اللہ، کائنات، زندگی، جنت اور جہنم سے متعلق امیر المؤمنین…

اللہ، کائنات، زندگی، جنت اور جہنم سے متعلق امیر المؤمنین حسن رضی اللہ عنہ کے خیالات

  علی محمد الصلابی

صفحہ 5 از 6

لَا فَقْرَ أَشَدُّ مِنَ الْجَہْلِ، وَلَا مَالَ أَعْوَدُ مِنَ الْعَقْلِ، وَ لَا وَحْدَۃَ أَوْحَشُ مِنَ الْعَجَبِ، وَ لَا مُظَاہَرَۃَ أَوْثَقُ مِنَ الْمُشَاوَرَۃِ، وَ لَا عَقْلَ کَالتَّدْبِیْرِ وَ لَا حَسَبَ کَحُسْنِ الْخُلُقِ، وَ لَا وَرَعَ کَالْکَفِّ، وَلَا عِبَادَۃَ کَالتَّفَکُّرِ، وَ لَا إِیْمَانَ کَالْحَیَائِ، وَ رَأْسُ الْإِیْماَنِ الصَّبْرُ، وَ آفَۃُ الْحَدِیْثِ الْکِذْبُ، وَ آفَۃُ الْعِلْمِ النِّسْیَانُ، وَ آفَۃُ الْحِلْمِ السَّفَہُ، وَ آفَۃُ الْعِبَادَۃِ الْفَتْرَۃُ، وَ آفَۃُ الظَّرْفِ الصَّلَفُ، وَ آفَۃُ الشُّجَاعَۃِ الْبَغْيُ، وَ آفَۃُ الْسَّمَاحَۃِ الْمَنُّ، وَ آفَۃُ الْجَمَالِ الْخُیَلَائُ وَ آفَۃُ الْحُبِّ الْفَخْرُ۔

’’جہالت سے بڑھ کر کوئی فقیری نہیں، عقل سے بڑھ کر کوئی مال نفع بخش نہیں، کبر و غرور سے زیادہ وحشت ناک کوئی تنہائی نہیں، مشاورت سے بڑھ کر کوئی دوسری چیز قابل بھروسا نہیں، تدبیر جیسی کوئی عقلمندی نہیں، حسن اخلاق جیسی کوئی قابل عزت چیز نہیں، گناہوں سے باز رہنے جیسا کوئی تقویٰ نہیں، کائنات میں غور و فکر جیسی کوئی عبادت نہیں، حیا جیسا ایمان کا کوئی جز نہیں، ایمان کا اعلیٰ ترین جز صبر ہے، گفتگو کی آفت جھوٹ ہے، علم کی آفت بھولنا ہے، بردباری کی آفت حماقت ہے، عبادت کی آفت سستی ہے، دانائی کی آفت شیخی ہے، بہادری کی آفت بغاوت ہے، بھلائی کی آفت احسان جتلانا ہے، جمال کی آفت گھمنڈ ہے، محبت کی آفت فخر ہے۔‘‘

پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے میرے لاڈلے! کسی شخص کو ہرگز حقیر نہ سمجھو، اگر تم سے بڑا ہو تو اسے اپنے باپ جیسا اور اگر تمھارے جیسا ہو تو اسے اپنے بھائی جیسا، اور اگر تم سے چھوٹا ہو تو اسے اپنے بیٹے جیسا سمجھو، مروت کی انھی چیزوں کے بارے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے سے سوال کیا تھا۔

قاضی ابوالفرج فرماتے ہیں: ان مذکورہ باتوں میں بہت ساری حکمتیں اور فوائد مضمر ہیں، ان سے وہ شخص فائدہ اٹھا سکتا ہے جو ان کی رعایت کرے، حفاظت کرے، یاد رکھے، ان پر عمل کرے، جو ان پر عمل کر کے، ان کی جانب رجوع کر کے اپنے نفس کو مؤدب و مہذب بنائے، ان پر عمل کرنے سے بھرپور فائدہ حاصل ہوگا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے امیر المؤمنین اور آپﷺ کے اصحاب کی روایت کردہ حدیثوں کے حفظ اور ان میں غور و فکر سے کوئی بھی صاحبِ عقل و علم و حکمت نیز قوم کا سردار مستغنی نہیں، نیک بخت وہ ہے جسے انھیں اپنانے کی توفیق ہوئی، نصیب والا وہ شخص ہے جسے ان کو اپنانے اور ان پر عمل کرنے کا موقع ملا۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 202)

ابن کثیر رحمۃاللہ علیہ اس اثر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں: لیکن یہ اثر اور اس میں مذکور مرفوع حدیث ضعیف ہے، اس کی متن میں نکارت کے ایسے الفاظ ہیں جو اس پر دلالت کرتے ہیں کہ وہ محفوظ نہیں ہے۔ واللّٰہ أعلم۔‘‘

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 11 صفحہ 202۔ الطبرانی الکبیر: یہ حدیث موضوع ہے۔)

مذکورہ امور جو کتاب و سنت سے متعارض نہیں، نہ ہی ان پر کسی عقیدے اور عبادت کی بنیاد ہے، بلکہ وہ مکارم اخلاق کی دعوت دیتے ہیں، تو انھیں مان لینے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ایمان و یقین کے مابین کتنی مسافت ہے؟ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: چار انگل، امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیسے؟ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ایمان ہر وہ چیز ہے جسے تمھارے کان سنیں اور تمھارا دل اس کی تصدیق کرے، اور یقین ہر وہ چیز ہے جسے تمھاری آنکھیں دیکھیں اور تمھارا دل اس پر یقین کرے، اور آنکھ و کان کے مابین چار انگل سے زیادہ دوری نہیں ہے۔

(التبیین فی انساب القرشیین: صفحہ 127)

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے اقوال میں سے درج ذیل چیزیں ہیں:

حُسْنُ السُّؤَالِ نِصْفُ الْعِلْمِ۔

(نور الأبصار للشبلنجی: صفحہ 122، الحسن بن علی رسالۃ ماجستیر: صفحہ 38)

’’اچھے ڈھنگ سے سوال نصف علم ہے۔‘‘

خاموشی کے بارے میں پوچھے جانے پر سیدنا حسنؓ نے فرمایا:

ہُوَ سَتْرُ الْعَیْبِ أَوْ زَیْنُ الْعِرْضِ۔ وَ فَاعِلُہٗ فِیْ رَاحَۃٍ وَ جَلِیْسُہُ فِیْ اَمَانٍ

(من أقوال الصحابۃ: صفحہ 67 نقلا عن الحسن بن علی رسالۃ ماجستیر: صفحہ 38)

’’وہ عیب کی پردہ پوشی یا عزت و آبرو کی زینت ہے۔ خاموشی اختیار کرنے والا آرام میں ہوتا ہے۔ اور اس کا ہم نشین امن وامان میں ہوتا ہے۔‘‘

سیدنا حسنؓ نے عربی زبان سیکھنے کی وصیت کی ہے۔

(مفتاح السعادۃ: احمد مصطفی: جلد 2 صفحہ 82 نقلا عن الحسن بن علی)

عربی زبان سیکھنے کے سلسلے میں سیدنا حسنؓ کی تاکید، پڑھنے بالخصوص قرآنی آیات پڑھنے میں قواعد کے تطبیق کی ضرورت کی تاکید ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے عربی زبان ہی میں قرآن مجید کو نازل فرمایا ہے، اور اسی میں اپنے دین کے احکام وفرائض کو بتلایا ہے، اسی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پیغام رسالت پہنچایا، اسی کے ذریعہ سے احادیث نبویہﷺ کی تعلیم دی، اسی میں علم و حکمت اور دینی امور پر مشتمل کتابیں تصنیف کی گئیں، اس لیے ہر نو عمر پر عربی زبان سیکھنا لازمی ہے، ورنہ وہ دین سے جاہل و علم میں ناقص رہے گا، ساتھ ہی ساتھ قرآن مجید فصاحت و بلاغت و بیان اور سننے میں مٹھاس سے بھرپور ہے۔

(نصیحۃ الملوک: صفحہ 350، للماوردی)

اسی طرح عربی زبان سیکھنے کے سلسلے میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی تاکید یہ بتلاتی ہے کہ سیدنا حسنؓ عربی زبان کے ماہر تھے، چنانچہ آپؓ کا شمار فصحائے عرب میں ہوتا تھا۔

عمرو بن العلاء کا قول ہے:

ما رأیت أفصح من الحسن بن علی رضی اللّٰہ عنہما۔

(الکامل فی التاریخ: جلد 4 صفحہ 132)

’’میں نے حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے زیادہ فصیح شخص کو نہیں دیکھا۔‘‘

صفحہ 5 از 6