رابعا والد کے قتل کے بعد کے وہ خطبے جن کی نسبت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی جانب صحیح نہیں ہے
علی محمد الصلابیاس مبحث کو یہاں اس لیے ذکر کر رہا ہوں تاکہ باطل بتا کر لوگوں کو اس سے روکا جائے، جیسا کہ شاعر کہتا ہے:
عرفت الشر لا للشر لکن لتوقیہ و من لا یعرف الشر من الخیر یقع فیہ
’’میں نے برائی کی معرفت صرف برائی سے بچنے کے لیے حاصل کی ہے، جو برائی کو بھلائی سے الگ نہیں کرسکتا اس کا مرتکب ہوجاتا ہے۔‘‘
شیعہ اثنا عشریہ نے بہت سارے خطبوں کو گھڑ کر غلط طریقے سے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی جانب منسوب کر دیا ہے، چند نمونے پیش خدمت ہیں:
أیہا الناس من عرفنی فقد عرفنی، و من لم یعرفنی فأنا الحسن بن علی۔ أنا البشیر، أنا ابن النذیر، أنا ابن الداعی إلی اللّٰہ عزوجل بإذنہ، أنا ابن السراج المنیر، و أنا من أہل البیت الذین أذہب اللّٰہ عنہم الرجس و طہرہم تطہیرا، والذین افترض اللّٰہ مودتہم فی کتابہ إذ یقول (وَمَنْ یَّقْتَرِفْ حَسَنَۃً نَّزِدْ لَہٗ فِیْہَا حُسْناً) (سورۃ الشوری: آیۃ 23) فاقتراف الحسنۃ مودتنا أہل البیت۔))
(مقاتل الطالبیین لأبی الفرج الاصفہانی: صفحہ 51، 52)
’’جو مجھے پہچانتا ہے پہچانتا ہے، جو نہیں پہچانتا ہے وہ جان لے کہ میں حسن بن علی (رضی اللہ عنہما) ہوں، میں بشیر ہوں، نذیر، داعی الی اللہ اور سراج منیر کا بیٹا ہوں، میں اہل بیت میں سے ہوں، جن کی (ہر قسم کی) گندگی کو اللہ نے دور کردیا ہے اور انھیں خوب اچھی طرح پاک کردیا ہے، جن کی محبت کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرض کرتے ہوئے کہا ہے جو شخص کوئی بھلائی کمائے گا ہم اس کے لیے اس نیکی میں اور نیکی بڑھا دیں گے، یہاں نیکی کرنے سے مراد ہم اہل بیت کی محبت ہے۔‘‘
(حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں) ابو الاسود دؤلی کا ایک خطبہ گھڑتے ہوئے کہا ہے:
ثم بکی حتی اختلفت أضلاعہ ثم قال: و قد أوصی بالإمامۃ بعدہ إلی ابن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم و ابنہ و سلیلہ و شبیہہ فی خلقہ و ہدیہ و إنی لأرجو أن یجبر اللّٰہ بہ ما وہي، و یسد بہ ما انثلم و یجمع بہ الشمل و یطفیٔ بہ نیران الفتنۃ فبایعوہ ترشدوا۔
’’پھر وہ (ابو الاسود دؤلی) اس شدت سے رونے لگے کہ ان کی پسلیاں حرکت کرنے لگیں، پھر کہا: آپ (علی رضی اللہ عنہ ) نے اپنے بعد نواسۂ رسول، اپنے بیٹے، اخلاق و اطوار میں اپنے شبیہ کے لیے امامت کی وصیت کی، مجھے بلاشبہ امید ہے کہ امت کو لاحق کمزوری اللہ تعالیٰ آپ کے ذریعہ سے دور کردے گا اور جو دراڑ پڑ گئی ہے ختم کردے گا، آپ کے ذریعہ سے اتفاق و اتحاد پیدا کرکے فتنے کی آگ کو بجھا دے گا، اس لیے ان کے لیے بیعت کرلو رشد و ہدایت پر رہو گے۔‘‘
چنانچہ تمام شیعہ نے بیعت کرلی، صرف انھی لوگوں نے بیعت نہیں کی جو عثمانی رائے رکھتے تھے، اور وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس چلے گئے۔
(الأغانی لابی الفرج الأصفہانی: جلد 1 صفحہ 121)
ان لوگوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو بھیجے گئے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ان طویل خطوط کا ذکر کیا ہے جن میں سیدنا معاویہؓ انھیں اپنی بیعت کی دعوت دیتے ہیں، اپنی دلیل دیتے ہیں، اپنے زیادہ حق دار ہونے کو ثابت کرتے ہیں، حالانکہ یہ خطوط سند اور متن کے اعتبار سے ثابت نہیں ہیں، وہ صرف صحیح سندوں سے عاری شیعوں کی کتابوں میں مذکور ہیں، ساتھ ہی ان باتوں سے متعارض ہیں جو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے ان کی خلافت کے بارے میں ثابت ہیں۔
(الوثائق السیاسیۃ و الإداریۃ العائدۃ للعصر الاموی محمد ماہر حمادۃ: صفحہ 90 تا 95)
ان کتابوں کے بارے میں علمائے اہل سنت نے مفصل گفتگو کی ہے، ان کی خامیوں اور خرابیوں کو واضح کیا ہے، اور یہ ثابت کیا ہے کہ یہ کتابیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے تعلقات، معاملات اور عقائد میں لائق حجت نہیں ہیں، سابقہ نصوص کے رد کے لیے یہ بات کافی ہے کہ وہ اصفہانی کی کتابوں ’’مقاتل الطالبیین‘‘ اور ’’الأغانی‘‘ سے ماخوذ ہیں۔ اصفہانی اور اس کی کتاب کے بارے میں علماء نے کلام کیا ہے۔
اصفہانی مؤلف کتاب ’’الأغانی‘‘
ابوالفرج اصفہانی کی کتاب ’’الأغانی‘‘ ادب، قصے، کہانیوں، گانوں اور خرافات و بے شرمی پر مشتمل کتاب ہے، کوئی علمی، تاریخی اور فقہی کتاب نہیں ہے، اہل ادب و تاریخ کے یہاں اس کا بڑا شہرہ اور چرچا ہے، علماء نے عصر قدیم میں اس کے بارے میں کلام کیا ہے ان کے اقوال درج ذیل ہیں:
خطیب بغدادی رحمہ اللہ کا قول ہے: ابوالفرج اصفہانی بہت جھوٹا شخص تھا، وہ بہت سارے صحیفوں کو خریدتا تھا اس کی تمام روایتیں انھی صحیفوں سے ماخوذ ہوتی تھیں۔
ابن الجوزی رحمہ اللہ کا قول ہے: اس جیسے شخص کی روایت پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا ہے، اس کی کتابوں میں ایسی چیزیں پائی جاتی ہیں جو اسے لازماً فاسق قرار دیتی ہیں اور شراب کی قباحت کو کم کر دیتی ہیں، بسا اوقات اسی چیز کو وہ اپنے بارے میں بیان کرتا ہے، جو کتاب ’’الأغانی‘‘ کو غور سے دیکھے گا اسے اس میں ہر قبیح و منکر چیز ملے گی۔
(المنتظم: جلد 7 صفحہ 40، 41)
امام ذہبی رحمۃاللہ کا قول ہے: میں نے اپنے شیخ تقی الدین ابن تیمیہ کو پایا کہ آپ اسے (اصفہانی کو) نقل و روایت میں ضعیف اور متہم قرار دیتے تھے، اور یہ کہ جو کچھ وہ ذکر کرتا تھا اسے بڑھا چڑھا کر پیش کرتا تھا۔
(میزان الاعتدال: جلد 3 صفحہ 123)
اس کے بارے میں بعض معاصرین کے اقوال:
فلپ حتی کی کتاب The History of Arabs کے مصادر کا جائزہ لیتے ہوئے شوقی ابوخلیل کہتے ہیں:
’’حتی نے اصفہانی کی کتاب ’’الأغانی‘‘ پر اعتماد کیا ہے، جب کہ وہ کوئی معتمد علیہ تاریخی کتاب نہیں ہے، وہ تو ادب کی کتاب ہے، اس کا یہ مطلب نہیں کہ کسی بھی ادبی کتاب پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا، بلکہ صاحبِ کتاب اگر ثقہ ہو اور نقل و روایت میں امین ہو تو اس پر اعتماد کیا جاسکتا ہے، کتاب ’’الأغانی‘‘ جسے حتی نے معتمد تاریخی مرجع مانا ہے اس کے مؤلف کی ادبی و تاریخی امانت متہم ہے۔ ’’میزان الاعتدال فی نقد الرجال‘‘ میں ہے کہ اصفہانی ’’حدثنا‘‘ و ’’أخبرنا‘‘ کے ذریعہ سے اپنی کتاب ’’الأغانی‘‘ میں عجیب وغریب چیزیں ذکر کرتا ہے، جو بھی ’’الأغانی‘‘ پڑھے گا وہ عباسیوں کی زندگی کو لہو و لعب، بے حیائی، گانوں اور شرابوں سے بھرپور پائے گا، یہ باتیں مؤلف کی زندگی اور اس کے خیالات سے ہم آہنگ ہیں، جو بھی تاریخ کی صحیح کتابوں کا مراجعہ کرے گا تو وہ صورت حال بالکل مختلف پائے گا کہ ان کی زندگی علم و ادب اور جہاد کی زندگی تھی، اس لیے کتاب ’’الاغانی‘‘ لائق حجت تاریخ کی کتاب نہیں ہے۔‘‘
(موضوعیۃ فلیب حتی فی کتابہ تاریخ العرب المطول: صفحہ 187)
ابو عبیدہ مشہور بن حسن آل مشہور کا قول ہے: ایک اہم معاملے کا تذکرہ جسے بعض باحثین جانتے ہیں ضروری ہے وہ یہ کہ ابوالفرج کے شیعی رجحانات و خیالات کا اس کی اس کتاب میں نمایاں کردار رہا ہے۔
ڈاکٹر محمد احمد خلف اللہ اپنی کتاب ’’ابوالفرج الأصفہانی‘‘ کے خاتمہ میں کہتے ہیں:
’’ابوالفرج کے (شیعی) خیالات و رجحانات سے ہمیں واقفیت ہوچکی، اس لیے ہمیں ان سے بچنا چاہیے، اس شخص کی روایتوں پر جب جب اعتماد کرنے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ کبھی وہ گمراہ کرنے والا ہوتا ہے، کبھی اس کی ذاتی رائے اور رجحان کا دخل ہوتا ہے۔ تاریخ میں ذاتی رجحانات کا حکم بالکل واضح ہے، اس حکم کے مطابق بسا اوقات وہ دوسروں پر اپنی رغبت تھوپ دیتا ہے، صرف خبروں کے ذکر ہی میں نہیں بلکہ خبروں کو چھپانے میں بھی۔‘‘
(ابوالفرج الاصفہانی: صفحہ 235، کتب حذر منہا العلماء: جلد 2 صفحہ 30)
بعض لوگ سوال کرتے ہیں: اس کتاب سے اتنی تفصیلی ممانعت کیوں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس ممانعت کے بہت سارے اسباب ہیں جو درج ذیل ہیں:
1۔ اس کتاب کی دور دور تک شہرت کے باعث۔
2۔ اس پر بہت سارے اہل مغرب کے اعتماد کے باعث۔
3۔ اس کتاب کے اسلام، خلفاء، صحابہ کرام اور صالح و عادل فرماں رواؤں کی تنقید کی خبروں پر مشتمل ہونے کے باعث۔
4۔ بہت سارے معاصرین کی اس حرص کے باعث کہ وہ اس کتاب میں مذکور باتوں کو ثابت کریں کہ وہ درست اور سچی ہیں، جیسا کہ شفیق جبری نے اپنی کتاب ’’دراسۃ الأغانی‘‘ میں کیا ہے جسے اس نے طٰہٰ حسین کی ہمت افزائی کے نتیجے میں لکھا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ ادبی اہمیت اور مؤثر و قوی اسلوب کے باوجود اس کتاب کی خبریں اور اس کے مواد غور طلب اور تنقید و تنقیح کے محتاج ہیں۔
(کتب حذر منہا العلماء: جلد 2 صفحہ 30، 32)
’’السیف الیمانی فی نحر الأصفہانی‘‘ کے مقدمے میں ولید اعظمی کہتے ہیں:
یہاں سے میں کتاب ’’الأغانی‘‘ پر نئے سرے سے غور کرنے لگا، جب تضعیف و توثیق، جرح و تعدیل کی کتابوں کا مراجعہ کیا تو پتہ چلا کہ اصفہانی قابل اطمینان نہیں ہے، ہمارے محقق علماء کبار کے نزدیک وہ ثقہ نہیں ہے، میں نے اپنی عمر کے مکمل دو سال کتاب الأغانی پر لگائے، اس کے نصوص و اقوال کی چھان پھٹک کرتا رہا، ہر خبر کا جائزہ لیتا رہا، اس کی ایک ایک سطر اور ایک ایک کلمے کی جانچ پڑتال کی، اس کی خامیوں اور خرابیوں کو اجاگر کیا، سرحدوں کی حفاطت پر مامور مجاہدین کی طرح میں نے اس پر صبر کیا، نتیجتاً سینوں میں کینہ و شعوبیت کی آگ کو ہانڈی کی طرح جوش مارتے ہوئے پایا، دشمنوں کی تیروں کا نشانہ ہم ہیں، ان کی ہم پر بوچھار ہو رہی ہے۔ میں شاعر کا یہ شعر دہرانے لگا:
لو کان سہما واحدا لا تقیتہ
و لکنہ سہم، و ثان و ثالث
'’اگر ایک تیر ہوتی تو میں اس سے بچاؤ کر لیتا، لیکن تیروں کی بوچھار ہے۔‘‘
بنابریں میں پوری طرح مستعد ہوگیا کہ حقیقت و غیر حقیقت، شہد و زہر کو الگ الگ کر دوں، اصفہانی نے جن لوگوں سے روایت کیا ہے ان کا جائزہ لینے لگا، اسماء الرجال کی کتابوں میں انھیں تلاش کرنے لگا، ان کے بارے میں وارد اقوال کو پڑھنے لگا تو ان میں ہر طرح کی خرابی پائی، انھیں کذاب، مجروح اور مطعون پایا، ان کذابوں کو چھانٹ کر الگ کیا، ان کا تعارف کرایا، پھر اصفہانی نے ہر راوی سے جو روایتیں درج کی ہیں ان کا احصاء کرنے لگا، چنانچہ دیکھا کہ ان کذابوں پر اس حد تک اعتماد کیا ہے اور ان سے اتنی روایت اور استفادہ کیا ہے کہ میں مبہوت ہو کر رہ گیا، اور اپنے آپ کو پایا کہ میں ایک دور دراز اور خوفناک وادی میں ہوں، ایک نہایت تکلیف دہ تاریک غار میں داخل ہوگیا ہوں۔
جب یہ راوی احادیث نبویہ کی روایت میں جھوٹ بول سکتے ہیں تو لوگوں کی خبروں کی بات ہی اور ہے، یہ مختلف مذاہب، فرقوں اور گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں، ان کے رجحانات و خیالات اور منفعتیں انھیں اپنی جانب کھینچ لیتی ہیں، ان کے اہداف و مقاصد انھیں جہاں چاہتے ہیں لے جاتے ہیں۔ کتاب ’’الآغانی‘‘ علم و فقہ اور تاریخ کے بجائے ادب، قصے، کہانیوں اور گانوں کی کتاب ہے، لیکن اس کے معنی یہ نہیں کہ اس میں موجود عیوب، دوسروں کی تنقیص و تجریح اور صریح جھوٹ پر خاموش رہا جائے۔
اصفہانی نے اس میں سیرت نبوی، تفسیر، فقہ اور ادب کی ساری خبروں کو جمع کیا ہے، جیسا کہ وہ (ولید اعظمی) کہتے ہیں۔ دوسری فصل میں اصفہانی نے اہل بیتؓ کے بہت سارے واقعات اور اخبار کو ذکر کیا ہے، یہ خبریں ان کی برائیاں بیان کرتی ہیں، ان کی سیرت کو مجروح کرتی ہیں، ان آل بویہ کی خواہش کے مطابق ان کے معاملے کو کمزور ثابت کرتی ہیں جو جھوٹ اور غلط طور پر اپنے اس خیال کا اظہار کرتے ہیں کہ ولاء آل بیت کے لیے ہونا چاہیے۔ ان خبروں کی میں نے چھان بین کی ہے، ہر واقعے پر مناسب نوٹ لکھا ہے۔
چوتھی فصل کو ایسی متفرق اخبار و حکایات کے لیے خاص کیا ہے جن میں اس نے اسلامی عقائد اور دین اسلام کو مطعون و ملعون قرار دیا ہے، جاہلیت کو اسلام سے افضل بتایا ہے، نماز، حج اور یوم آخرت کا صراحۃً انکار کیا اور مذاق اڑایا ہے، برامکہ کا دفاع کیا ہے، اہل فارس کی تعریف کی ہے، عرب اور مسلمانوں کے مشہور ترین لوگوں کو مختلف طریقے سے مطعون کیا ہے، ان خبروں کی بھی میں نے چھان بین کی ہے اور ہر ایک پر مناسب نوٹ لکھا ہے۔‘‘
(السیف الیمانی: صفحہ 10 تا 13)
خاتمہ میں کہتے ہیں: ابوالفرج اصفہانی کی کتاب ’’الأغانی‘‘ کے اس تفصیلی جائزے، اس کی خبروں سے واقفیت، ان کی چھان بین اور ہر ایک پر مناسب تعلیق کے بعد مجھے امید ہے کہ قاری کو اس کمینے اور حاقد شعوبی کے مقاصد کا پتہ چل گیا ہوگا، میں نے بہت سارے ایسے گندے اور گھناؤنے واقعات سے صرفِ نظر کیا ہے جنھیں عربوں اور مسلمانوں کا شدید ترین دشمن بھی نہیں لکھ سکتا ہے۔ ادب اور قصے کہانیوں کی آڑ میں ان کی بہت ساری کبار شخصیات پر لواطت اور ان کی شریف عورتوں پر ہم جنسی کی تہمت لگائی ہے، بہت سارے برے افعال اور مذموم عادات سے ان کا منہ کالا کردیا ہے، تابناک تاریخ اور عمدہ اخلاق والے اس امت کے سلف کو برا بھلا کہنے کے بعد ہی یہ باتیں وجود میں آسکتی ہیں۔
(السیف الیمانی: صفحہ 264)
انور جندی کا قول ہے: مغرب زدہ بنانے کے مشن اور تہذیبی یلغار نے ’’الأغانی‘‘ اور ’’ألف لیلۃ و لیلۃ‘‘ دونوں کتابوں پر بڑا زور دیا ہے تاکہ انھیں اسلامی معاشرے کی تصویر کشی میں معتمد علیہ بنیادی مصادر و مراجع میں شامل کردیں، دونوں کتابوں کے ان عیوب سے چشم پوشی کی ہے جن کی وجہ سے یہ موثوق اور معتمد علیہ مراجع میں شامل نہیں ہوسکتیں، پہلی کتاب کا مؤلف اسلام کا دشمن شعوبی ہے۔ دوسری کتاب غیر معروف ہے۔
کتاب ’’الأغانی‘‘ بیس سے زیادہ جلدوں پر مشتمل مفصل کتاب ہے، ابوالفرج اصفہانی نے اس کی تالیف محض اس مقصد سے کی ہے تاکہ راتوں میں قصہ گوئی کی محفلوں میں امراء اور بیکار و آسودہ حال لوگوں کو قصے کہانیاں سنائے، اس کتاب سے علم و تاریخ مقصود نہیں ہے۔
اصفہانی خود عربوں اور مسلمانوں کے معاشرے کو پسند نہیں کرتا تھا، پیدائشی اور فکری طور پر اس کا میلان دشمنانِ اسلام، باطنیوں اور رافضیوں وغیرہ کی جانب تھا، اس کا یہ طرز عمل ایک سخت قسم کی جنگ تھی جو شعوبیوں نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف چھیڑ رکھی تھی، تاکہ ان کے معاشرے کو تباہ کرنے کے لیے پہلے ان کی فکر کو تباہ کردیا جائے، مغربیت کے علمبردار اور درآمدہ مغرب کی ادبی تنقید کے قائلین کی یہ کوشش رہی ہے کہ اس کتاب کو خوب شہرت اور رواج دیں اور ادبی تحریروں کے لیے اسے ایک قابل اعتبار مرجع اور اسلامی معاشرے کی تصویر کشی کا اہم ذریعہ بنا دیں۔ ڈاکٹر طٰہٰ حسین (جزاہ اللّٰہ بما ہو أہلہ) ان میں پیش پیش رہے، چنانچہ انھوں نے ’’الأغانی‘‘ کے قصوں پر اعتماد کرتے ہوئے مسلمانوں کے معاشرے اور ان کی تاریخ سے متعلق بہت سارے غلط حکم صادر کیے تاکہ ان کے ذریعہ سے اس مغربیت کے پرچار میں اپنا کردار ادا کرسکیں، جو اس صدی کی تیسری دہائی میں زور شعور سے پھیل رہی تھی۔
(مؤلفات فی المیزان: صفحہ 100، کتب حذرالعلماء منہا: جلد 2 صفحہ 38)
نیز (انور جندی) کہتے ہیں: اصفہانی کی سیرت کا اگر تھوڑا سا بھی جائزہ لیا جائے تو اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ وہ شعوبی تھا، حصولِ مقصد کے لیے حیلہ سازی و مبالغہ آرائی میں معروف تھا، بہت سارے باحثین اور مؤرخین نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ مؤرخ نہیں تھا، اور اس کی کتاب تاریخی حیثیت کی حامل نہیں ہے، بلکہ وہ بازاروں اور کتابوں میں موجود گانوں اور لوگوں کے قصے کہانیوں کو جمع کرنے والا تھا، ایسا اس نے صرف اس لیے کیا کہ ان چیزوں کو اس اسلامی معاشرے کا ایک حصہ قرار دے دے جو بہت سارے سیاسی، اجتماعی اور فقہی پہلوؤں سے بھرپور معاشرہ تھا، بہت سے معاصرین و مؤرخین نے اس کے انحراف کی شہادت دی ہے، مؤرخ یوسفی نے ایسی شہادت دی ہے جو علماء کی نظر میں موثوق و معتبر مرجع کی حیثیت رکھتی ہے، چنانچہ وہ کہتے ہیں: ابوالفرج بہت جھوٹا ہے، وہ اوراق بیچنے والوں کے بازار میں جاتا، جہاں کتابوں سے بھرپور کچھ دکانیں ہوتیں، وہاں سے بہت ساری چیزیں خرید کر گھر لاتا، پھر انھی سے اپنی روایتوں کو تیار کرتا۔
(کتب حذر العلماء منہا: جلد 2 صفحہ 38)
اس کے بارے میں صاحب ’’معجم الأدباء‘‘ کہتے ہیں: شراب نوشی، امرد پرستی، عورتوں کے اوصاف بیان کرنے میں اس کا معاملہ اپنے ہم عصر اور اپنے سے پہلے کے ادباء و شعراء جیسا تھا، وہ شراب فروش تاجروں کے پاس جاتا، جن کی اکثریت یہود و نصاریٰ، صابیوں اور مجوسیوں کی تھی، شراب نوشی میں معروف تھا، جسم اور کپڑوں کی صفائی کا خیال نہیں رکھتا تھا۔
(معجم الأدباء: جلد 5 صفحہ 153)
انور جندی مزید کہتے ہیں: میں نہیں سمجھ پاتا کہ ایسی کتاب باحثین کی نظر میں مرجع کیسے بن سکتی ہے؟ یا اس کی کوئی رائے یا قول قابلِ اطمینان کیسے ہوسکتا ہے؟ فکر اسلامی کے مناہج نے ہمیں اس بات کا عادی بنا دیا ہے کہ اس پر کسی بھی لکھنے والے کے بارے میں دیکھیں، اگر وہ شریف، امین، اپنی حق گوئی و سچائی کے باعث لوگوں کے نزدیک محترم ہو تو ہم اس کی تحریر کو قبول کرلیں، ورنہ رد کردیں وہ اپنی بعض تحریروں میں سچا ہو۔
(مؤلفات فی المیزان: صفحہ 100 تا 103)
پھر زیر عنوان ’’کتاب مجون و خلاعۃ‘‘ کہتے ہیں: اصفہانی حد سے تجاوز کرنے والا تھا، لذتوں اور شہوتوں میں درجۂ قباحت و شناعت تک پہنچ جاتا تھا، اس کی اس اخلاقی ساخت کا اس کی کتاب میں نمایاں اثر تھا، کتاب ’’الأغانی‘‘ بے حیائی و فحاشی کے واقعات سے بھری پڑی ہے، وہ جب ادباء و شعراء پر گفتگو کرتا ہے تو ان کے شخصی اخلاق کے کمزور پہلوؤں کا تذکرہ کرتا ہے اور سنجیدہ پہلوؤں کو نمایاں طور سے چھوڑ دیتا ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ غسل، صفائی، ستھرائی، وقار اور سنجیدگی کی باتوں پر بہت کم توجہ دیتا تھا، اصفہانی کے اس پہلو نے اس پر اعتماد کرنے والے مصنفین کی بہت سی آراء کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ جرجی زیدان نے اپنی کتاب ’’تاریخ آداب اللغۃ العربیۃ‘‘ اور طٰہٰ حسین نے اپنی کتاب ’’حدیث الأربعاء‘‘ میں جو کچھ لکھا ہے اس پر ایک طائرانہ نظر اس یقین کے لیے کافی ہوگی کہ کتاب ’’الأغانی‘‘ پر اعتماد ہی کے باعث ان دونوں باحثین نے عصر عباسی کے عام لوگوں کے اخلاقی انحطاط کا ذکر کیا ہے اور یہ حکم لگایا ہے کہ عصر عباسی فسق و فجور اور بے حیائی و بیہودگی کا زمانہ تھا، بلاشبہ شعراء کی غلطیوں اور ادباء کی لغزشوں کی من جانب اصفہانی بکثرت تلاش و جستجو نے اس کتاب کو گناہ اور گمراہی کی باتوں سے بھر دیا ہے، اور لوگوں میں یہ غلط بات عام کردی ہے کہ عبقریت کا تعلق عیش پرستی اور بیہودگی سے ہوتا ہے۔‘‘
(مؤلفات فی المیزان: صفحہ 100 تا 103، نقلاً عن کتب حذر العلماء منہا: جلد 2 صفحہ 40)
یہ بڑی خطرناک بات ہے کہ باحثین اس بات پر مطمئن ہوجائیں کہ ’’الأغانی‘‘ کی روایتوں کو تاریخی اہمیت و حیثیت حاصل ہے، اور انھی کی اساس پر تاریخی حقائق کو مرتب کریں۔ مغربیت کی ترویج کا یہ نہایت خطرناک کارنامہ رہا ہے کہ اس نے باحثین کو اس جانب متوجہ کردیا کہ انھوں نے اسلامی معاشرے کی تصویر کشی میں ’’الأغانی‘‘ کو مرجع اور مصدر کی حیثیت دے دی، جب کہ اس کتاب میں صرف حقوق اللہ (کی پامالیوں) سے متعلق باتیں ہیں، معاشرے کے بہت سارے دوسرے سنجیدہ پہلوؤں کو چھوڑ دیا ہے، اس لیے اس کتاب پر بحیثیت مصدر اعتماد کرنے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دوسری صدی ہجری میں مسلمانوں کی زندگی لہو و لعب والی تھی۔ طٰہٰ حسین نے اس کی صراحت کی ہے اور بہت سارے لوگوں نے اس کی تردید کی ہے، اور اس کے کھوٹ کو ظاہر کیا ہے۔
اسی طرح مستشرق ’’لامنس‘‘ نے اپنی کتاب ’’تاریخ بنی امیۃ‘‘ میں کتاب ’’الأغانی‘‘ پر اعتماد کیا ہے اور اسی طرح کی بات مستشرق ’’ولہاؤزن‘‘ نے اپنی کتاب ’’الدولۃ العربیۃ و سقوطہا‘‘ میں ذکر کیا ہے۔
جبور عبدالنور نے اصفہانی کا دفاع کرتے ہوئے سوال کیا ہے: کیا یہ ضروری ہے کہ مؤرخ جب فاسق اور لذتوں اور شہوتوں میں حد سے تجاوز کرنے والا ہو، تو وہ مؤرخ ہی باقی نہ رہے؟ اپنی روایتوں، باتوں اور تحریروں میں سچا نہ ہو؟ تو ہم اس کے جواب میں کہیں گے: ہاں، اگر مغربی فکر میں ایسا نہیں ہے تو یہ دوسری بات ہے، ہماری اسلامی فکر میں ایسا ہی ہے۔ فکر اسلامی نے باحث کے علم اور ا س کی شخصیت کے مابین ربط کی بنیاد پر بحث و نقد اور علم کے قواعد کو وضع کیا ہے، اگر اس کی زندگی میں انحراف، شخصیت میں اضطراب اور دین و اخلاق سے دوری ہو تو ہم اس کو ایک علمی مرجع کی حیثیت نہیں دیتے، اس کی شہادت کو قبول نہیں کرتے، اصفہانی کے موافقین و مخالفین سب اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ اس کی رائے ناقابل اعتبار اور اس کی شہادت ناقابلِ قبول ہے، اس کے فسق نے اس کی بہت ساری نفسانی خواہشات کو اس کی تحریروں میں داخل کردیا ہے، اس کے اجتماعی، اعتقادی اور فکری انحراف کی بات ہی الگ ہے جس نے اس کی آراء کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے، ساتھ ہی ساتھ کتاب ’’الأغانی‘‘ کوئی علمی مرجع نہیں ہے، بلکہ یہ دل بستگی، قصے اور کہانیوں کی کتاب ہے جو بعض عیش پرستوں کے خالی اوقات گزارنے کے لیے لکھی گئی ہے، اس لیے یہ کتاب کسی طرح علم کے لیے مصدر اور ادب و تاریخ کی بحث کے لیے مرجع نہیں ہوسکتی۔
(مؤلفات فی المیزان: صفحہ 100 تا 103)
ہماری تاریخ کو بگاڑنے میں اس کا اہم کردار رہا ہے اس لیے اس سے آگاہ کرنا اور روکنا واجب تھا۔