رابعا والد کے قتل کے بعد کے وہ خطبے جن کی نسبت سیدنا حسن…

رابعا والد کے قتل کے بعد کے وہ خطبے جن کی نسبت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی جانب صحیح نہیں ہے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 4

’’حتی نے اصفہانی کی کتاب ’’الأغانی‘‘ پر اعتماد کیا ہے، جب کہ وہ کوئی معتمد علیہ تاریخی کتاب نہیں ہے، وہ تو ادب کی کتاب ہے، اس کا یہ مطلب نہیں کہ کسی بھی ادبی کتاب پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا، بلکہ صاحبِ کتاب اگر ثقہ ہو اور نقل و روایت میں امین ہو تو اس پر اعتماد کیا جاسکتا ہے، کتاب ’’الأغانی‘‘ جسے حتی نے معتمد تاریخی مرجع مانا ہے اس کے مؤلف کی ادبی و تاریخی امانت متہم ہے۔ ’’میزان الاعتدال فی نقد الرجال‘‘ میں ہے کہ اصفہانی ’’حدثنا‘‘ و ’’أخبرنا‘‘ کے ذریعہ سے اپنی کتاب ’’الأغانی‘‘ میں عجیب وغریب چیزیں ذکر کرتا ہے، جو بھی ’’الأغانی‘‘ پڑھے گا وہ عباسیوں کی زندگی کو لہو و لعب، بے حیائی، گانوں اور شرابوں سے بھرپور پائے گا، یہ باتیں مؤلف کی زندگی اور اس کے خیالات سے ہم آہنگ ہیں، جو بھی تاریخ کی صحیح کتابوں کا مراجعہ کرے گا تو وہ صورت حال بالکل مختلف پائے گا کہ ان کی زندگی علم و ادب اور جہاد کی زندگی تھی، اس لیے کتاب ’’الاغانی‘‘ لائق حجت تاریخ کی کتاب نہیں ہے۔‘‘

(موضوعیۃ فلیب حتی فی کتابہ تاریخ العرب المطول: صفحہ 187)

 ابو عبیدہ مشہور بن حسن آل مشہور کا قول ہے: ایک اہم معاملے کا تذکرہ جسے بعض باحثین جانتے ہیں ضروری ہے وہ یہ کہ ابوالفرج کے شیعی رجحانات و خیالات کا اس کی اس کتاب میں نمایاں کردار رہا ہے۔

ڈاکٹر محمد احمد خلف اللہ اپنی کتاب ’’ابوالفرج الأصفہانی‘‘ کے خاتمہ میں کہتے ہیں: 

’’ابوالفرج کے (شیعی) خیالات و رجحانات سے ہمیں واقفیت ہوچکی، اس لیے ہمیں ان سے بچنا چاہیے، اس شخص کی روایتوں پر جب جب اعتماد کرنے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ کبھی وہ گمراہ کرنے والا ہوتا ہے، کبھی اس کی ذاتی رائے اور رجحان کا دخل ہوتا ہے۔ تاریخ میں ذاتی رجحانات کا حکم بالکل واضح ہے، اس حکم کے مطابق بسا اوقات وہ دوسروں پر اپنی رغبت تھوپ دیتا ہے، صرف خبروں کے ذکر ہی میں نہیں بلکہ خبروں کو چھپانے میں بھی۔‘‘

(ابوالفرج الاصفہانی: صفحہ 235، کتب حذر منہا العلماء: جلد 2 صفحہ 30)

بعض لوگ سوال کرتے ہیں: اس کتاب سے اتنی تفصیلی ممانعت کیوں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس ممانعت کے بہت سارے اسباب ہیں جو درج ذیل ہیں:

1۔ اس کتاب کی دور دور تک شہرت کے باعث۔

2۔ اس پر بہت سارے اہل مغرب کے اعتماد کے باعث۔

3۔ اس کتاب کے اسلام، خلفاء، صحابہ کرام اور صالح و عادل فرماں رواؤں کی تنقید کی خبروں پر مشتمل ہونے کے باعث۔

4۔ بہت سارے معاصرین کی اس حرص کے باعث کہ وہ اس کتاب میں مذکور باتوں کو ثابت کریں کہ وہ درست اور سچی ہیں، جیسا کہ شفیق جبری نے اپنی کتاب ’’دراسۃ الأغانی‘‘ میں کیا ہے جسے اس نے طٰہٰ حسین کی ہمت افزائی کے نتیجے میں لکھا ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ ادبی اہمیت اور مؤثر و قوی اسلوب کے باوجود اس کتاب کی خبریں اور اس کے مواد غور طلب اور تنقید و تنقیح کے محتاج ہیں۔

 (کتب حذر منہا العلماء: جلد 2 صفحہ 30، 32)

’’السیف الیمانی فی نحر الأصفہانی‘‘ کے مقدمے میں ولید اعظمی کہتے ہیں: 

یہاں سے میں کتاب ’’الأغانی‘‘ پر نئے سرے سے غور کرنے لگا، جب تضعیف و توثیق، جرح و تعدیل کی کتابوں کا مراجعہ کیا تو پتہ چلا کہ اصفہانی قابل اطمینان نہیں ہے، ہمارے محقق علماء کبار کے نزدیک وہ ثقہ نہیں ہے، میں نے اپنی عمر کے مکمل دو سال کتاب الأغانی پر لگائے، اس کے نصوص و اقوال کی چھان پھٹک کرتا رہا، ہر خبر کا جائزہ لیتا رہا، اس کی ایک ایک سطر اور ایک ایک کلمے کی جانچ پڑتال کی، اس کی خامیوں اور خرابیوں کو اجاگر کیا، سرحدوں کی حفاطت پر مامور مجاہدین کی طرح میں نے اس پر صبر کیا، نتیجتاً سینوں میں کینہ و شعوبیت کی آگ کو ہانڈی کی طرح جوش مارتے ہوئے پایا، دشمنوں کی تیروں کا نشانہ ہم ہیں، ان کی ہم پر بوچھار ہو رہی ہے۔ میں شاعر کا یہ شعر دہرانے لگا:

لو کان سہما واحدا لا تقیتہ

و لکنہ سہم، و ثان و ثالث

'’اگر ایک تیر ہوتی تو میں اس سے بچاؤ کر لیتا، لیکن تیروں کی بوچھار ہے۔‘‘

بنابریں میں پوری طرح مستعد ہوگیا کہ حقیقت و غیر حقیقت، شہد و زہر کو الگ الگ کر دوں، اصفہانی نے جن لوگوں سے روایت کیا ہے ان کا جائزہ لینے لگا، اسماء الرجال کی کتابوں میں انھیں تلاش کرنے لگا، ان کے بارے میں وارد اقوال کو پڑھنے لگا تو ان میں ہر طرح کی خرابی پائی، انھیں کذاب، مجروح اور مطعون پایا، ان کذابوں کو چھانٹ کر الگ کیا، ان کا تعارف کرایا، پھر اصفہانی نے ہر راوی سے جو روایتیں درج کی ہیں ان کا احصاء کرنے لگا، چنانچہ دیکھا کہ ان کذابوں پر اس حد تک اعتماد کیا ہے اور ان سے اتنی روایت اور استفادہ کیا ہے کہ میں مبہوت ہو کر رہ گیا، اور اپنے آپ کو پایا کہ میں ایک دور دراز اور خوفناک وادی میں ہوں، ایک نہایت تکلیف دہ تاریک غار میں داخل ہوگیا ہوں۔

جب یہ راوی احادیث نبویہ کی روایت میں جھوٹ بول سکتے ہیں تو لوگوں کی خبروں کی بات ہی اور ہے، یہ مختلف مذاہب، فرقوں اور گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں، ان کے رجحانات و خیالات اور منفعتیں انھیں اپنی جانب کھینچ لیتی ہیں، ان کے اہداف و مقاصد انھیں جہاں چاہتے ہیں لے جاتے ہیں۔ کتاب ’’الآغانی‘‘ علم و فقہ اور تاریخ کے بجائے ادب، قصے، کہانیوں اور گانوں کی کتاب ہے، لیکن اس کے معنی یہ نہیں کہ اس میں موجود عیوب، دوسروں کی تنقیص و تجریح اور صریح جھوٹ پر خاموش رہا جائے۔

اصفہانی نے اس میں سیرت نبوی، تفسیر، فقہ اور ادب کی ساری خبروں کو جمع کیا ہے، جیسا کہ وہ (ولید اعظمی) کہتے ہیں۔ دوسری فصل میں اصفہانی نے اہل بیتؓ کے بہت سارے واقعات اور اخبار کو ذکر کیا ہے، یہ خبریں ان کی برائیاں بیان کرتی ہیں، ان کی سیرت کو مجروح کرتی ہیں، ان آل بویہ کی خواہش کے مطابق ان کے معاملے کو کمزور ثابت کرتی ہیں جو جھوٹ اور غلط طور پر اپنے اس خیال کا اظہار کرتے ہیں کہ ولاء آل بیت کے لیے ہونا چاہیے۔ ان خبروں کی میں نے چھان بین کی ہے، ہر واقعے پر مناسب نوٹ لکھا ہے۔

صفحہ 2 از 4