رابعا والد کے قتل کے بعد کے وہ خطبے جن کی نسبت سیدنا حسن…

رابعا والد کے قتل کے بعد کے وہ خطبے جن کی نسبت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی جانب صحیح نہیں ہے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 4 از 4

پھر زیر عنوان ’’کتاب مجون و خلاعۃ‘‘ کہتے ہیں: اصفہانی حد سے تجاوز کرنے والا تھا، لذتوں اور شہوتوں میں درجۂ قباحت و شناعت تک پہنچ جاتا تھا، اس کی اس اخلاقی ساخت کا اس کی کتاب میں نمایاں اثر تھا، کتاب ’’الأغانی‘‘ بے حیائی و فحاشی کے واقعات سے بھری پڑی ہے، وہ جب ادباء و شعراء پر گفتگو کرتا ہے تو ان کے شخصی اخلاق کے کمزور پہلوؤں کا تذکرہ کرتا ہے اور سنجیدہ پہلوؤں کو نمایاں طور سے چھوڑ دیتا ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ غسل، صفائی، ستھرائی، وقار اور سنجیدگی کی باتوں پر بہت کم توجہ دیتا تھا، اصفہانی کے اس پہلو نے اس پر اعتماد کرنے والے مصنفین کی بہت سی آراء کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ جرجی زیدان نے اپنی کتاب ’’تاریخ آداب اللغۃ العربیۃ‘‘ اور طٰہٰ حسین نے اپنی کتاب ’’حدیث الأربعاء‘‘ میں جو کچھ لکھا ہے اس پر ایک طائرانہ نظر اس یقین کے لیے کافی ہوگی کہ کتاب ’’الأغانی‘‘ پر اعتماد ہی کے باعث ان دونوں باحثین نے عصر عباسی کے عام لوگوں کے اخلاقی انحطاط کا ذکر کیا ہے اور یہ حکم لگایا ہے کہ عصر عباسی فسق و فجور اور بے حیائی و بیہودگی کا زمانہ تھا، بلاشبہ شعراء کی غلطیوں اور ادباء کی لغزشوں کی من جانب اصفہانی بکثرت تلاش و جستجو نے اس کتاب کو گناہ اور گمراہی کی باتوں سے بھر دیا ہے، اور لوگوں میں یہ غلط بات عام کردی ہے کہ عبقریت کا تعلق عیش پرستی اور بیہودگی سے ہوتا ہے۔‘‘

(مؤلفات فی المیزان: صفحہ 100 تا 103، نقلاً عن کتب حذر العلماء منہا: جلد 2 صفحہ 40)

یہ بڑی خطرناک بات ہے کہ باحثین اس بات پر مطمئن ہوجائیں کہ ’’الأغانی‘‘ کی روایتوں کو تاریخی اہمیت و حیثیت حاصل ہے، اور انھی کی اساس پر تاریخی حقائق کو مرتب کریں۔ مغربیت کی ترویج کا یہ نہایت خطرناک کارنامہ رہا ہے کہ اس نے باحثین کو اس جانب متوجہ کردیا کہ انھوں نے اسلامی معاشرے کی تصویر کشی میں ’’الأغانی‘‘ کو مرجع اور مصدر کی حیثیت دے دی، جب کہ اس کتاب میں صرف حقوق اللہ (کی پامالیوں) سے متعلق باتیں ہیں، معاشرے کے بہت سارے دوسرے سنجیدہ پہلوؤں کو چھوڑ دیا ہے، اس لیے اس کتاب پر بحیثیت مصدر اعتماد کرنے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دوسری صدی ہجری میں مسلمانوں کی زندگی لہو و لعب والی تھی۔ طٰہٰ حسین نے اس کی صراحت کی ہے اور بہت سارے لوگوں نے اس کی تردید کی ہے، اور اس کے کھوٹ کو ظاہر کیا ہے۔

اسی طرح مستشرق ’’لامنس‘‘ نے اپنی کتاب ’’تاریخ بنی امیۃ‘‘ میں کتاب ’’الأغانی‘‘ پر اعتماد کیا ہے اور اسی طرح کی بات مستشرق ’’ولہاؤزن‘‘ نے اپنی کتاب ’’الدولۃ العربیۃ و سقوطہا‘‘ میں ذکر کیا ہے۔

جبور عبدالنور نے اصفہانی کا دفاع کرتے ہوئے سوال کیا ہے: کیا یہ ضروری ہے کہ مؤرخ جب فاسق اور لذتوں اور شہوتوں میں حد سے تجاوز کرنے والا ہو، تو وہ مؤرخ ہی باقی نہ رہے؟ اپنی روایتوں، باتوں اور تحریروں میں سچا نہ ہو؟ تو ہم اس کے جواب میں کہیں گے: ہاں، اگر مغربی فکر میں ایسا نہیں ہے تو یہ دوسری بات ہے، ہماری اسلامی فکر میں ایسا ہی ہے۔ فکر اسلامی نے باحث کے علم اور ا س کی شخصیت کے مابین ربط کی بنیاد پر بحث و نقد اور علم کے قواعد کو وضع کیا ہے، اگر اس کی زندگی میں انحراف، شخصیت میں اضطراب اور دین و اخلاق سے دوری ہو تو ہم اس کو ایک علمی مرجع کی حیثیت نہیں دیتے، اس کی شہادت کو قبول نہیں کرتے، اصفہانی کے موافقین و مخالفین سب اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ اس کی رائے ناقابل اعتبار اور اس کی شہادت ناقابلِ قبول ہے، اس کے فسق نے اس کی بہت ساری نفسانی خواہشات کو اس کی تحریروں میں داخل کردیا ہے، اس کے اجتماعی، اعتقادی اور فکری انحراف کی بات ہی الگ ہے جس نے اس کی آراء کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے، ساتھ ہی ساتھ کتاب ’’الأغانی‘‘ کوئی علمی مرجع نہیں ہے، بلکہ یہ دل بستگی، قصے اور کہانیوں کی کتاب ہے جو بعض عیش پرستوں کے خالی اوقات گزارنے کے لیے لکھی گئی ہے، اس لیے یہ کتاب کسی طرح علم کے لیے مصدر اور ادب و تاریخ کی بحث کے لیے مرجع نہیں ہوسکتی۔

(مؤلفات فی المیزان: صفحہ 100 تا 103)

ہماری تاریخ کو بگاڑنے میں اس کا اہم کردار رہا ہے اس لیے اس سے آگاہ کرنا اور روکنا واجب تھا۔



صفحہ 4 از 4