اللہ، کائنات، زندگی، جنت اور جہنم سے متعلق امیر المؤمنین…

اللہ، کائنات، زندگی، جنت اور جہنم سے متعلق امیر المؤمنین حسن رضی اللہ عنہ کے خیالات

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 6

اللہ تعالیٰ نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو قرآن کریم کی روشنی میں زندگی گزارنے کا اعزاز بخشا، چنانچہ سیدنا حسنؓ نے ایسی ہی زندگی گزاری، سیدنا حسنؓ نے اپنے اصول و فروع کو کتاب اللہ و سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اخذ کیا، سیدنا حسنؓ کا شمار ان ائمہ میں ہوتا ہے جو لوگوں کے لیے زندگی کی شاہراہ متعین کرتے ہیں اور جن کے اقوال و افعال اس کی زندگی میں لوگوں کے لیے نمونہ ہوا کرتے ہیں، سیدنا حسنؓ کو قرآن سے کافی شغف تھا، اسی لیے سیدنا حسنؓ کے خطبوں کی بنیاد قرآن پر ہی ہوتی تھی، چنانچہ سیدنا حسنؓ کے بارے میں مروی ہے کہ سیدنا حسنؓ جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے، منبر پر سورۂ ابراہیم پڑھنا شروع کردی تاآنکہ اسے ختم کردیا۔

(الطبقات تحقیق السلمی: جلد 1 صفحہ 278، اس کی سند ضعیف ہے۔)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا کہ آپ جمعہ کے خطبہ میں سورۂ ق کی تلاوت کیا کرتے تھے، چنانچہ امام مسلمؒ نے ام ہشام بنت حارثہ رضی اللہ عنہ کی حدیث روایت کی ہے، وہ کہتی ہیں کہ میں نے سورہ ق کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن سن کر کیا ہے، آپ ہر جمعہ کو منبر پر خطبہ دیتے ہوئے اسے پڑھتے تھے۔

(صحیح مسلم: رقم: 873)

ابن ماجہ نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی حدیث روایت کی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر سورۂ ملک کی تلاوت کی، کئی واقعات کے ذریعہ سے آپ نے ہمیں نصیحت کی، ابوالدرداء رضی اللہ عنہ یا ابوذر رضی اللہ عنہ نے میری جانب اشارہ کرتے ہوئے پوچھا: یہ سورت کب نازل ہوئی؟ میں نے اسے اب تک نہیں سنا تھا، آپ نے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔

(سنن ابن ماجہ: رقم: 1111، اس کی سند حسن ہے۔)

اسی لیے خطبے سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ بیان کرتے ہوئے امام ابن القیم رحمۃاللہ کہتے ہیں:

’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر قرآن کریم کے ذریعہ سے خطبہ دیا کرتے تھے۔‘‘

(زاد المعاد: جلد 1 صفحہ 43)

اسی بناء پر سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما قرآنی آیات کے ذریعہ سے لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے، اور انھیں ان آیات کو سناتے تھے، اچھی آواز، خشوع و خضوع، تدبر، تذکیر اور اتقان کے ساتھ پڑھنے کا جو نبویﷺ طریقہ تھا وہی طریقہ سیدنا حسنؓ بھی اپناتے تھے، نتیجتاً دل لرز جاتے، آنکھیں اشکبار ہوجاتیں، سورۂ ابراہیم جسے سیدنا حسنؓ نے منبر پر پورا پڑھا تھا، پر غور و خوض کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اہم موضوعات درج ذیل ہیں:

 بنیادی عقائد کو ثابت کرنا: جیسے اللہ پر، رسولوں پر، قیامت پر اور حساب و کتاب پر ایمان لانا، توحید کو ثابت کرنا، آسمانوں اور زمین کے خالق معبود برحق کے اوصاف بیان کرنا، نزول قرآن کا مقصد یعنی لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی جانب لے جانے کو بیان کرنا، گمراہی سے بچانے، اللہ کی عبادت، فضائل اور بنیادی عقائد میں رسولوں کی دعوت کا متحد ہونا۔

وعدہ اور وعید: کافروں کی مذمت اور کفر کے باعث انھیں سخت عذاب کی وعید اور دھمکی، مومنوں کو ان کے اچھے اعمال پر جنت کا وعدہ (آیت 2، 23، 28 سے 31 تک)

 افہام و تفہیم: آسانی کے لیے رسولوں کو انھی کی قوموں کی زبان میں بھیجنے کے بارے میں گفتگو۔ (سورۃ ق آیت 4)

سابقہ رسولوں کے ساتھ ان کی قوموں کے برتاؤ کو بیان کرکے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینا، اور ان کے اوپر آئے ہوئے عذابوں کو بیان کرکے نصیحت کرنا۔ (آیات 9 تا 18)

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اپنے قوم سے گفتگو اور انھیں اللہ کی عبادت کی دعوت دینا۔ (آیات 5 تا 8)

 تعمیر کعبہ کے بعد ابراہیم علیہ السلام کی اہل مکہ کے لیے امن و امان، رزق، کعبہ کی جانب دلوں کے میلان، اپنے آپ کو اور اپنی آل و اولاد کو کی عبادت سے بچانے، بڑھاپے میں اولاد عطا کرنے پر رب کا شکر ادا کرنے، انھیں اور ان کی آل و اولاد کو نماز قائم کرنے کی توفیق دینے، اپنے، اپنے والدین اور تمام مومنوں کے لیے مغفرت طلب کرنے سے متعلق دعائیں۔ (آیات 35 تا 41)

آخرت میں جہنمیوں کے مابین گفتگو کا ایک منظر (آیات 19 تا 23)

حق و ایمان کے کلمے اور باطل و گمراہی کے کلمے کی بہترین درخت اور خراب درخت سے مثال دینا۔

(آیات 24 تا 27)

قیامت کی ہولناکیوں کو بیان کرنا، ظالموں کو دھمکی دینا، ان کے انواع و اقسام کے عذاب کو بیان کرنا۔

(آیات 42 تا 52)

 قیامت تک عذاب کو مؤخر کرنے کی حکمت کو بیان کرنا، اور اسی پر سورت ختم ہوئی ہے۔ (آیات 51 تا 52)

یہ ہیں سورۂ ابراہیم کے اہم موضوعات جسے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے خطبۂ جمعہ میں منبر پر پڑھا تھا۔

اسی طرح سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سونے کے لیے جب بستر پر لیٹتے تو سورۂ کہف کی تلاوت کرتے تھے، اس سورت کی ابتداء قرآن کی صفت بیان کرنے سے شروع ہوتی ہے کہ وہ بالکل درست کتاب ہے، اس کے الفاظ و معانی میں کسی قسم کا اختلاف اور تضاد نہیں ہے، اور وہ بشارت دینے کے لیے نازل ہوئی ہے، پھر زینت و جمال اور ایسے عجائب کی جانب توجہ دلائی ہے جو اللہ کی قدرت پر واضح طور سے دلالت کرتے ہیں، اس سورت میں اصحابِ کہف، خضر و موسیٰ علیہم السلام اور ذوالقرنین کے قصوں کو بیان کیا گیا ہے۔

اصحاب کہف کا قصہ، ہدایت کی اتباع اور صحیح عقیدے کی راہ میں مال و دولت، دوست و احباب، اعزہ و اقارب، اہل و عیال اور وطن کی قربانیوں کی نہایت عمدہ اور بہترین مثال ہے، ایک بت پرست بادشاہ کی پکڑ سے بچنے کے لیے یہ مومن نوجوان اپنے دین کے ساتھ بھاگ کھڑے ہوئے، اور پہاڑ کے ایک غار میں اکٹھے ہوئے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انھیں تین سو نو ہجری سال تک سلا دیا، پھر انھیں اٹھایا تاکہ لوگوں کی نگاہوں کے سامنے دوبارہ پیدا کرنے اور اٹھانے پر اپنی قدرت کی دلیل قائم کردے۔

قصہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ آپ تواضع اپنائیں، فقیر مومنوں کے ساتھ اٹھیں بیٹھیں، اور دین کی دعوت دینے کے لیے جا جا کر صرف مالداروں کے پاس نہ بیٹھیں:

وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم۞ (سورۃ الکہف آیت 28)

’’اور اپنے آپ کو انھی کے ساتھ رکھا کرو جو اپنے پروردگار کو صبح شام پکارتے ہیں۔‘‘

صفحہ 2 از 6