رابعا والد کے قتل کے بعد کے وہ خطبے جن کی نسبت سیدنا حسن…

رابعا والد کے قتل کے بعد کے وہ خطبے جن کی نسبت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی جانب صحیح نہیں ہے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 4

اس مبحث کو یہاں اس لیے ذکر کر رہا ہوں تاکہ باطل بتا کر لوگوں کو اس سے روکا جائے، جیسا کہ شاعر کہتا ہے:

عرفت الشر لا للشر لکن لتوقیہ و من لا یعرف الشر من الخیر یقع فیہ

’’میں نے برائی کی معرفت صرف برائی سے بچنے کے لیے حاصل کی ہے، جو برائی کو بھلائی سے الگ نہیں کرسکتا اس کا مرتکب ہوجاتا ہے۔‘‘

شیعہ اثنا عشریہ نے بہت سارے خطبوں کو گھڑ کر غلط طریقے سے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی جانب منسوب کر دیا ہے، چند نمونے پیش خدمت ہیں:

أیہا الناس من عرفنی فقد عرفنی، و من لم یعرفنی فأنا الحسن بن علی۔ أنا البشیر، أنا ابن النذیر، أنا ابن الداعی إلی اللّٰہ عزوجل بإذنہ، أنا ابن السراج المنیر، و أنا من أہل البیت الذین أذہب اللّٰہ عنہم الرجس و طہرہم تطہیرا، والذین افترض اللّٰہ مودتہم فی کتابہ إذ یقول (وَمَنْ یَّقْتَرِفْ حَسَنَۃً نَّزِدْ لَہٗ فِیْہَا حُسْناً) (سورۃ الشوری: آیۃ 23) فاقتراف الحسنۃ مودتنا أہل البیت۔)) 

(مقاتل الطالبیین لأبی الفرج الاصفہانی: صفحہ 51، 52)

’’جو مجھے پہچانتا ہے پہچانتا ہے، جو نہیں پہچانتا ہے وہ جان لے کہ میں حسن بن علی (رضی اللہ عنہما) ہوں، میں بشیر ہوں، نذیر، داعی الی اللہ اور سراج منیر کا بیٹا ہوں، میں اہل بیت میں سے ہوں، جن کی (ہر قسم کی) گندگی کو اللہ نے دور کردیا ہے اور انھیں خوب اچھی طرح پاک کردیا ہے، جن کی محبت کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرض کرتے ہوئے کہا ہے جو شخص کوئی بھلائی کمائے گا ہم اس کے لیے اس نیکی میں اور نیکی بڑھا دیں گے، یہاں نیکی کرنے سے مراد ہم اہل بیت کی محبت ہے۔‘‘

(حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں) ابو الاسود دؤلی کا ایک خطبہ گھڑتے ہوئے کہا ہے:

ثم بکی حتی اختلفت أضلاعہ ثم قال: و قد أوصی بالإمامۃ بعدہ إلی ابن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم و ابنہ و سلیلہ و شبیہہ فی خلقہ و ہدیہ و إنی لأرجو أن یجبر اللّٰہ بہ ما وہي، و یسد بہ ما انثلم و یجمع بہ الشمل و یطفیٔ بہ نیران الفتنۃ فبایعوہ ترشدوا۔

’’پھر وہ (ابو الاسود دؤلی) اس شدت سے رونے لگے کہ ان کی پسلیاں حرکت کرنے لگیں، پھر کہا: آپ (علی رضی اللہ عنہ ) نے اپنے بعد نواسۂ رسول، اپنے بیٹے، اخلاق و اطوار میں اپنے شبیہ کے لیے امامت کی وصیت کی، مجھے بلاشبہ امید ہے کہ امت کو لاحق کمزوری اللہ تعالیٰ آپ کے ذریعہ سے دور کردے گا اور جو دراڑ پڑ گئی ہے ختم کردے گا، آپ کے ذریعہ سے اتفاق و اتحاد پیدا کرکے فتنے کی آگ کو بجھا دے گا، اس لیے ان کے لیے بیعت کرلو رشد و ہدایت پر رہو گے۔‘‘

چنانچہ تمام شیعہ نے بیعت کرلی، صرف انھی لوگوں نے بیعت نہیں کی جو عثمانی رائے رکھتے تھے، اور وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس چلے گئے۔

(الأغانی لابی الفرج الأصفہانی: جلد 1 صفحہ 121)

ان لوگوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو بھیجے گئے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ان طویل خطوط کا ذکر کیا ہے جن میں سیدنا معاویہؓ انھیں اپنی بیعت کی دعوت دیتے ہیں، اپنی دلیل دیتے ہیں، اپنے زیادہ حق دار ہونے کو ثابت کرتے ہیں، حالانکہ یہ خطوط سند اور متن کے اعتبار سے ثابت نہیں ہیں، وہ صرف صحیح سندوں سے عاری شیعوں کی کتابوں میں مذکور ہیں، ساتھ ہی ان باتوں سے متعارض ہیں جو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے ان کی خلافت کے بارے میں ثابت ہیں۔

(الوثائق السیاسیۃ و الإداریۃ العائدۃ للعصر الاموی محمد ماہر حمادۃ:  صفحہ 90 تا 95)

ان کتابوں کے بارے میں علمائے اہل سنت نے مفصل گفتگو کی ہے، ان کی خامیوں اور خرابیوں کو واضح کیا ہے، اور یہ ثابت کیا ہے کہ یہ کتابیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے تعلقات، معاملات اور عقائد میں لائق حجت نہیں ہیں، سابقہ نصوص کے رد کے لیے یہ بات کافی ہے کہ وہ اصفہانی کی کتابوں ’’مقاتل الطالبیین‘‘ اور ’’الأغانی‘‘ سے ماخوذ ہیں۔ اصفہانی اور اس کی کتاب کے بارے میں علماء نے کلام کیا ہے۔

اصفہانی مؤلف کتاب ’’الأغانی‘‘

ابوالفرج اصفہانی کی کتاب ’’الأغانی‘‘ ادب، قصے، کہانیوں، گانوں اور خرافات و بے شرمی پر مشتمل کتاب ہے، کوئی علمی، تاریخی اور فقہی کتاب نہیں ہے، اہل ادب و تاریخ کے یہاں اس کا بڑا شہرہ اور چرچا ہے، علماء نے عصر قدیم میں اس کے بارے میں کلام کیا ہے ان کے اقوال درج ذیل ہیں:

 خطیب بغدادی رحمہ اللہ کا قول ہے: ابوالفرج اصفہانی بہت جھوٹا شخص تھا، وہ بہت سارے صحیفوں کو خریدتا تھا اس کی تمام روایتیں انھی صحیفوں سے ماخوذ ہوتی تھیں۔

 ابن الجوزی رحمہ اللہ کا قول ہے: اس جیسے شخص کی روایت پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا ہے، اس کی کتابوں میں ایسی چیزیں پائی جاتی ہیں جو اسے لازماً فاسق قرار دیتی ہیں اور شراب کی قباحت کو کم کر دیتی ہیں، بسا اوقات اسی چیز کو وہ اپنے بارے میں بیان کرتا ہے، جو کتاب ’’الأغانی‘‘ کو غور سے دیکھے گا اسے اس میں ہر قبیح و منکر چیز ملے گی۔

(المنتظم: جلد 7 صفحہ 40، 41)

 امام ذہبی رحمۃاللہ کا قول ہے: میں نے اپنے شیخ تقی الدین ابن تیمیہ کو پایا کہ آپ اسے (اصفہانی کو) نقل و روایت میں ضعیف اور متہم قرار دیتے تھے، اور یہ کہ جو کچھ وہ ذکر کرتا تھا اسے بڑھا چڑھا کر پیش کرتا تھا۔

(میزان الاعتدال: جلد 3 صفحہ 123)

اس کے بارے میں بعض معاصرین کے اقوال:

فلپ حتی کی کتاب The History of Arabs کے مصادر کا جائزہ لیتے ہوئے شوقی ابوخلیل کہتے ہیں:

صفحہ 1 از 4