سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی عبادت - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی عبادت

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 4

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کافی عبادت گزار تھے، عبادت کے وسیع مفہوم کو سیدنا حسنؓ نے اپنی زندگی میں برتا، عبادت کا شوق سیدنا حسنؓ کو خاندانِ نبوت سے بچپن ہی میں حاصل ہوچکا تھا، سیدنا حسنؓ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کے تربیت یافتہ تھے جو اپنے والد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خادم طلب کرنے آتی ہیں تو آپﷺ انھیں اس سے بہتر چیز تسبیح و تحمید اور تہلیل و تکبیر کی جانب رہنمائی کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے اور ان کے شوہر سے رات میں جب کہ وہ بستر پر ہوتے کہتے: اٹھو نماز پڑھو، چنانچہ سیدنا حسنؓ نے زہد و عبادت، ورع و تقویٰ اور حلم و صبر سے معمور خانوادے میں آنکھیں کھولیں، یہ بنیادی باتیں، مفاہیم اور اعلیٰ قدریں سیدنا حسنؓ کی زندگی میں اس قدر رچ بس گئیں کہ آپ ان میں ضرب المثل ہوگئے، سیدنا حسنؓ کے معاصر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور دیگر نیک لوگ اس کی شہادت دیتے ہیں۔

سیدنا حسنؓ شعوری طور پر عبادت گزار تھے، یقین کے ساتھ سیدنا حسنؓ اللہ والے تھے، دنیا اور اس کے مشاغل سے پوری رضا مندی اور اطمینان کے ساتھ بے رغبت تھے، اسی لیے جب سیدنا حسنؓ وضو کرکے فارغ ہوتے تو آپ کا رنگ بدل جاتا، اس سلسلے میں سیدنا حسنؓ سے پوچھا گیا تو آپ نے جواب دیا: جو عرش والے کے حضور جانے کا ارادہ کرے اس کا رنگ بدل جانا چاہیے۔

(وفیات الاعیان: جلد 2 صفحہ 69)

ابن سعدؒ کا قول ہے:

ما رأیت أخوف من الحسن بن علی و عمر بن عبدالعزیز، کأن النار لم تخلق إلا لہما۔

(الطبقات الکبریٰ: جلد 5 صفحہ 398)

’’میں نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما اور  عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والے کو نہیں دیکھا، ایسا لگتا تھا کہ جہنم انھی کے لیے بنائی گئی ہے۔‘‘

بندہ جس قدر اپنے رب سے قریب ہوتا ہے، اس کے اسماء اور صفات کمالیہ سے جس قدر آگاہ ہوتا ہے اسی قدر اللہ سے اس کا خوف اور اس کی ہیبت بڑھ جاتی ہے، اللہ تعالیٰ لوگوں کے احوال بدلتا رہتا ہے۔فرمان الہٰی ہے:

قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الۡمُلۡكِ تُؤۡتِى الۡمُلۡكَ مَنۡ تَشَآءُ وَتَنۡزِعُ الۡمُلۡكَ مِمَّنۡ تَشَآءُ وَتُعِزُّ مَنۡ تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَنۡ تَشَآءُ‌ بِيَدِكَ الۡخَيۡرُ‌ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ ۞ (سورۃ آل عمران آیت 26)

ترجمہ: کہو کہ: اے اللہ! اے اقتدار کے مالک! تو جس کو چاہتا ہے اقتدار بخشتا ہے، اور جس سے چاہتا ہے اقتدار چھین لیتا ہے، اور جس کو چاہتا ہے عزت بخشتا ہے اور جس کو چاہتا ہے رسوا کر دیتا ہے، تمام تر بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔ یقیناً تو ہر چیز پر قادر ہے۔

وہ حکومتوں کو پلٹ دیتا ہے، ایک حکومت کو ختم کرتا ہے، دوسری حکومت کو لاتا ہے، فرشتے معاملات کو لے کر اس کے پاس جاتے ہیں اور اس کے پاس سے آتے رہتے ہیں، اس کے اوامر صادر ہوتے ہیں اور اس کی چاہت کے مطابق نافذ ہوتے رہتے ہیں، وہ جو چاہتا ہے جس طرح چاہتا ہے جس وقت چاہتا ہے اور جس طریقے سے چاہتا ہے بلا کم و کاست اور بغیر تقدیم و تاخیر کے وجود میں آجاتا ہے، اسی کی سلطنت ہے آسمانوں میں، زمین اور اس پر موجود تمام چیزوں میں، سمندروں میں، فضاؤں میں، اور دنیا کے تمام حصوں میں، وہ جس طرح چاہتا ہے اس میں الٹ پھیر اور تصرف کرتا ہے۔

(الإیمان أولا فکیف نبدأ بہ: مجدی الہلالی: صفحہ 73)

فرمان الہٰی ہے:

يُدَبِّرُ الۡاَمۡرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الۡاَرۡضِ ثُمَّ يَعۡرُجُ اِلَيۡهِ فِىۡ يَوۡمٍ كَانَ مِقۡدَارُهٗۤ اَلۡفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوۡنَ ۞ (سورۃ السجدة آیت 5)

ترجمہ: وہ آسمان سے لے کر زمین تک ہر کام کا انتظام خود کرتا ہے، پھر وہ کام ایک ایسے دن میں اس کے پاس اوپر پہنچ جاتا ہے جس کی مقدار گنتی کے حساب سے ایک ہزار سال ہوتی ہے۔

آسمانوں اور زمین میں، سمندروں کی گہرائیوں اور پہاڑوں کی تہوں میں کوئی بھی ذرہ اللہ سے مخفی نہیں، فرمان الہٰی ہے:

وَعِنۡدَهٗ مَفَاتِحُ الۡغَيۡبِ لَا يَعۡلَمُهَاۤ اِلَّا هُوَ‌ وَيَعۡلَمُ مَا فِى الۡبَرِّ وَالۡبَحۡرِ‌ وَمَا تَسۡقُطُ مِنۡ وَّرَقَةٍ اِلَّا يَعۡلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِىۡ ظُلُمٰتِ الۡاَرۡضِ وَلَا رَطۡبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلَّا فِىۡ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ ۞ (سورۃ الأنعام آیت 59)

ترجمہ: اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور خشکی اور سمندر میں جو کچھ ہے وہ اس سے واقف ہے کسی درخت کا کوئی پتہ نہیں گرتا جس کا اسے علم نہ ہو، اور زمین کی اندھیریوں میں کوئی دانہ یا کوئی خشک یا تر چیز ایسی نہیں ہے جو ایک کھلی کتاب میں درج نہ ہو۔

اللہ کی عظمت و جلال کا شعور اور اس کے اسماء و صفات کی معرفت، بندے میں اللہ کا ڈر اور خوف اور اس کی خشیت پیدا کرتی ہے،

(الإیمان أولا فکیف نبدأ بہ: مجدی الہلالی: صفحہ 76) 

فرمان الہٰی ہے:

وَلِلّٰهِ يَسۡجُدُ مَنۡ فِى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ طَوۡعًا وَّكَرۡهًا وَّظِلٰلُهُمۡ بِالۡغُدُوِّ وَالۡاٰصَالِ۞ (سورۃ الرعد آیت 15)

ترجمہ: اور وہ اللہ ہی ہے جس کو آسمانوں اور زمین کی ساری مخلوقات سجدہ کرتی ہیں، کچھ خوشی سے، کچھ مجبوری سے، اور ان کے سائے بھی صبح و شام اس کے آگے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ (آیت سجدہ)

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما مسجد نبوی میں فجر کی نماز پڑھ کر اسی جگہ بیٹھے اللہ کے ذکر و فکر میں مشغول رہتے تاآنکہ سورج بلند ہو جاتا، سیدنا حسنؓ کے پاس سردار قسم کے لوگ بیٹھ کر باتیں کرتے، پھر سیدنا حسنؓ اٹھ کر امہات المؤمنینؓ کے پاس جاتے، ان سے سلام کرتے، بسااوقا ت وہ سیدنا حسنؓ کو تحفہ سے نوازتیں، پھر سیدنا حسنؓ گھر لوٹ جاتے۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 11 صفحہ 193، 194)

ان نیک بختوں میں سے جن کے لیے فرشتے دعائے مغفرت کرتے ہیں وہ لوگ ہیں جو نماز پڑھ کر اپنی نماز کی جگہ بیٹھے اللہ کو یاد کرتے رہتے ہیں، جیسا کہ امام احمدؒ کی روایت کردہ یہ حدیث بتلاتی ہے:

عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رضی اللّٰه عنہ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہُ صلي الله عليه وسلم اَلْمَلَائِکَۃُ تُصَلِّیْ عَلٰی أَحَدِکُمْ مَادَامَ فِیْ مُصَلَّاہُ الَّذِيْ صَلّٰی فِیْہِ مَا لَمْ یُحْدِثُ اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلَہٗ، اَللّٰہُمَّ ارْحَمْہُ۔

صفحہ 1 از 4