سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی عبادت - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی عبادت

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 4

(الرقائق: صفحہ 18، نقلا عن مجلۃ الدعوۃ عدد: صفحہ 8، 1951ء الإیمان أولا: صفحہ 248)

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما طلوع آفتاب کے وقت کہتے تھے:

سَمِعَ سَامِعٌ بِحَمْدِ اللّٰہِ الْأَعْظَمِ لَا شَرِیْکَ لَہٗ، لَہُ الْمُلْکُ وَ لَہُ الْحَمْدُ وَ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ سَمِعَ سَامِعٌ بِحَمْدِ اللّٰہِ الْأَمْجَدِ لَا شَرِیْکَ لَہٗ، لَہُ الْمُلْکُ وَ لَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔

(الطبقات: جلد 1 صفحہ 291، تحقیق السلمی: اس کی سند صحیح ہے۔)

’’سننے والے نے عظمتوں والے اللہ کی حمد کو سنا، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت اور تمام تعریفیں ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ سننے والے نے بزرگیوں والے اللہ کی حمد کو سنا، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت اور تمام تعریفیں ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ اورادو و ظائف اور دعاؤں کا التزام کرتے تھے، لوگوں کو مسجدوں میں باجماعت نماز ادا کرنے پر ابھارتے رہتے تھے، سیدنا حسنؓ فرمایا کرتے تھے جو شخص مسجد جاتا رہتا ہے اللہ تعالیٰ اسے درج ذیل خصلتوں میں سے ایک عطا کرتا ہے:

’’حاصل ہونے والی بھائی چارگی اور ڈھانپ لینے والی شفقت، یا وسیع علم، یا ہدایت کی کوئی بات، یا حیا اور ڈر سے گناہوں کا ترک کردینا۔‘‘

(عیون الأخبار: جلد 3 صفحہ 5، الحسن بن علی: صفحہ 27)

سیدنا حسنؓ تہجد گزار تھے، آپ رات کے پہلے پہر اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آخری پہر میں قیام (تہجد) کا اہتمام کرتے تھے۔

(الزہد لابن حنبل: صفحہ 171، رہبان اللیل: جلد 1 صفحہ 403 للعفانی)

قیام اللیل ایمان کی تازگی کے اہم ترین وسائل میں سے ہے، نیک لوگوں کے تجربے میں یہ بات آئی ہے کہ دلوں کو زندگی عطا کرنے میں اس کا بہت موثر کردار ہوتا ہے۔

’’المدخل‘‘میں ابن الحاج کہتے ہیں: قیام اللیل کے بہت سارے فوائد ہیں، ان میں سے بعض درج ذیل ہیں:

1۔ اس سے گناہ ایسے جھڑ جاتے ہیں جیسے آندھی سے درخت کے سوکھے پتے۔

2۔ اس سے دلوں کو روشنی حاصل ہوتی ہے۔

3۔ قیام اللیل ادا کرنے والا آسمان سے فرشتوں کو ویسے ہی دکھائی دیتا ہے جیسا کہ زمین والوں کو آسمان پر کوئی روشن ستارہ۔

4۔ قیام اللیل اپنے ادا کرنے والے کے لیے ایسی روشنیوں اور برکتوں کا باعث ہوتا ہے جو بیان سے باہر ہیں۔

(الإیمان أولا: صفحہ 172)

قیام اللیل (تہجد) مومن کے لیے باعثِ شرف ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

شَرْفُ الْمُوْمِنِ صَلَاتُہٗ بِاللَّیْلِ وَ عِزُّہُ اسْتِغْنَاؤُہٗ عَمَّا فِیْ أَیْدِي النَّاسِ۔

(صحیح الجامع: رقم: 3701، السلسلۃ الصحیحۃ: رقم: 1903) 

’’مومن کا شرف قیام اللیل (تہجد) ادا کرنا ہے اور اس کی عزت لوگوں کے مال و دولت سے مستغنی رہنا ہے۔‘‘

حبِ الہٰی کے دعوے اس وقت تک نہیں مانے جاسکتے ہیں جب تک کہ اس کی دلیلیں نہ ہوں، رات کی گھڑیاں اس کی شہادت نہ دیں، پس ہر مدعی پر دلیل ضروری ہے، قیام اللیل کرنے والے ہی لوگوں کے مابین لائق عزت و احترام ہیں، اور ہم جیسے غافل اور سونے والوں کو مذکورہ گھڑیاں رسوا کردیتی ہیں، ان کا تذکرہ باقی نہیں رہتا، ان کی شرافت داغ دار ہو جاتی ہے۔

(الإیمان أولا: صفحہ 173)

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی سیرت سے ہمیں قیام اللیل (تہجد) کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے، رات میں صدق و اخلاص کاجذبہ دلوں میں بسایا جاسکتا ہے، یہ جذبہ جس قدر زیادہ ہوگا دل میں بھلائی کا عنصر اسی قدر زیادہ ہوگا، اور دل میں بھلائی کا عنصر جس قدر زیادہ ہوگا اسی قدر ہر جانب سے بھلائی ہی بھلائی حاصل ہوگی۔ 

اِنۡ يَّعۡلَمِ اللّٰهُ فِىۡ قُلُوۡبِكُمۡ خَيۡرًا يُّؤۡتِكُمۡ خَيۡرًا مِّمَّاۤ اُخِذَ مِنۡكُمۡ ۞ (سورۃ الأنفال آیت 70)

ترجمہ: اگر اللہ تمہارے دلوں میں بھلائی دیکھے گا جو مال تم سے (فدیہ میں) لیا گیا ہے اس سے بہتر تمہیں دیدے گا اور تمہاری بخشش کردے گا، اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

’’اگر اللہ تعالیٰ تمھارے دلوں میں نیک نیتی دیکھے گا تو جو کچھ تم سے لیا گیا ہے اس سے بہتر تمھیں دے گا۔‘‘

قیام اللیل (تہجد) شکر کی ان اہم ترین شکلوں میں سے ہے جنھیں سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما انجام دیتے تھے، اللہ تعالیٰ کی بے پایاں نعمتوں کا شکر ادا کرنا عبودیت کے مقاصد میں سے ہے، شکر عمل ہے اور شکر گزار بندہ وہی ہوتا ہے جس پر نعمت کا اثر ظاہر ہو، اور بندے پر نعمت کا جو بھرپور اثر ظاہر ہونا چاہیے وہ تواضع و خاکساری اور نعمتوں کے عطا کرنے والے کی تعظیم ہے۔

(الإیمان أولا: صفحہ 174)

فرمان الہٰی ہے:

وَاِذَا مَسَّ الۡاِنۡسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهٗ مُنِيۡبًا اِلَيۡهِ ثُمَّ اِذَا خَوَّلَهٗ نِعۡمَةً مِّنۡهُ نَسِىَ مَا كَانَ يَدۡعُوۡۤا اِلَيۡهِ مِنۡ قَبۡلُ وَجَعَلَ لِلّٰهِ اَنۡدَادًا لِّيُـضِلَّ عَنۡ سَبِيۡلِهٖ‌ قُلۡ تَمَتَّعۡ بِكُفۡرِكَ قَلِيۡلًا ‌اِنَّكَ مِنۡ اَصۡحٰبِ النَّارِ‏ ۞ اَمَّنۡ هُوَ قَانِتٌ اٰنَآءَ الَّيۡلِ سَاجِدًا وَّقَآئِمًا يَّحۡذَرُ الۡاٰخِرَةَ وَيَرۡجُوۡا رَحۡمَةَ رَبِّهٖ‌ قُلۡ هَلۡ يَسۡتَوِى الَّذِيۡنَ يَعۡلَمُوۡنَ وَالَّذِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ‌ اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ۞ ( سورۃ الزمر آیت 8، 9)

ترجمہ: اور جب انسان کو کوئی تکلیف چھو جاتی ہے تو وہ اپنے پروردگار کو اسی سے لو لگا کر پکارتا ہے، پھر جب وہ انسان کو اپنی طرف سے کوئی نعمت بخش دیتا ہے تو وہ اس (تکلیف) کو بھول جاتا ہے جس کے لیے پہلے اللہ کو پکار رہا تھا، اور اللہ کے لیے شریک گھڑ لیتا ہے، جس کے نتیجے میں دوسروں کو بھی اللہ کے راستے سے بھٹکاتا ہے۔ کہہ دو کہ: کچھ دن اپنے کفر کے مزے اڑا لے، یقیناً تو دوزخ والوں میں شامل ہے۔ بھلا (کیا ایسا شخص اس کے برابر ہوسکتا ہے) جو رات کی گھڑیوں میں عبادت کرتا ہے، کبھی سجدے میں، کبھی قیام میں، آخرت سے ڈرتا ہے، اور اپنے پروردگار کی رحمت کا امیدوار ہے؟ کہو کہ: کیا وہ جو جانتے ہیں اور جو نہیں جانتے سب برابر ہیں؟ (مگر) نصیحت تو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقل والے ہیں۔

صفحہ 3 از 4