: جلد 2 صفحہ 409)
6۔ ابن حجر ہیثمی رحمۃاللہ کا قول ہے: وہ اپنے نانا کی تصریح کے مطابق آخری خلیفۂ راشد ہیں، اپنے والد کے قتل کے بعد اہل کوفہ کی بیعت سے خلیفہ ہوئے، سیدنا حسنؓ چھ مہینے چند دن تک اس پیشین گوئی کو سچ ثابت کرتے ہوئے خلیفۂ برحق، سچے اور عدل پسند حاکم رہے، جس میں سیدنا حسنؓ کے نانا رسولِ صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ’’الخلافۃ بعدی ثلاثون سنۃ۔‘‘ یہ چھ مہینے ان تیس سالوں کا تکملہ ہیں، اس طرح سیدنا حسنؓ کی خلافت پر نص موجود ہے اور اس پر اجماع ہے، اس لیے اس کے برحق ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔
(الصواعق المحرقۃ علی أہل الرفض و الضلال و الزندقۃ: جلد 2 صفحہ 397)
اہل سنت و جماعت کا عقیدہ ہے کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی خلافت برحق ہے، اور اس خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کی تکمیل ہے جس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ اس کی مدت تیس سال ہوگی۔
(عقیدۃ أہل السنۃ فی الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 748)