قرآن سے لگاؤ، اپنے والد امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کی صحبت اور اس کائنات میں غور و فکر سے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے یہ سمجھا کہ دنیا امتحان و آزمائش کی جگہ ہے، سیدنا حسنؓ قرآن کے تربیت یافتہ تھے، ان آیتوں کو ذہن نشین کرلیا تھا جو دنیا کے بارے میں گفتگو کرتی ہیں، اس کی ذلت و حقارت اور بعجلت فنا و زوال کو بتلاتی ہیں، سیدنا حسنؓ روزانہ سورۂ کہف کی تلاوت کرتے اور اس فرمان الہٰی سے گزرتے:
وَدَخَلَ جَنَّتَهٗ وَهُوَ ظَالِمٌ لِّنَفۡسِهٖ قَالَ مَاۤ اَظُنُّ اَنۡ تَبِيۡدَ هٰذِهٖۤ اَبَدًا ۞ اَلۡمَالُ وَ الۡبَـنُوۡنَ زِيۡنَةُ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَالۡبٰقِيٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَيۡرٌ عِنۡدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّخَيۡرٌ اَمَلًا ۞
(سورۃ الكهف آیت 35، 46)
ترجمہ: اور وہ اپنی جان پر ستم ڈھاتا ہوا اپنے باغ میں داخل ہوا۔ کہنے لگا : میں نہیں سمجھتا کہ یہ باغ کبھی بھی تباہ ہوگا۔ مال اور اولاد دنیوی زندگی کی زینت ہیں، اور جو نیکیاں پائیدار رہنے والی ہیں، وہ تمہارے رب کے نزدیک ثواب کے اعتبار سے بھی بہتر ہیں، اور امید وابستہ کرنے کے لیے بھی بہتر۔
یہ مثال بتلاتی ہے کہ دنیا ایک حقیر اور چند روزہ چیز ہے، اس کی نعمتیں اور تن آسانیاں ختم ہونے والی ہیں، یہ بیان کرنے کے ساتھ ساتھ کہ دنیا بہت جلد ختم و فنا ہونے والی ہے، اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بیان کیا کہ مال و اولاد لوگوں کے نزدیک دنیاوی زندگی کی زیب و زینت ہیں، اور دنیا کی ہر زینت بہت جلد ختم ہونے والی ہے، اس لیے اس پر خوش ہونا یا فخر کرنا عقل مندوں کا کام نہیں۔
(التفسیر المنیر: جلد 15، صفحہ 259)
وَالۡبٰقِيٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَيۡرٌ عِنۡدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّخَيۡرٌ اَمَلًا ۞ (سورۃ الكهف آیت 46)
ترجمہ: اور جو نیکیاں پائیدار رہنے والی ہیں، وہ تمہارے رب کے نزدیک ثواب کے اعتبار سے بھی بہتر ہیں، اور امید وابستہ کرنے کے لیے بھی بہتر۔
یعنی نیک اعمال اور عبادتیں جیسے نمازیں، صدقات، جہاد فی سبیل اللہ، غریبوں محتاجوں کی مدد، اور اوراد و وظائف وغیرہ ثواب میں بہتر، اللہ کی قربت کے زیادہ باعث اور تا دیر اثر والے ہیں، اس لیے کہ ان کا ثواب انھیں انجام دینے والے کو ملنے والا ہے، اور ازروئے توقع بہتر ہیں اس لیے کہ انھیں انجام دینے والا آخرت میں ہر وہ چیز پائے گا جس کی دنیا میں وہ توقع کرتا تھا۔
(التفسیر المنیر: جلد 15، صفحہ 261)
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی تربیت سیدنا حسنؓ کے نانا صلی اللہ علیہ وسلم کے منہج پر ہوئی جو دنیا کی حقیقت کو سب سے زیادہ جاننے والے تھے، اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا فرمان ہے:
لَوْکَانَتِ الدُّنْیَا تَعْدِلُ عِنْدَ اللّٰہِ جَنَاحَ بَعُوْضَۃٍ مَا سَقَی کَافِرٌا شِرْبَۃَ مَائٍ
(سنن الترمذی: رقم: 4110، یہ حدیث صحیح غریب ہے۔)
’’اگر اللہ کے نزدیک دنیا کی قدر و قیمت ایک مچھر کے پر کے برابر ہوتی تو وہ کسی کافر کو پانی کا ایک گھونٹ نہ پینے دیتا۔‘‘
نیز فرمایا:
مَا الدُّنْیَا فِی الْآخِرَۃِ إِلَّا مِثْلَ مَا یَجْعَلُ أَحَدُکُمْ اِصْبَعَہٗ فِی الْیَمِّ فَلْیَنْظُرْ بِمَ تَرْجِعُ۔
(صحیح مسلم: رقم: 2858)
’’آخرت کے مقابلے میں دنیا ایسے ہی ہے کہ کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈبو دے پھر نکال کر دیکھے کہ سمندر کا کون سا حصہ نکل کر آیا ہے۔‘‘
نیز فرمایا:
اَلدُّنْیَا سِجْنُ الْمُوْمِنِ وَ جَنَّۃُ الْکَافِرِ۔
(صحیح مسلم: رقم: 2856)
’’دنیا مومن کا قید خانہ اور کافر کی جنت ہے۔‘‘
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما قرآنی اور نبوی تربیت یافتہ تھے، اس لیے سیدنا حسنؓ زہد کا اعلیٰ نمونہ تھے، سیدنا حسنؓ نے زہد کی نہایت عمدہ مثالیں پیش کی ہیں جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
سلطنت اور عزو شرف کے لیے آدمی کی حرص، مال کی حرص سے زیادہ ہوتی ہے، اسی طرح دنیاوی عز وجاہ، سرداری اور زمین میں سربلندی کی چاہت، بندے کے لیے مال کی طلب سے زیادہ مضر ہے، اس میں زہد و تقویٰ نہیں پایا جاسکتا ہے، سرداری اور عز و شرف کی طلب میں مال خرچ کردیے جاتے ہیں، عز و شرف کی حرص دو قسم کی ہوتی ہے:
1۔ مال و سلطنت اور اقتدار و بالا دستی کے ذریعہ سے عز و شرف کی طلب، یہ نہایت خطرناک چیز ہے، یہ چیز عموماً آخرت کی بھلائی اور اس کے عزو جاہ سے مانع ہوتی ہے۔ فرمان الہٰی ہے:
تِلۡكَ الدَّارُ الۡاٰخِرَةُ نَجۡعَلُهَا لِلَّذِيۡنَ لَا يُرِيۡدُوۡنَ عُلُوًّا فِى الۡاَرۡضِ وَلَا فَسَادًا وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ ۞ (سورۃ القصص آیت 83)
ترجمہ: وہ آخرت والا گھر تو ہم ان لوگوں کے لیے مخصوص کردیں گے جو زمین میں نہ تو بڑائی چاہتے ہیں، اور نہ فساد، اور آخرت انجام پرہیزگاروں کے حق میں ہوگا۔
جو لوگ اقتدار حاصل کرکے دنیا کی سرداری کے حریص ہوتے ہیں انھیں توفیق الٰہی نہیں ملتی، بلکہ وہ اپنے حال پر چھوڑ دیے جاتے ہیں،
(شرح حدیث: ما ذئبان جائعان لابن رجب: صفحہ 33)
جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
یَا عَبْدَالرَّحْمٰنِ لَا تَسْأَلِ الْإِمَارَۃَ فَإِنَّکَ إِنْ أُعْطِیْتَہَا عَنْ مَسْأَلَۃٍ وُکِّلْتَ إِلَیْہَا، وَإِنْ أُعْطِیْتَہَا مِنْ غَیْرِ مَسْئَلَۃٍ أُعِنْتَ عَلَیْہِ۔
(صحیح البخاری: رقم: 6622)
’’اے ابوعبدالرحمٰن تم امارت مت طلب کرنا، اگر طلب کرنے پر تمھیں امارت مل گئی تو تمھارا کوئی معاون نہ ہوگا اور اگر بغیر طلب کے مل گئی تو لوگ تمھارے ساتھ تعاون کریں گے۔‘‘
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِنَّکُمْ سَتَحْرُصُوْنَ عَلَی الْاِمَارَۃِ وَ سَتَکُوْنُ نِدَامَۃً یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَنِعْمَتِ الْمُرْضِعَۃُ وَ بِئْسَتِ الْفَاطِمَۃُ۔
(صحیح البخاری: رقم: 7138)
’’تم امارت و حکومت کے حریص رہو گے، حالاں کہ وہ یوم قیامت باعثِ ندامت ہوگی، امارت و حکومت (ملنے کے وقت) کیا ہی بہتر دودھ پلانے والی ہے اور (چھن جانے پر) کیا ہی بری دودھ چھڑانے والی ہے۔‘‘
مال اور اقتدار کی محبت ان کی حرص آدمی کے دین کو برباد کردیتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
’’ایسے دو بھوکے بھیڑیے جنھیں بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیا گیا ہو وہ انھیں اتنا نقصان نہیں پہنچائیں گے جتنا کہ مال اور عزو شرف کی حرص انسان کے دین کو پہنچاتی ہے۔‘‘
(الإحسان فی تقریب صحیح ابن حبان: رقم: 3218، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔)
مال اور عز و شرف کی محبت کی بنیاد دنیا کی محبت ہے اور دنیا کی محبت خواہشات نفسانی کی پیروی ہے۔
(شرح حدیث: ما ذئبان جائعان لابن رجب: صفحہ 71)
وہب بن منبہ کا قول ہے: نفسانی خواہشات کی پیروی سے دنیا کی رغبت پیدا ہوتی ہے، اور دنیا کی رغبت سے مال اور عز و شرف کی محبت پیدا ہوتی ہے، اور مال و عز و شرف کی محبت میں انسان حرام چیزوں کو حلال سمجھنے لگتا ہے،
(شرح حدیث: ما ذئبان جائعان لابن رجب: صفحہ 71)
اسی لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَاَمَّا مَنۡ طَغٰى۞ وَاٰثَرَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا ۞ فَاِنَّ الۡجَحِيۡمَ هِىَ الۡمَاۡوٰى۞ وَاَمَّا مَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَى النَّفۡسَ عَنِ الۡهَوٰى۞ فَاِنَّ الۡجَـنَّةَ هِىَ الۡمَاۡوٰى۞
(سورۃ النازعات آیت 37 تا 41)
ترجمہ: تو وہ جس نے سرکشی کی تھی۔ اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی تھی۔ تو دوزخ ہی اس کا ٹھکانا ہوگی۔ لیکن وہ جو اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہونے کا خوف رکھتا تھا اور اپنے نفس کو بری خواہشات سے روکتا تھا۔ تو جنت ہی اس کا ٹھکانا ہوگی۔
2۔ اسی طرح نفس انسانی اپنی ہی جنس کے لوگوں پر برتری اور سربلندی چاہتا ہے، اور یہیں سے کبر و حسد وجود میں آتا ہے، لیکن عقلمند اس سربلندی میں دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتا ہے جسے دوام و بقا ہے، جس میں اللہ کی خوشنودی و قربت ہے، اور اس سربلندی سے اعراض کرتا ہے جسے زوال و فنا ہے، جس سے اللہ کا غضب اور اس کی ناراضی ملتی ہے، بندہ اللہ سے دور ہو جاتا ہے، اور لوگوں کی نگاہوں سے گرجاتا ہے۔
یہ دوسری مذموم سربلندی حقیقت میں روئے زمین میں ناحق سرکشی اور تکبر ہے، لیکن پہلی سربلندی اور اس کی حرص محمود ہے۔ فرمان الہٰی ہے:
خِتٰمُهٗ مِسۡكٌ وَفِىۡ ذٰلِكَ فَلۡيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوۡنَ ۞ (سورۃ المطففين آیت 26)
ترجمہ: اس کی مہر بھی مشک ہی مشک ہوگی۔ اور یہی وہ چیز ہے جس پر للچانے والوں کو بڑھ چڑھ کر للچانا چاہیے۔
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا قول ہے:
إِذَا رَأَیْتَ الرَّجُلَ یُنَافِسُکَ فِی الدُّنْیَا فَنَافِسْہُ فِی الْآخِرَۃِ۔
’’جب کسی کو پاؤ کہ وہ دنیا کے بارے میں تم پر سبقت لے جانے کی کوشش کر رہا ہے تو تم آخرت کے بارے میں اس پر سبقت لے جانے کی کوشش کرو۔‘‘
وہیب بن ورد کا قول ہے:
إن استطعت أن لا یسبقک إلی اللّٰہ أحد فافعل۔
(شرح حدیث: ما ذئبان جائعان لابن رجب: صفحہ 72)
’’اگر تم سے ہوسکے کہ اللہ کے تئیں تم پر کوئی سبقت نہ لے جاسکے تو تم ایسا ہی کرو۔‘‘
آخرت کے باقی رہنے والے درجات، اس کے بلند منازل کی طلب، اس کے اسباب کو اپنا کر اس کے حریص بننے میں تنافس مشروع ہے اور یہ بھی مشروع ہے کہ جو بلند درجات حاصل کر سکتا ہے وہ ان سے کم پر قناعت نہ کرے۔
رہی فانی اور زوال پذیر سربلندی جس کے طلب کرنے والے کے حصے میں کل کے دن حسرت وندامت، ذلت و رسوائی ہی آنے والی ہے تو اس سے کنارہ کشی اور اعراض مطلوب ہے۔
(شرح حدیث: ما ذئبان جائعان لابن رجب: صفحہ 73)
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی سیرت سے اس گہری سمجھ اور عظیم فقہ کا پتہ چلتا ہے، چنانچہ سیدنا حسنؓ نے مسلمانوں کی خوں ریزی کو روکنے اور آخرت کی طلب میں خلافت و سلطنت کو ترک کر دیا، قوت و شوکت کے مالک ہوتے ہوئے بھی سیدنا حسنؓ نے اسے چھوڑ دیا تھا۔ چنانچہ سیدنا حسنؓ فرماتے ہیں:
کَانَتْ جَمَاجِمُ الْعَرَبِ بِیَدِیْ یُسَالِمُوْنَ مَنْ سَالَمْتُ وَ یُحَارِبُوْنَ مَنْ حَارَبْتُ فَتَرَکْتُہَا ابْتِغَائَ وَجْہِ اللّٰہِ۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 11 صفحہ 206)
’’تمام عرب میری مٹھی میں تھے، میں جن کے لیے پر امن رہتا ان کے ساتھ وہ پر امن رہتے اور جن سے میں جنگ کرتا ان سے وہ بھی جنگ کرتے، لیکن میں نے اللہ کی خوشنودی کے لیے اسے (خلافت کو) ترک کردیا۔‘‘
ایک دوسری روایت میں سیدنا حسنؓ نے فرمایا:
وَ لٰکِنْ خَشِیْتُ أَنْ یَّجِیْئَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ سَبْعُوْنَ أَلْفًا أَوْ ثَمَانُوْنَ أَلْفًا أَوْ أَکْثَرُ أَوْ أَقَلُّ کُلُّہُمْ تَنْضِحُ أَوْدَاجُہُمْ دَمًا کُلُّہُمْ یَسْتَعْدِی اللّٰہُ فِیْمَ ہُرِیْقَ دَمُہٗ۔
(تاریخ دمشق: جلد 14 صفحہ 104)
’’لیکن میں ڈر گیا کہ قیامت کے دن ستر ہزار یا اسّی ہزار یا کچھ کم و بیش لوگ اس حال میں آئیں کہ ان کی رگوں سے خون بہ رہا ہو، سب کے سب اللہ سے فریاد کر رہے ہوں کہ کس سلسلے میں ان کا خون بہایا گیا۔‘‘
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے ہاتھ پر نوے ہزار لوگ بیعت کر چکے تھے،
(تاریخ دمشق: جلد 14 صفحہ 98)
پھر بھی سیدنا حسنؓ خلافت سے کنارہ کش ہوگئے اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حوالے یہ کہتے ہوئے کردی: ’’میری وجہ سے کچھ بھی خون نہ بہے۔ ‘‘
(تاریخ دمشق: جلد 14 صفحہ 98)
ایک دوسری روایت میں کہتے ہیں: میں نہیں چاہتا کہ میں امت محمدیہ کی کسی ایسی ادنیٰ چیز کا ذمہ دار بنوں جس میں خون بہے، میں اپنے لیے ضرر رساں اور نفع بخش چیزوں کو جانتا ہوں، تم سب اپنے علاقوں کو لوٹ جاؤ۔
(تاریخ دمشق: جلد 14 صفحہ 89)