اللہ، کائنات، زندگی، جنت اور جہنم سے متعلق امیر المؤمنین…

اللہ، کائنات، زندگی، جنت اور جہنم سے متعلق امیر المؤمنین حسن رضی اللہ عنہ کے خیالات

  علی محمد الصلابی

صفحہ 4 از 6

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 2 صفحہ 242)

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ہمیں قرآن کی سورت کی مانند ہی مغازی کی تعلیم دی جاتی تھی۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 2 صفحہ 242، السیرۃ النبویۃ للصلابی: جلد 1 صفحہ 6)

رہا معاملہ حدیثِ رسول کا تو سیدنا حسنؓ کے والد امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ خلفائے راشدینؓ میں احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ روایت کرنے والے تھے، اس کے اسباب یہ ہیں کہ بقیہ خلفاء کے بعد آپ کی وفات ہوئی ہے، سیدنا حسنؓ سے روایت کرنے والوں کی تعداد بھی زیادہ ہے، ایسے تابعین جو علم حاصل کرنے والے اور زیادہ سوال کرنے والے تھے مختلف مقامات میں پھیل چکے تھے، ایسے واقعات رونما ہوچکے تھے جو احادیث کی روایت اور انھیں دوسروں تک پہنچانے کے متقاضی تھے، چنانچہ راویوں نے آپ سے وہ تمام روایتیں پوری امانت و دیانت کے ساتھ نقل کیں جو انھیں ملیں، سیدنا علیؓ سے آپ کے بیٹے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے بھرپور استفادہ کیا۔

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ ابھی چھوٹے ہی تھے کہ سیدنا حسنؓ کے نانا صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت سارے واقعات اور احادیث کو سیدنا حسنؓ نے سیکھ لیا تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب منسوب کرکے ان کو ذکر کیا ہے جیسا کہ میں نے پہلے ہی بیان کردیا ہے۔

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اپنی اولاد کو طلب علم پر ابھارتے چنانچہ آپ نے اپنے بیٹوں اور بھتیجوں کو بلا کر کہا: اے میرے بیٹو اور بھتیجو! تم آج چھوٹے ہو، عنقریب تم بڑے ہو جاؤ گے، اس لیے علم کو سیکھو، تم میں سے جو یاد کرلینے یا روایت کرنے سے قاصر ہو تو وہ لکھ کر اپنے گھر میں رکھے۔

(الطبقات: جلد 1 صفحہ 292، تحقیق السلمی، اس کی سند حسن ہے۔)

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ قادر الکلام خطیب تھے۔ ایک دن امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے کہا: اے حسن کھڑے ہو، اور تقریر کرو، انھوں نے کہا: آپ کو دیکھ کر تقریر کرتے ہوئے میں ڈرتا ہوں، چنانچہ سیدنا علیؓ وہاں سے ہٹ کر ایسی جگہ چلے گئے جہاں سے آپ سن سکیں، اور وہ سیدنا حسنؓ کو نہ دیکھ سکیں، چنانچہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور حمد و ثنا کے بعد تقریر کی۔

(الطبقات: جلد 1 صفحہ 276، اس کی سند ضعیف اور مرسل ہے۔)

اس پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی:

ذُرِّيَّةً بَعۡضُهَا مِنۡ بَعۡضٍ‌ وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ‌۞ (سورۃ آل عمران آیت 34)

ترجمہ: یہ ایسی نسل تھی جس کے افراد (نیکی اور اخلاص میں) ایک دوسرے سے ملتے جلتے تھے، اور اللہ (ہر ایک کی بات) سننے والا ہے، ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔

خطابت، فصاحت و بلاغت اور قوتِ بیان سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو اپنے نانا اور والد سے ورثے میں ملی تھی، تاریخی کتابوں میں مذکور ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے مروّت سے متعلق بعض چیزوں کے بارے میں پوچھتے ہوئے کہا: اے میرے لاڈلے! ’’سداد‘‘ کیا ہے؟

جواب دیا: اے والد محترم! ’’سداد‘‘ نام ہے بری بات کا جواب بھلی بات سے دینے کا،

پوچھا: شرف کیا ہے؟ جواب دیا: آپس داری اور ہمدردی برتنا،

پوچھا: مروت کیا ہے؟ جواب دیا: پاک دامنی اور اپنے مال کی اصلاح۔

پوچھا: دُقَّہ کیا ہے؟ جواب دیا: معمولی چیز میں تامل اور حقیر چیز کو نہ دینا۔

پوچھا: ’’لؤم‘‘ کیا ہے؟ جواب دیا: انسان کا اپنی حفاظت کرنا، اور اپنی بیوی کو بے حفاظت چھوڑ دینا۔

پوچھا: سماحت کیا ہے؟ جواب دیا: تنگ دستی اور مال داری دونوں صورتوں میں خرچ کرنا،

پوچھا: شح کیا ہے؟ جواب دیا: تمھارے پاس جو موجود ہو اسے باعث شرف اور جو خرچ کردو اسے ضائع ہو جانے والی چیز سمجھو،

پوچھا: إخاء کیا ہے؟ جواب دیا: مشکل اور آسانی دونوں صورتوں میں وفاداری کا ثبوت دینا، پوچھا: جبن کیا ہے؟ جواب دیا: دوست کے خلاف شیر بننا اور دشمن کے خلاف بلی بن جانا،

پوچھا: غنیمت کیا ہے؟ جواب دیا: تقویٰ کی رغبت اور دنیا سے بے رغبتی،

پوچھا: حلم کیا ہے؟ جواب دیا: غصہ پی جانا اور نفس کو قابو میں رکھنا،

پوچھا: غنا کیا ہے؟ جواب دیا: اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ رزق پر چاہے کم ہی کیوں نہ ہو راضی رہنا، اس لیے کہ اصل مال داری دل کی مال داری ہے، پوچھا: فقر کیا ہے؟ جواب دیا: نفس ہر چیز کا لالچی ہو، پوچھا: ذل کیا ہے؟ جواب دیا: بھرپور وار سے گھبرا کر بھاگنا،

پوچھا: جرأت کیا ہے؟ جواب دیا: ساتھیوں کے ساتھ رہنا،

پوچھا: کلفت کیا ہے؟ جواب دیا: لایعنی بات کرنا۔ پوچھا: مجد کیا ہے؟ جواب دیا: مصیبت میں دینا اور جرم کو معاف کردینا،

پوچھا: عقل کیا ہے؟ جواب دیا: دل سے جن چیزوں کی حفاظت کا مطالبہ کیا جائے دل کا ان کی حفاظت کرنا۔

پوچھا: خرق (حماقت) کیا ہے؟ جواب دیا: حاکم وقت سے دشمنی کرنا اور بلند آواز سے اس سے گفتگو کرنا،

پوچھا: حزم کیا ہے؟ جواب دیا: ذمہ داروں کے ساتھ سوچ سمجھ اور آسانی سے پیش آنا، لوگوں کے سلسلے میں بدگمانی سے بچنا،

پوچھا: شرف کیا ہے؟ جواب دیا: بھائیوں کی موافقت اور پڑوسیوں کی حفاظت،

پوچھا: سفہ (بے وقوفی) کیا ہے؟ جواب دیا: گھٹیا لوگوں کی اتباع اور بھٹکے ہوئے لوگوں کے ساتھ رہنا،

پوچھا: غفلت کیا ہے؟ جواب دیا: مسجد کو چھوڑ دینا اور مفسد کی اطاعت کرنا۔

پوچھا: حرمان کیا ہے؟ جواب دیا: جو حصہ تمھیں دیا جا رہا ہو اسے چھوڑ دینا۔

پوچھا: سید کون ہے؟ جواب دیا: جو مال کے سلسلے میں زیادہ چالاکی برتنے والا نہ ہو، عزت و آبرو میں متشدد نہ ہو، اسے گالیاں دی جائیں تو اس کا جواب نہ دے، قبیلہ کے لوگوں کا خیال رکھے، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے میرے لاڈلے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے:

صفحہ 4 از 6