سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی عبادت - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی عبادت

  علی محمد الصلابی

صفحہ 4 از 4

اللہ تعالیٰ کے نعمت یافتہ دو طرح کے لوگوں کے بارے میں ان آیتوں میں گفتگو کی گئی ہے، پہلے وہ لوگ جو مشکل حالات سے گزر رہے تھے، تکلیف و پریشانی میں مبتلا تھے، دل کی گہرائی سے اللہ کو پکارا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تکلیفوں کو ختم کردیا، پریشانیوں کو دور کردیا، لیکن انھوں نے شکر کا راستہ اختیار نہیں کیا اور اپنی سخت گمراہی کی جانب لوٹ گئے، دوسرے وہ لوگ جو اللہ کے سامنے گریہ وزاری اور راتوں میں لمبی دعائیں کرکے شکر کی راہ پر چلتے رہے، قرآن مجید ان دونوں صورتوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتا ہے:

قُلۡ هَلۡ يَسۡتَوِى الَّذِيۡنَ يَعۡلَمُوۡنَ وَالَّذِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ‌۞ (سورۃ الزمر آیت 9)

 ترجمہ: کہو کہ: کیا وہ جو جانتے ہیں اور جو نہیں جانتے سب برابر ہیں؟

یعنی جو شکر اور نعمتوں کے حقوق جانتے ہیں وہ اور وہ جو انھیں نہیں جانتے برابر نہیں ہوسکتے۔

(الإیمان أولا: صفحہ 175)

شاعر کہتا ہے:

القانتون المخبتون لربہم الناطقون بأصدق الأقوال

’’اپنے رب کے سامنے عجز و انکساری کا اظہار کرنے والے، فرماں بردار اور سچ بولنے والے بندے‘‘

یحیون لیلہم بطاعۃ ربہم بـتـلاوۃ و تــضـــرع و سـؤال

’’اپنے رب کی اطاعت میں شب بیداری کرتے ہیں دعا، گریہ وزاری اور قرآن کی تلاوت کرتے ہیں۔‘‘

و عیونہم تجری بفیض دموعہم مثل انہمال الوابل الہطال

’’موسلا دھار بارش کے مانند ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کی بارش ہورہی ہے۔‘‘

فی اللیل رہبان وعند جہادہم لعدُوِّہم من أشجع الأبطال

’’راتوں میں وہ عبادت گزار اور دشمنوں سے جہاد میں وہ بہادر ترین ہیں۔‘‘

بوجہہم أثر السجود لربہم و بہا أشعۃ نورہ المتلالی 

(رہبان اللیل: جلد 1 صفحہ 365)

’’ان کی پیشانیوں پر اپنے رب کے لیے سجدوں کے نشانات اور چمکتے نور کی شعاعیں ہیں۔‘‘

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے بکثرت حج کیے تھے، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اپنی جوانی میں جس چیز کے نہ کرسکنے پر مجھے ندامت ہے وہ یہ کہ میں پیدل حج نہ کرسکا، سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے پچیس مرتبہ پیدل حج کیا ہے جب کہ سیدنا حسنؓ کے ساتھ اونٹوں کا قافلہ چل رہا تھا، سیدنا حسنؓ نے اپنے اور اللہ کے مابین اپنے مال کو تین مرتبہ تقسیم کیا یہاں تک کہ چرمی موزہ دے دیتے اور جوتا اپنے پاس رکھتے۔

(سیر أعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 260)

یہ ان چیزوں کے التزام کی مثال ہے جو شرعاً لازم نہیں ہیں۔ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما ان کا التزام کرتے تھے، اس طرح کہ سیدنا حسنؓ نے پچیس مرتبہ پیدل حج کا التزام کیا، اس سے حج کی ادائیگی میں پیدل چلنے کی فضیلت کا پتہ چلتا ہے، اس کی تائید عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی ندامت سے ہوتی ہے کہ آپ اس چیز کو اپنے ایام شباب میں انجام نہ دے سکے جب کہ مشقت کے باوجود سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اس پر مداومت کرتے تھے۔ اس سے آپ کی قوتِ ایمانی اور مزید نیک اعمال کی سچی رغبت کا پتہ چلتا ہے۔ حج میں پیدل چلنے سے مقصود مکہ سے عرفہ اور عرفہ سے مکہ تک پیدل چلنا ہے، اس سے مقصود یہ نہیں کہ حاجی اپنے ملک سے پیدل چل کر حج کے لیے جائے۔

(التاریخ الإسلامی: جلد 19، صفحہ 221)

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی سیرت سے سہولت اور آسانی کی صورت میں خانۂ کعبہ کے سفر کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔ فرمان نبوی ہے:

تَابِعُوْا بَیْنَ الْحَجِّ وَ الْعُمْرَۃِ فَإِنَّ مُتَابَعَۃُ بَیْنِہِمَا تَنْقِی الْفَقْرَ وَالذُّنُوْبَ کَمَا یَنْفِی الْکِیْرُ خُبْثَ الْحَدِیْدَ۔

(الإیمان أولا: صفحہ 249)

’’حج اور عمرے کے تسلسل کو باقی رکھو، ان کا تسلسل فقر اور گناہوں کو ایسے ہی ختم کر دیتا ہے جیسے بھٹی لوہے کی میل کچیل کو۔‘‘

اسی لیے بعض روایتوں کے مطابق سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے پچیس مرتبہ پیدل حج کیا جب کہ سیدنا حسنؓ کے ساتھ اونٹوں کا قافلہ چل رہا تھا۔

(تاریخ ابن عساکر: جلد 14 صفحہ 72)

آپ کہا کرتے تھے: میں اس بات پر شرم محسوس کرتا ہوں کہ اپنے رب سے اس حال میں ملوں کہ اس کے گھر کا پیدل سفر نہ کیے رہوں۔

(تاریخ ابن عساکر: جلد 14 صفحہ 71)

سیدنا حسنؓ بہت خاموش طبیعت اور اپنے نانا کے طریقے پر عبادت گزار تھے۔


صفحہ 4 از 4