اللہ، کائنات، زندگی، جنت اور جہنم سے متعلق امیر المؤمنین…

اللہ، کائنات، زندگی، جنت اور جہنم سے متعلق امیر المؤمنین حسن رضی اللہ عنہ کے خیالات

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 6

اپنے والد کی تربیت اور قرآن کریم کے واسطے سے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو اللہ کی معرفت حاصل ہوئی، اس طرح اللہ، کائنات، زندگی، جنت و جہنم، قضا و قدر، انسان کی حقیقت اور شیطان کے ساتھ اس کی کشمکش سے متعلق سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے خیالات قرآن کریم اور طریقۂ نبویﷺ سے مستفاد ہیں۔

 اللہ تعالیٰ کی ذات تمام نقائص سے مبرا اور لامتناہی کمالات سے متصف ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، نہ اس کی بیوی ہے نہ بچے۔

 اللہ تعالیٰ نے اس عبودیت و توحید کے مفہوم کو واضح انداز میں بیان کیا ہے۔

(منہج الرسول فی غرس الروح الجہادیۃ: صفحہ 10 تا 16)

کائنات سے متعلق سیدنا حسنؓ کے خیالات ان آیتوں سے ماخوذ ہیں:

قُلۡ اَئِنَّكُمۡ لَتَكۡفُرُوۡنَ بِالَّذِىۡ خَلَقَ الۡاَرۡضَ فِىۡ يَوۡمَيۡنِ وَتَجۡعَلُوۡنَ لَهٗۤ اَنۡدَادًا‌ ذٰلِكَ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ‌۞ وَجَعَلَ فِيۡهَا رَوَاسِىَ مِنۡ فَوۡقِهَا وَبٰرَكَ فِيۡهَا وَقَدَّرَ فِيۡهَاۤ اَقۡوَاتَهَا فِىۡۤ اَرۡبَعَةِ اَيَّامٍ سَوَآءً لِّلسَّآئِلِيۡنَ۞ ثُمَّ اسۡتَـوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ وَهِىَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلۡاَرۡضِ ائۡتِيَا طَوۡعًا اَوۡ كَرۡهًا قَالَتَاۤ اَتَيۡنَا طَآئِعِيۡنَ ۞ فَقَضٰٮهُنَّ سَبۡعَ سَمٰوَاتٍ فِىۡ يَوۡمَيۡنِ وَاَوۡحٰى فِىۡ كُلِّ سَمَآءٍ اَمۡرَهَا‌ وَزَ يَّـنَّـا السَّمَآءَ الدُّنۡيَا بِمَصَابِيۡحَ وَحِفۡظًا ‌ذٰلِكَ تَقۡدِيۡرُ الۡعَزِيۡزِ الۡعَلِيۡمِ ۞

(سورۃ فصلت آیت 9 تا 12)

ترجمہ: کہہ دو کہ: کیا تم واقعی اس ذات کے ساتھ کفر کا معاملہ کرتے ہو جس نے زمین کو دو دن میں پیدا کیا اور اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہو؟ وہ ذات تو سارے جہانوں کی پرورش کرنے والی ہے۔ اور اس نے زمین میں جمے ہوئے پہاڑ پیدا کیے جو اس کے اوپر ابھرے ہوئے ہیں اور اس میں برکت ڈال دی اور اس میں توازن کے ساتھ اس کی غذائیں پیدا کیں۔ سب کچھ چار دن میں تمام سوال کرنے والوں کے لیے برابر۔ پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جبکہ وہ اس وقت دھویں کی شکل میں تھا اور اس سے اور زمین سے کہا: چلے آؤ چاہے خوشی سے یا زبردستی۔ دونوں نے کہا : ہم خوشی خوشی آتے ہیں۔ چنانچہ اس نے دو دن میں اپنے فیصلے کے تحت ان کے سات آسمان بنا دئیے اور ہر آسمان میں اس کے مناسب حکم بھیج دیا اور ہم نے اس قریب والے آسمان کو چراغوں سے سجایا اور اسے خوب محفوط کردیا۔ یہ اس ذات کی نپی تلی منصوبہ بندی ہے جس کا اقتدار بھی کامل ہے، جس کا علم بھی مکمل۔

یہ زندگی جتنی بھی لمبی ہو اس کو ختم ہونا ہے اور متاعِ زندگی جتنی بھی عظیم ہو درحقیقت بہت مختصر اور حقیر ہے۔ ارشاد الہٰی ہے:

اِنَّمَا مَثَلُ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا كَمَآءٍ اَنۡزَلۡنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخۡتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الۡاَرۡضِ مِمَّا يَاۡكُلُ النَّاسُ وَالۡاَنۡعَامُ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذَتِ الۡاَرۡضُ زُخۡرُفَهَا وَازَّيَّنَتۡ وَظَنَّ اَهۡلُهَاۤ اَنَّهُمۡ قٰدِرُوۡنَ عَلَيۡهَاۤ اَتٰٮهَاۤ اَمۡرُنَا لَيۡلًا اَوۡ نَهَارًا فَجَعَلۡنٰهَا حَصِيۡدًا كَاَنۡ لَّمۡ تَغۡنَ بِالۡاَمۡسِ‌ كَذٰلِكَ نُـفَصِّلُ الۡاٰيٰتِ لِقَوۡمٍ يَّتَفَكَّرُوۡنَ ۞ (سورۃ يونس آیت 24)

ترجمہ: دنیوی زندگی کی مثال تو کچھ ایسی ہے جیسے ہم نے آسمان سے پانی برسایا جس کی وجہ سے زمین سے اگنے والی وہ چیزیں خوب گھنی ہوگئیں جو انسان اور مویشی کھاتے ہیں یہاں تک کہ جب زمین نے اپنا یہ زیور پہن لیا، اور سنگھار کر کے خوشنما ہوگئی اور اس کے مالک سمجھنے لگے کہ بس اب یہ پوری طرح ان کے قابو میں ہے، تو کسی رات یا دن کے وقت ہمارا حکم آگیا (کہ اس پر کوئی آفت آجائے) اور ہم نے اس کو کٹی ہوئی کھیتی کی سپاٹ زمین میں اس طرح تبدیل کردیا جیسے کل وہ تھی ہی نہیں۔ اسی طرح ہم نشانیوں کو ان لوگوں کے لیے کھول کھول کر بیان کرتے ہیں جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں۔

جنت سے متعلق سیدنا حسنؓ کے خیالات قرآنی آیات سے مستفاد ہیں۔ چنانچہ یہی تصور سیدنا حسنؓ کے ذہن و دماغ پر چھایا رہتا تھا، سیدنا حسنؓ کی سیرت پڑھنے والے پر یہ بات بالکل واضح ہوجائے گی کہ آپ کے دل و دماغ کی گہرائی میں اللہ کے سامنے حاضری اور اس کے عذاب و عقاب کی سختی کا تصور رچا بسا تھا، کتاب اللہ و سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی سیدنا حسنؓ نے قضا و قدر کا مفہوم سمجھا تھا، اور یہ مفہوم سیدنا حسنؓ کے قلب و جگر میں پیوست تھا، جیسا کہ ارشاد باری ہے: 

قُلْ لَّنۡ يُّصِيۡبَـنَاۤ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَـنَا هُوَ مَوۡلٰٮنَا وَعَلَى اللّٰهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ۞ (سورۃ التوبة آیت 51)

ترجمہ: کہہ دو کہ: اللہ نے ہمارے مقدر میں جو تکلیف لکھ دی ہے ہمیں اس کے سوا کوئی اور تکلیف ہرگز نہیں پہنچ سکتی۔ وہ ہمارا رکھوالا ہے، اور اللہ ہی پر مومنوں کو بھروسہ رکھنا چاہیے۔

قرآن کریم ہی سے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو انسان اور شیطان کی کشمکش کی حقیقت کا پتہ چلا، یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ دشمن انسان پر ہر چہار جانب سے حملہ آور ہوتا ہے، معصیت الہٰی پر اسے اکساتا ہے اور اس میں نفسانی خواہشات کے جذبات کو برانگیختہ کرتا ہے، چنانچہ ابلیس لعین کے خلاف آپ اللہ کی مدد طلب کرتے، نتیجتاً آپ اپنی زندگی میں اس کے خلاف کامیاب و کامران رہے۔

حضرت آدم علیہ السلام کی غلطی سے آپ نے یہ سبق سیکھا کہ ایک مسلمان کو اپنے رب پر بھروسا کرنا چاہیے، مومن کی زندگی میں توبہ و استغفار کی بڑی اہمیت ہے، حسد اور کبر و غرور سے بچنا ضروری ہے، ساتھیوں کے ساتھ اچھے اسلوب میں ہم کلام ہونا بہت ہی اہم ہے۔ جیسا کہ ارشاد الہٰی ہے:

وَقُلْ لِّعِبَادِىۡ يَقُوۡلُوا الَّتِىۡ هِىَ اَحۡسَنُ‌ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ يَنۡزَغُ بَيۡنَهُمۡ‌ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ كَانَ لِلۡاِنۡسَانِ عَدُوًّا مُّبِيۡنًا ۞ (سورۃ الإسراء آیت 53)

ترجمہ: میرے (مومن) بندوں سے کہہ دو کہ وہی بات کہا کریں جو بہترین ہو۔ درحقیقت شیطان لوگوں کے درمیان فساد ڈالتا ہے۔ شیطان یقینی طور پر انسان کا کھلا دشمن ہے۔

صفحہ 1 از 6