سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا زہد و تقویٰ - دفاعِ اہلِ سنت |…

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا زہد و تقویٰ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

قرآن سے لگاؤ، اپنے والد امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کی صحبت اور اس کائنات میں غور و فکر سے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے یہ سمجھا کہ دنیا امتحان و آزمائش کی جگہ ہے، سیدنا حسنؓ قرآن کے تربیت یافتہ تھے، ان آیتوں کو ذہن نشین کرلیا تھا جو دنیا کے بارے میں گفتگو کرتی ہیں، اس کی ذلت و حقارت اور بعجلت فنا و زوال کو بتلاتی ہیں، سیدنا حسنؓ روزانہ سورۂ کہف کی تلاوت کرتے اور اس فرمان الہٰی سے گزرتے:

وَدَخَلَ جَنَّتَهٗ وَهُوَ ظَالِمٌ لِّنَفۡسِهٖ‌ قَالَ مَاۤ اَظُنُّ اَنۡ تَبِيۡدَ هٰذِهٖۤ اَبَدًا ۞ اَلۡمَالُ وَ الۡبَـنُوۡنَ زِيۡنَةُ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا‌ وَالۡبٰقِيٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَيۡرٌ عِنۡدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّخَيۡرٌ اَمَلًا ۞

(سورۃ الكهف آیت 35، 46)

ترجمہ: اور وہ اپنی جان پر ستم ڈھاتا ہوا اپنے باغ میں داخل ہوا۔ کہنے لگا : میں نہیں سمجھتا کہ یہ باغ کبھی بھی تباہ ہوگا۔ مال اور اولاد دنیوی زندگی کی زینت ہیں، اور جو نیکیاں پائیدار رہنے والی ہیں، وہ تمہارے رب کے نزدیک ثواب کے اعتبار سے بھی بہتر ہیں، اور امید وابستہ کرنے کے لیے بھی بہتر۔

یہ مثال بتلاتی ہے کہ دنیا ایک حقیر اور چند روزہ چیز ہے، اس کی نعمتیں اور تن آسانیاں ختم ہونے والی ہیں، یہ بیان کرنے کے ساتھ ساتھ کہ دنیا بہت جلد ختم و فنا ہونے والی ہے، اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بیان کیا کہ مال و اولاد لوگوں کے نزدیک دنیاوی زندگی کی زیب و زینت ہیں، اور دنیا کی ہر زینت بہت جلد ختم ہونے والی ہے، اس لیے اس پر خوش ہونا یا فخر کرنا عقل مندوں کا کام نہیں۔

(التفسیر المنیر: جلد 15، صفحہ 259)

وَالۡبٰقِيٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَيۡرٌ عِنۡدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّخَيۡرٌ اَمَلًا ۞ (سورۃ الكهف آیت 46)

ترجمہ: اور جو نیکیاں پائیدار رہنے والی ہیں، وہ تمہارے رب کے نزدیک ثواب کے اعتبار سے بھی بہتر ہیں، اور امید وابستہ کرنے کے لیے بھی بہتر۔

یعنی نیک اعمال اور عبادتیں جیسے نمازیں، صدقات، جہاد فی سبیل اللہ، غریبوں محتاجوں کی مدد، اور اوراد و وظائف وغیرہ ثواب میں بہتر، اللہ کی قربت کے زیادہ باعث اور تا دیر اثر والے ہیں، اس لیے کہ ان کا ثواب انھیں انجام دینے والے کو ملنے والا ہے، اور ازروئے توقع بہتر ہیں اس لیے کہ انھیں انجام دینے والا آخرت میں ہر وہ چیز پائے گا جس کی دنیا میں وہ توقع کرتا تھا۔

(التفسیر المنیر: جلد 15، صفحہ 261)

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی تربیت سیدنا حسنؓ کے نانا صلی اللہ علیہ وسلم کے منہج پر ہوئی جو دنیا کی حقیقت کو سب سے زیادہ جاننے والے تھے، اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا فرمان ہے:

لَوْکَانَتِ الدُّنْیَا تَعْدِلُ عِنْدَ اللّٰہِ جَنَاحَ بَعُوْضَۃٍ مَا سَقَی کَافِرٌا شِرْبَۃَ مَائٍ

(سنن الترمذی: رقم: 4110، یہ حدیث صحیح غریب ہے۔)

’’اگر اللہ کے نزدیک دنیا کی قدر و قیمت ایک مچھر کے پر کے برابر ہوتی تو وہ کسی کافر کو پانی کا ایک گھونٹ نہ پینے دیتا۔‘‘

نیز فرمایا:

مَا الدُّنْیَا فِی الْآخِرَۃِ إِلَّا مِثْلَ مَا یَجْعَلُ أَحَدُکُمْ اِصْبَعَہٗ فِی الْیَمِّ فَلْیَنْظُرْ بِمَ تَرْجِعُ۔

(صحیح مسلم: رقم: 2858) 

’’آخرت کے مقابلے میں دنیا ایسے ہی ہے کہ کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈبو دے پھر نکال کر دیکھے کہ سمندر کا کون سا حصہ نکل کر آیا ہے۔‘‘

نیز فرمایا:

اَلدُّنْیَا سِجْنُ الْمُوْمِنِ وَ جَنَّۃُ الْکَافِرِ۔

(صحیح مسلم: رقم: 2856)

’’دنیا مومن کا قید خانہ اور کافر کی جنت ہے۔‘‘

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما قرآنی اور نبوی تربیت یافتہ تھے، اس لیے سیدنا حسنؓ زہد کا اعلیٰ نمونہ تھے، سیدنا حسنؓ نے زہد کی نہایت عمدہ مثالیں پیش کی ہیں جن کی تفصیل درج ذیل ہے:

سلطنت اور عزو شرف کے لیے آدمی کی حرص، مال کی حرص سے زیادہ ہوتی ہے، اسی طرح دنیاوی عز وجاہ، سرداری اور زمین میں سربلندی کی چاہت، بندے کے لیے مال کی طلب سے زیادہ مضر ہے، اس میں زہد و تقویٰ نہیں پایا جاسکتا ہے، سرداری اور عز و شرف کی طلب میں مال خرچ کردیے جاتے ہیں، عز و شرف کی حرص دو قسم کی ہوتی ہے:

1۔ مال و سلطنت اور اقتدار و بالا دستی کے ذریعہ سے عز و شرف کی طلب، یہ نہایت خطرناک چیز ہے، یہ چیز عموماً آخرت کی بھلائی اور اس کے عزو جاہ سے مانع ہوتی ہے۔ فرمان الہٰی ہے: 

تِلۡكَ الدَّارُ الۡاٰخِرَةُ نَجۡعَلُهَا لِلَّذِيۡنَ لَا يُرِيۡدُوۡنَ عُلُوًّا فِى الۡاَرۡضِ وَلَا فَسَادًا‌ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ ۞ (سورۃ القصص آیت 83)

ترجمہ: وہ آخرت والا گھر تو ہم ان لوگوں کے لیے مخصوص کردیں گے جو زمین میں نہ تو بڑائی چاہتے ہیں، اور نہ فساد، اور آخرت انجام پرہیزگاروں کے حق میں ہوگا۔

جو لوگ اقتدار حاصل کرکے دنیا کی سرداری کے حریص ہوتے ہیں انھیں توفیق الٰہی نہیں ملتی، بلکہ وہ اپنے حال پر چھوڑ دیے جاتے ہیں،

(شرح حدیث: ما ذئبان جائعان لابن رجب: صفحہ 33)

جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: 

یَا عَبْدَالرَّحْمٰنِ لَا تَسْأَلِ الْإِمَارَۃَ فَإِنَّکَ إِنْ أُعْطِیْتَہَا عَنْ مَسْأَلَۃٍ وُکِّلْتَ إِلَیْہَا، وَإِنْ أُعْطِیْتَہَا مِنْ غَیْرِ مَسْئَلَۃٍ أُعِنْتَ عَلَیْہِ۔

(صحیح البخاری: رقم: 6622) 

’’اے ابوعبدالرحمٰن تم امارت مت طلب کرنا، اگر طلب کرنے پر تمھیں امارت مل گئی تو تمھارا کوئی معاون نہ ہوگا اور اگر بغیر طلب کے مل گئی تو لوگ تمھارے ساتھ تعاون کریں گے۔‘‘

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إِنَّکُمْ سَتَحْرُصُوْنَ عَلَی الْاِمَارَۃِ وَ سَتَکُوْنُ نِدَامَۃً یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَنِعْمَتِ الْمُرْضِعَۃُ وَ بِئْسَتِ الْفَاطِمَۃُ۔

(صحیح البخاری: رقم: 7138)

’’تم امارت و حکومت کے حریص رہو گے، حالاں کہ وہ یوم قیامت باعثِ ندامت ہوگی، امارت و حکومت (ملنے کے وقت) کیا ہی بہتر دودھ پلانے والی ہے اور (چھن جانے پر) کیا ہی بری دودھ چھڑانے والی ہے۔‘‘

مال اور اقتدار کی محبت ان کی حرص آدمی کے دین کو برباد کردیتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

صفحہ 1 از 2