Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

روائیت بالا کے موضوع ہونے کے دلائل

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

اول سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی شان والا کی نسبت یہ گمان کرنا کہ وہ دنیا داروں کی قیمتی پوشاک پہنتے تھے جو قریباً پچیس ہزار روپے کی ہو۔ آپؓ کی صوفیانہ اور متقیانہ حیثیت بر ایک سخت حملہ ہے۔ ہم پہلے جلاء العیون کی روایت سے لکھ چکے ہیں کہ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سیدہ فاطمہؓ کے ناطہ کی خواستگاری کا مشورہ دیا گیا تو آپؓ نے اپنی مفلسی کا عذر پیش کیا اور جب سامانِ شادی خریدنے کی آپؓ کو ضرورت پیش آئی تو آپؓ نے اپنی زرہ فروخت کر کے وہ سامان خرید لیا۔ علامہ سید علی حائری اپنی مؤلفہ کتاب غائیۃ المقصود کے صفحہ 157 پر مرزا قادیانی پر طعن کرتے ہوئے یوں رقمطراز ہیں:

در آنجا در بیت النبوۃ از کمال زہد و تقویٰ و فقر تامہ سہ یوم فاقہ سے گذرانیدند۔

تا آنکہ شہادت آیت وَيُطۡعِمُوۡنَ الطَّعَامَ نازل شد و ایں جابدوں شالہائے خلیل خانی و تہرمہ کشمیری و سربر نمیگذاردو آنجابر حصیر لیف خرما و اکثر برخاک خوابیده دید و فرمود۔

قم یا ابا تراب و از ہماں رز بابی تراب مکنی شد۔

ترجمہ: وہاں خاندانِ نبوت حضرت علیؓ کے گھر میں کمال زہد و تقویٰ سے تین تین روز فاقہ گزارتے تھے حتیٰ کہ آیت وَيُطۡعِمُوۡنَ الطَّعَامَ نازل ہوئی اور یہاں مرزا قادیانی کا یہ حال ہے کہ خلیل خانی شال اور کشمیری چادر اور ریشمی پارچات کا استعمال ہوتا ہے اور اہلِ بیتؓ کا یہ حال تھا کہ کھجور کی چھال کی بنی ہوئی بوریا بلکہ اکثر اوقات خاک زمین پر لیٹ جایا کرتے تھے۔ چنانچہ ایک روز حضورﷺ نے شجاعتِ مآب کو فرش زمین پر لیٹے ہوئے دیکھ کر فرما دیا اے ابوتراب چنانچہ آپؓ کی یہی کنیت مشہور ہو گئی۔ 

علامہ حائری کی تحریر اور جلاء العیون کی روایت اور دیگر صحیح حالات سے جو حضرت علی المرتضیٰؓ کی زاہدانہ اور صوفیانہ پوزیشن کے متعلق کتب طرفین میں لکھے ہیں صاف ثابت ہوتا ہے کہ آپ کو ایسی پوشاکوں سے جو ایک طالبِ دنیا شخص کی خاصیات سے ہے بالکل کچھ غرض نہ تھی۔ ایسی بیش قیمت پوشاک کا استعمال اسراف و تبذیر میں داخل ہے جو ایک متقی مؤمن پسند نہیں کرتا چہ جائیکہ علی المرتضیٰؓ جیسی متقی متورّع تارک الدنیا عالی مرتبت امام کی نسبت خیال کیا جائے کہ وہ ایسے ریشمی اور طلائی پارچات استعمال کیا کرتے تھے۔

اصحابِ رسولﷺ کو دنیا داروں کی طرح زیب و زینت سے سخت نفرت تھی۔ چنانچہ یہ مانی ہوئی بات ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ  عنہ باوجود یہ کہ اپنے وقت کے بادشاہ تھے لیکن آپؓ کی چادر اور کرتہ پر متعدد پیوند لگے ہوتے تھے بلکہ آپؓ کے عاملان (گورنران) سے جس شخص کی نسبت اطلاع ملتی کہ وہ باریک ململ کی قمیص استعمال کرتے ہیں فوراً ان کو طلب کر کے تنبیہ کر دی جاتی بلکہ ان کو اپنے منصبِ جلیل سے معزول کر دیا جاتا۔

پھر جب شیعانِ علی شجاعتِ مآب کو باقی خلفاء پر زہد تقویٰ میں ترجیح دیتے ہیں تو ایسی روایات شائع کرنے سے ان کو تامل کرنا چاہیے جس سے حضور ممدوح کی شانِ تقدس کو بٹہ لگتا ہے۔

دوم: اگر مان لیا جائے کہ حضرت علی المرتضیٰؓ نے ایسی ریشمی طلائی چادر اوڑھ رکھی تھی اور نماز پڑھ رہے تھے تو پھر یہ بات قرینِ قیاس نہیں ہے کہ سائل جو آپؓ کو نماز کی حالت میں دیکھ رہا تھا اتنا بھی انتظار نہ کرے کہ آپؓ نماز سے فارغ ہو لیں۔ ایسی جلد بازی تو کوئی اندھا شخص بھی نہیں کر سکتا۔ وہ اپنے ساتھی (راہ نما) سے پہلے دریافت کر لیتا ہے کہ مسئول عنہ کس حالت میں ہے۔ پھر اگر سائل نے ایسی حماقت کی تو پھر سیدنا علی المرتضیٰؓ جن کی نسبت مشہور ہے کہ نماز پڑھنے کے وقت آپؓ ایسے استغراق میں ہوتے کہ دنیا و مافیہا سے کچھ خبر نہ رہتی پھر ایسی حالت استغراق میں ایک گداگر کی بک بک کی آواز آپؓ کے کانوں تک کس طرح پہنچ سکتی؟ اور یہ بھی تسلیم کیا جائے کہ آپؓ کی نماز خشوع و خضوع سے خالی تھی یعنی استغراق تام نہیں تھا آپؓ نے سائل کی آواز سن لی تو پھر نماز کی حالت میں فعلِ کثیر چادر اتار پھینکنا اور پھر سائل کو اشارہ کرنا کہ یہ لے جا۔ کیا معنیٰ رکھتا ہے؟ جب فرض نماز ادا کر رہے تھے تو اس کی تکمیل کیے بغیر دوسرے فرض ادائے زکوٰۃ کی طرف متوجہ ہونا کیا ضروری تھا؟ اگر آپؓ نے سائل کو حلہ دینا تھا تو نماز سے فارغ ہو کر بھی دے سکتے تھے۔

سوئم: آیت میں وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ وَهُمۡ رَاكِعُوۡنَ‏ 

(سورۃالمائدہ: آیت 55) 

لکھا ہے یعنی وہ زکوٰۃ دیتے اور نماز پڑھتے ہیں اور روایتِ موضوعہ سے سائل کو چادر قیمتی ایک ہزار دینار کا ذکر ہے کیا ادائے زکوٰۃ کا یہ طریق ہے؟ اس سے پہلے یہ ثابت کر دینا چاہیے کہ جناب امیرؓ صاحبِ زکوٰۃ تھے اور اس قدر مال رکھتے تھے کہ اس کی زکوٰۃ ایک ہزار دینار آپؓ کے ذمہ واجب تھی۔ اگر شیعہ صاحبان ایڑی چوٹی کا بھی زور لگائیں تو یہ ثابت نہیں کر سکتے تو جب آپؓ صاحبِ زکوٰۃ نہ تھے اور نہ اس قدر زکوٰۃ آپؓ کے ذمہ واجب تھی تو پھر وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ "وہ دیتے ہیں زکوٰۃ" کا مفہوم صیح نہیں ہو سکتا غرض یہ روایت بالکل عقل و قیاس کے خلاف اور یار لوگوں کی بنائی ہوئی ہے۔ ایسی وضعی روایات سے تمسک کر کے شیعہ حضرات خلافتِ بلافصل علی المرتضیٰؓ کے بار ثبوت سے سبکدوش نہیں ہو سکتے۔