رابعا والد کے قتل کے بعد کے وہ خطبے جن کی نسبت سیدنا حسن…

رابعا والد کے قتل کے بعد کے وہ خطبے جن کی نسبت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی جانب صحیح نہیں ہے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 4

چوتھی فصل کو ایسی متفرق اخبار و حکایات کے لیے خاص کیا ہے جن میں اس نے اسلامی عقائد اور دین اسلام کو مطعون و ملعون قرار دیا ہے، جاہلیت کو اسلام سے افضل بتایا ہے، نماز، حج اور یوم آخرت کا صراحۃً انکار کیا اور مذاق اڑایا ہے، برامکہ کا دفاع کیا ہے، اہل فارس کی تعریف کی ہے، عرب اور مسلمانوں کے مشہور ترین لوگوں کو مختلف طریقے سے مطعون کیا ہے، ان خبروں کی بھی میں نے چھان بین کی ہے اور ہر ایک پر مناسب نوٹ لکھا ہے۔‘‘

(السیف الیمانی: صفحہ 10 تا 13)

خاتمہ میں کہتے ہیں: ابوالفرج اصفہانی کی کتاب ’’الأغانی‘‘ کے اس تفصیلی جائزے، اس کی خبروں سے واقفیت، ان کی چھان بین اور ہر ایک پر مناسب تعلیق کے بعد مجھے امید ہے کہ قاری کو اس کمینے اور حاقد شعوبی کے مقاصد کا پتہ چل گیا ہوگا، میں نے بہت سارے ایسے گندے اور گھناؤنے واقعات سے صرفِ نظر کیا ہے جنھیں عربوں اور مسلمانوں کا شدید ترین دشمن بھی نہیں لکھ سکتا ہے۔ ادب اور قصے کہانیوں کی آڑ میں ان کی بہت ساری کبار شخصیات پر لواطت اور ان کی شریف عورتوں پر ہم جنسی کی تہمت لگائی ہے، بہت سارے برے افعال اور مذموم عادات سے ان کا منہ کالا کردیا ہے، تابناک تاریخ اور عمدہ اخلاق والے اس امت کے سلف کو برا بھلا کہنے کے بعد ہی یہ باتیں وجود میں آسکتی ہیں۔

(السیف الیمانی: صفحہ 264)

انور جندی کا قول ہے: مغرب زدہ بنانے کے مشن اور تہذیبی یلغار نے ’’الأغانی‘‘ اور ’’ألف لیلۃ و لیلۃ‘‘ دونوں کتابوں پر بڑا زور دیا ہے تاکہ انھیں اسلامی معاشرے کی تصویر کشی میں معتمد علیہ بنیادی مصادر و مراجع میں شامل کردیں، دونوں کتابوں کے ان عیوب سے چشم پوشی کی ہے جن کی وجہ سے یہ موثوق اور معتمد علیہ مراجع میں شامل نہیں ہوسکتیں، پہلی کتاب کا مؤلف اسلام کا دشمن شعوبی ہے۔ دوسری کتاب غیر معروف ہے۔

کتاب ’’الأغانی‘‘ بیس سے زیادہ جلدوں پر مشتمل مفصل کتاب ہے، ابوالفرج اصفہانی نے اس کی تالیف محض اس مقصد سے کی ہے تاکہ راتوں میں قصہ گوئی کی محفلوں میں امراء اور بیکار و آسودہ حال لوگوں کو قصے کہانیاں سنائے، اس کتاب سے علم و تاریخ مقصود نہیں ہے۔

اصفہانی خود عربوں اور مسلمانوں کے معاشرے کو پسند نہیں کرتا تھا، پیدائشی اور فکری طور پر اس کا میلان دشمنانِ اسلام، باطنیوں اور رافضیوں وغیرہ کی جانب تھا، اس کا یہ طرز عمل ایک سخت قسم کی جنگ تھی جو شعوبیوں نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف چھیڑ رکھی تھی، تاکہ ان کے معاشرے کو تباہ کرنے کے لیے پہلے ان کی فکر کو تباہ کردیا جائے، مغربیت کے علمبردار اور درآمدہ مغرب کی ادبی تنقید کے قائلین کی یہ کوشش رہی ہے کہ اس کتاب کو خوب شہرت اور رواج دیں اور ادبی تحریروں کے لیے اسے ایک قابل اعتبار مرجع اور اسلامی معاشرے کی تصویر کشی کا اہم ذریعہ بنا دیں۔ ڈاکٹر طٰہٰ حسین (جزاہ اللّٰہ بما ہو أہلہ) ان میں پیش پیش رہے، چنانچہ انھوں نے ’’الأغانی‘‘ کے قصوں پر اعتماد کرتے ہوئے مسلمانوں کے معاشرے اور ان کی تاریخ سے متعلق بہت سارے غلط حکم صادر کیے تاکہ ان کے ذریعہ سے اس مغربیت کے پرچار میں اپنا کردار ادا کرسکیں، جو اس صدی کی تیسری دہائی میں زور شعور سے پھیل رہی تھی۔

(مؤلفات فی المیزان: صفحہ 100، کتب حذرالعلماء منہا: جلد 2 صفحہ 38)

نیز (انور جندی) کہتے ہیں: اصفہانی کی سیرت کا اگر تھوڑا سا بھی جائزہ لیا جائے تو اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ وہ شعوبی تھا، حصولِ مقصد کے لیے حیلہ سازی و مبالغہ آرائی میں معروف تھا، بہت سارے باحثین اور مؤرخین نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ مؤرخ نہیں تھا، اور اس کی کتاب تاریخی حیثیت کی حامل نہیں ہے، بلکہ وہ بازاروں اور کتابوں میں موجود گانوں اور لوگوں کے قصے کہانیوں کو جمع کرنے والا تھا، ایسا اس نے صرف اس لیے کیا کہ ان چیزوں کو اس اسلامی معاشرے کا ایک حصہ قرار دے دے جو بہت سارے سیاسی، اجتماعی اور فقہی پہلوؤں سے بھرپور معاشرہ تھا، بہت سے معاصرین و مؤرخین نے اس کے انحراف کی شہادت دی ہے، مؤرخ یوسفی نے ایسی شہادت دی ہے جو علماء کی نظر میں موثوق و معتبر مرجع کی حیثیت رکھتی ہے، چنانچہ وہ کہتے ہیں: ابوالفرج بہت جھوٹا ہے، وہ اوراق بیچنے والوں کے بازار میں جاتا، جہاں کتابوں سے بھرپور کچھ دکانیں ہوتیں، وہاں سے بہت ساری چیزیں خرید کر گھر لاتا، پھر انھی سے اپنی روایتوں کو تیار کرتا۔

(کتب حذر العلماء منہا: جلد 2 صفحہ 38)

اس کے بارے میں صاحب ’’معجم الأدباء‘‘ کہتے ہیں: شراب نوشی، امرد پرستی، عورتوں کے اوصاف بیان کرنے میں اس کا معاملہ اپنے ہم عصر اور اپنے سے پہلے کے ادباء و شعراء جیسا تھا، وہ شراب فروش تاجروں کے پاس جاتا، جن کی اکثریت یہود و نصاریٰ، صابیوں اور مجوسیوں کی تھی، شراب نوشی میں معروف تھا، جسم اور کپڑوں کی صفائی کا خیال نہیں رکھتا تھا۔

(معجم الأدباء: جلد 5 صفحہ 153)

انور جندی مزید کہتے ہیں: میں نہیں سمجھ پاتا کہ ایسی کتاب باحثین کی نظر میں مرجع کیسے بن سکتی ہے؟ یا اس کی کوئی رائے یا قول قابلِ اطمینان کیسے ہوسکتا ہے؟ فکر اسلامی کے مناہج نے ہمیں اس بات کا عادی بنا دیا ہے کہ اس پر کسی بھی لکھنے والے کے بارے میں دیکھیں، اگر وہ شریف، امین، اپنی حق گوئی و سچائی کے باعث لوگوں کے نزدیک محترم ہو تو ہم اس کی تحریر کو قبول کرلیں، ورنہ رد کردیں وہ اپنی بعض تحریروں میں سچا ہو۔

(مؤلفات فی المیزان: صفحہ 100 تا 103)

صفحہ 3 از 4