اللہ، کائنات، زندگی، جنت اور جہنم سے متعلق امیر المؤمنین…

اللہ، کائنات، زندگی، جنت اور جہنم سے متعلق امیر المؤمنین حسن رضی اللہ عنہ کے خیالات

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 6

پھر اللہ تعالیٰ نے حق کو ظاہر کرنے کے بعد کافروں کو دھمکی دی ہے اور آخرت میں ان کے لیے جو سخت عذاب تیار کر رکھا ہے اس کا تذکرہ کیا ہے، نیز اس کا ان جنتوں سے کیا ہے جنھیں اس نے صالح مومنوں کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ (آیات 30 تا 31)

ساٹھ سے اٹھتر نمبر کی آیات میں مذکور خضر و موسیٰ علیہم السلام کا قصہ حصولِ علم میں علماء کے لیے تواضع کی ایک بہترین مثال ہے اور یہ کہ دین کے اصول و فروع کے علاوہ ایک نیک بندے کے پاس کچھ ایسی باتوں کا علم ہوسکتا ہے جو انبیاء کے پاس نہ ہو، اس کی دلیل کشتی میں سوراخ کر دینا، بچے کو قتل کرنے کا واقعہ پیش آنا، اور گرتی دیوار کو ٹھیک کر دینا ہے۔

تراسی سے ننانوے تک کی آیتوں میں مذکور ذوالقرنین کے قصہ میں حاکموں اور بادشاہوں کے لیے عبرت ہے، اس لیے کہ یہ بادشاہ متقی، عادل اور صالح ہونے کے باعث سدّ بنا سکا اور دنیا پر حکومت قائم کر سکا، اسی قصے کے اثناء میں امر واقع سے مستفاد تین بہترین قسم کی مثالیں یہ ظاہر کرنے کے لیے ملتی ہیں کہ حق کا تعلق حکومت و مالداری سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق ایمان سے ہے،

سب سے پہلی مثال دو باغ والوں کا قصہ ہے جس میں اپنے مال پر مغرور مالدار اور اپنے ایمان پر فخر کرنے والے فقیر کے مابین موازنہ کیا گیا ہے تاکہ غریب مومنوں اور مالدار مشرکوں کی حالت بیان کی جائے۔

دوسری مثال دنیاوی زندگی کی ہے تاکہ لوگوں کو آگاہ کیا جاسکے کہ یہ دنیا فنا اور ختم ہونے والی ہے، اس کے بعد ہی قیامت کے بعض ہیبت ناک مناظر کو ذکر کیا گیا ہے، جیسے پہاڑوں کا چلانا، لوگوں کو میدان محشر میں جمع کرنا، لوگوں میں ان کے نامۂ اعمال کو تقسیم کرنا۔

تیسری مثال ابلیس کا آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے انکار کرنے کا واقعہ ہے، تاکہ کبر و غرور اور اس کے نتیجے میں شیطان کو راندۂ درگاہ کرنے اور لوگوں کو اس کے شر سے آگاہ کرنے کے مابین اور اللہ کی عبودیت و تواضع اور اس کے نتیجے میں اللہ کی خوشنودی کے مابین موازنہ کیا جاسکے۔

اس کے بعد یہ بیان کیا گیا ہے کہ نصیحت و موعظت کے لیے، اللہ کی آیتوں سے اعراض کرنے پر ڈرانے، اور ان پر عمل کرنے پر بشارت دینے جیسی رسولوں کی ذمہ داریوں کو واضح کرنے کے لیے مثالوں کو بیان کرنے پر قرآن مجید میں کافی توجہ دی گئی ہے، سورت کا خاتمہ تین موضوعات پر ہوا ہے: پہلا کفار کے اعمال کے ناکارہ ہونے اور آخرت میں مفید نہ ہونے کا اعلان (100 تا 106)۔

دوسرا نیک اعمال کرنے والے مؤمنوں کو ابدی نعمتوں کی خوش خبری(107، 108)۔

تیسرا یہ کہ اللہ کا علم لامتناہی و لا محدود ہے(109، 110)۔

(التفسیر المنیر: جلد 16، صفحہ 197،198، 199)

آخری آیت میں اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تواضع کاحکم دیتے ہوئے فرمایا ہے:

قُلۡ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثۡلُكُمۡ يُوۡحٰٓى اِلَىَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمۡ اِلٰـهٌ وَّاحِدٌ‌ فَمَنۡ كَانَ يَرۡجُوۡالِقَآءَ رَبِّهٖ فَلۡيَـعۡمَلۡ عَمَلًا صَالِحًـاوَّلَايُشۡرِكۡ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖۤ اَحَدًا ۞ (سورۃ الكهف آیت 110)

ترجمہ: کہہ دو کہ: میں تو تمہی جیسا ایک انسان ہوں (البتہ) مجھ پر یہ وحی آتی ہے کہ تم سب کا خدا بس ایک خدا ہے۔ لہٰذا جس کسی کو اپنے مالک سے جاملنے کی امید ہو، اسے چاہیے کہ وہ نیک عمل کرے، اور اپنے مالک کی عبادت میں کسی اور کو شریک نہ ٹھہرائے۔

یعنی اے محمد! آپ ان سے کہہ دیجیے کہ میں انسان ہونے میں تمھی جیسا ہوں، نہ تو میں فرشتہ ہوں اور نہ ہی معبود، مجھے صرف انھی چیزوں کا علم ہے جنھیں میرے رب نے مجھے بتایا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر وحی نازل کی ہے کہ معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ کی تنہا و بے نیاز ذات ہے، اس کی الوہیت میں کوئی بھی شریک نہیں، جس معبود کی تمھیں لازمی طور سے عبادت کرنی ہے وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔

فَمَنۡ كَانَ يَرۡجُوۡالِقَآءَ رَبِّهٖ فَلۡيَـعۡمَلۡ عَمَلًا صَالِحًـاوَّلَا يُشۡرِكۡ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖۤ اَحَدًا۞ (سورۃ الكهف آیت 110)

ترجمہ: یعنی جسے اللہ کی ملاقات پر ایمان ہو، اور اس کی اطاعت کے عوض ثواب کی امید ہو تو اسے نیک اعمال کے ذریعہ سے اس کی قربت حاصل کرنی اور صرف اسی کی عبادت کرنی چاہیے اور اس کی عبادت میں کسی بھی دوسری مخلوق کو شریک کرنے سے بچنا چاہیے، چاہے وہ شرکِ جلی ہو جیسے بتوں کی پوجا، یا غیر اللہ کو پکارنا، یا کسی مخلوق کے لیے نذر ماننا یا اس بات کا اعتقاد رکھنا کہ کوئی انسان ایسا فائدہ یا نقصان پہنچا سکتا ہے جو اللہ کے لیے خاص ہے یا اللہ کے شایانِ شان خوف و امید اور محبت جیسی عبادتوں کو غیر اللہ کی جانب پھیر دینا، یا شرکِ خفی ہو جیسے ریاکاری، دکھاوے اور شہرت کے لیے کوئی کام کرنا۔

(التفسیر المنیر: جلد 16 صفحہ 43)

ریا کاری شرک اصغر ہے، جیسا کہ فرمان نبوی ہے:

’’تمھارے سلسلے میں مجھے سب سے زیادہ خوف شرک اصغر کا ہے، لوگوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! شرک اصغر کیا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: ریاکاری، روز قیامت جب اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے رہا ہوگا فرمائے گا: ان کے پاس جاؤ جس کے لیے دنیا میں تم ریاکاری کرتے تھے اور دیکھو کیا تم ان کے پاس کوئی بدلہ پاتے ہو۔

(مسند أحمد: جلد 5 صفحہ 428، 429 اس کی سند حسن ہے۔)

آیت کریمہ نے قبولیت اعمال کی دونوں شرطوں کو ذکر کیا ہے:

1۔ اتباعِ رسول جس کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا گیا ہے: فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا۔

2۔ عبادت صرف اللہ کی کی جائے، جس کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا گیا ہے:

وَّلَا يُشۡرِكۡ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖۤ اَحَدًا

ان معانی اور آیات کو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ ہر روز نہایت غور و فکر سے پڑھتے تھے، جن کا آپ کی ذات اور زندگی پر کافی اثر تھا، اسی طرح سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سیرت النبی کا کافی اہتمام کرتے تھے۔ سیرت النبیﷺ کا علم اس دور کی ثقافت کا اہم جز تھا، چنانچہ اسماعیل بن محمد بن سعد بن ابی وقاص کہتے ہیں: میرے والد ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات کے بارے میں بتلاتے تھے، ہم سے ان کا تذکرہ کرتے اور فرماتے: یہ تمھارے آباء و اجداد کے کارنامے ہیں، انھیں فراموش نہ کرو۔

صفحہ 3 از 6