سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی عبادت - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی عبادت

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 4

(مسند احمد: رقم:8106، احمد شاکر نے اس کی تصحیح کی ہے۔)

’’سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو بھی باوضو اپنی نماز کی جگہ میں جہاں اس نے نماز پڑھی ہے جب تک رہتا ہے فرشتے اس کے لیے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں، اے اللہ تو اس کی مغفرت فرما دے اے اللہ تو اس پر رحم فرما۔‘‘

وَ إِنْ جَلَسَ یَنْتَظِرُ الصَّلَاۃَ صَلَّتْ عَلَیْہِ الْمَلَائِکَۃُ وَ صَلَاتُہُمْ عَلَیْہِ: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلَہٗ اللّٰہُمَّ ارْحَمْہُ۔

(مسند احمد: رقم: 1218، احمد شاکر نے اس کو حسن قرار دیا ہے۔)

’’اگر بیٹھ کر نماز کا انتظار کرتا ہے تو فرشتے اس کے لیے دعائِے مغفرت کرتے رہتے ہیں ان کی دعا یہ ہوتی ہے: اے اللہ تو اس کی مغفرت فرما، اے اللہ تو اس پر رحم فرما۔‘‘

امام احمدؒ نے عطاء بن سائب کی حدیث کو نقل کیا ہے، وہ کہتے ہیں: ’’میں ابو عبدالرحمٰن سلمی کے پاس گیا، وہ نمازِ فجر پڑھ کر بیٹھے تھے، میں نے کہا: اگر آپ اپنے بستر پر چلے جاتے تو وہ آپ کے لیے زیادہ آرام دہ تھا، انھوں نے کہا: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا ہے: جو شخص نماز فجر پڑھ کر اپنی نماز کی جگہ بیٹھا رہتا ہے فرشتے اس کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں، ان کی دعائے مغفرت یہ ہے: اے اللہ تو اس کی مغفرت فرما، اے اللہ تو اس پر رحم فرما۔ اور جو (بیٹھ کر) نماز کا انتظار کرتا ہے فرشتے اس کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں، ان کی دعا یہ ہے: اے اللہ تو اس کی مغفرت فرما، اے اللہ تو اس پر رحم فرما۔‘‘

(مسند احمد: جلد 2 صفحہ 305، 306، احمد شاکر نے اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے۔)

شیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: کیا نمازِ فجر کے بعد تلاوت قرآن کے لیے گھر میں طلوع آفتاب تک ٹھہرنے، پھر اشراق کی دو رکعتوں کو پڑھنے کا ثواب مسجد میں ٹھہرنے کے ثواب کے برابر ہے، تو آپ نے جواب دیا: اس عمل میں کافی بھلائی اور عظیم اجر ہے، لیکن اس سلسلے میں وارد حدیثوں کے ظاہر سے پتہ چلتا ہے کہ اس کو وہی اجر نہیں ملے گا، یہ اجر اسی کو ملے گا جو مسجد میں اپنی نماز کی جگہ بیٹھا رہے، لیکن بیماری اور خوف کے باعث اگر کوئی فجر کی نماز اپنے گھر میں پڑھ کر نماز کی جگہ بیٹھ کر اللہ کے ذکر و فکر میں مشغول رہتا ہے یا قرآن کی تلاوت کرتا ہے تاآنکہ سورج بلند ہوجائے پھر وہ اشراق کی دو رکعتیں پڑھتا ہے، تو اسے وہ اجر ملے گا جو حدیثوں میں وارد ہے، اس لیے کہ اس نے معذور ہونے کے باعث اپنے گھر میں نماز پڑھی ہے، اسی طرح عورت جب نماز فجر کے بعد اپنی نماز کی جگہ بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتی ہے یا قرآن کی تلاوت کرتی ہے تاآنکہ سورج بلند ہو جائے، پھر وہ اشراق کی دو رکعتیں پڑھتی ہے تو اس کو وہی اجر ملے گا جو حدیثوں میں وارد ہے۔

(مجموعۃ فتاوی و مقالات متنوعۃ: ابن باز: جلد 11 صفحہ 403، 404)

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی سیرت ہمیں بوقت صبح ذکر الہٰی کی اہمیت سکھلاتی ہے اور اس وقت نہ سونے کی ترغیب دلاتی ہے۔

ابن القیم رحمہ اللہ بوقت صبح ذکر الہٰی کی اہمیت واضح کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’’فقہائے کرام کے نزدیک نماز صبح اور طلوع آفتاب کے درمیان سونا مکروہ ہے، وہ تو (ثوابوں کا) خزانہ سمیٹنے کا وقت ہوتا ہے، زاہدوں کے نزدیک اس وقت اللہ کی جانب متوجہ ہونے کی ایک خاص خصوصیت ہے، اگر رات بھر اللہ کی جانب متوجہ ہو کر عبادت کرتے رہے ہوں تو بھی اس وقت طلوع آفتاب تک عبادت منقطع نہیں کرتے ہیں، اس لیے کہ اسی وقت سے دن کی ابتدا ہوتی ہے، اسی وقت روزیاں نازل ہوتی ہیں اور تقسیم کی جاتی ہیں، اسی وقت برکتوں کانزول ہوتا ہے، وہیں سے دن شروع ہوتا ہے، دن کے اسی حصے کے حکم پر پورے دن کا حکم مرتب ہوتا ہے، اس لیے اضطراری حالت ہی میں اس وقت سونا چاہیے۔‘

(تہذیب مدارج السالکین: صفحہ 248)

اس وقت کی فضیلت اور اس میں اللہ کی عبادت کی اہمیت کے باعث اس وقت ذکر الہٰی میں مشغول رہنے کی احادیث میں شدید ترغیب دلائی گئی ہے، چنانچہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مَنْ صَلَّی الْفَجْرَ فِیْ جَمَاعَۃٍ ثُمَّ قَعَدَ یَذْکُرُ اللّٰہَ تَعَالٰی حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ ثُمَّ صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ کَانَتْ کَأَجْرِ حَجَّۃٍ وَ عُمْرَۃٍ تَامَّۃٍ تَامَّۃٍ تَامَّۃٍ۔

(سنن الترمذی: رقم: 586، امام ترمذیؒ کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔)

’’جس نے نماز فجر باجماعت پڑھی، پھر بیٹھا طلوع آفتاب تک اللہ کو یاد کرتا رہا، پھر دو رکعت نماز پڑھی تو اس کو حج و عمرہ کا پورا پورا ثواب ملے گا۔‘‘

ابن رجب رحمہ اللہ کہتے ہیں: حج افضل اعمال میں سے ہے، لوگ اس کے کافی مشتاق ہوتے ہیں اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے دلوں میں خانۂ کعبہ کی جانب ایک خاص کشش رکھ دی ہے، اور بہت سارے لوگ اس افضل عمل کو ادا کرنے سے قاصر رہتے ہیں، بالخصوص ہر سال ادا نہیں کرسکتے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے ایسے اعمال مشروع قرار دیا کہ جن کا ثواب حج کے ثواب کے برابر ہوتا ہے تاکہ ان کے ذریعہ سے نفلی حج نہ کرسکنے والوں کو اس کا بدل مل جائے۔

(طائف المعارف: صفحہ 351، البدر فی الحث علی صلاۃ الفجر: الدکتور عماد علی: صفحہ 86)

استاذ بناء کہتے ہیں: اے برادرانِ محترم! ہر دن تمھارے سامنے صبح و شام اور سحر گاہی میں کچھ ایسے مخصوص اوقات ہیں جن میں تم ملا اعلیٰ سے اپنا روحانی ربط قائم کرسکتے ہو، اور دنیا و آخرت کی بھلائیوں سے اپنے دامنِ مراد کو بھر سکتے ہو، تمھارے سامنے اطاعتوں کے مواقع، عبادتوں کے دن اور قربتوں کی راتیں ہیں، جن کی جانب تمھیں قرآن مجید اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم متوجہ کرتے ہیں، اس لیے آپ بھرپور کوشش کریں کہ آپ ان اوقات میں ذکر الہٰی میں مشغول رہیں، غفلت نہ کریں، نیک عمل کرنے والے ہوں، عمل سے پہلو تہی کرنے والے نہ ہوں، وقت کو غنیمت سمجھیں، وقت تلوار کی مانند ہے، کاموں کو دوسرے وقت پر ٹالنے کی عادت چھوڑ دیں یہ بہت مضر عادت ہے۔

صفحہ 2 از 4