سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا زہد و تقویٰ - دفاعِ اہلِ سنت |…

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا زہد و تقویٰ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

’’ایسے دو بھوکے بھیڑیے جنھیں بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیا گیا ہو وہ انھیں اتنا نقصان نہیں پہنچائیں گے جتنا کہ مال اور عزو شرف کی حرص انسان کے دین کو پہنچاتی ہے۔‘‘

(الإحسان فی تقریب صحیح ابن حبان: رقم: 3218، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔)

مال اور عز و شرف کی محبت کی بنیاد دنیا کی محبت ہے اور دنیا کی محبت خواہشات نفسانی کی پیروی ہے۔

(شرح حدیث: ما ذئبان جائعان لابن رجب: صفحہ 71)

وہب بن منبہ کا قول ہے: نفسانی خواہشات کی پیروی سے دنیا کی رغبت پیدا ہوتی ہے، اور دنیا کی رغبت سے مال اور عز و شرف کی محبت پیدا ہوتی ہے، اور مال و عز و شرف کی محبت میں انسان حرام چیزوں کو حلال سمجھنے لگتا ہے،

(شرح حدیث: ما ذئبان جائعان لابن رجب: صفحہ 71)

اسی لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

فَاَمَّا مَنۡ طَغٰى۞ وَاٰثَرَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا ۞ فَاِنَّ الۡجَحِيۡمَ هِىَ الۡمَاۡوٰى۞ وَاَمَّا مَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَى النَّفۡسَ عَنِ الۡهَوٰى۞  فَاِنَّ الۡجَـنَّةَ هِىَ الۡمَاۡوٰى۞

(سورۃ النازعات آیت 37 تا 41)

ترجمہ: تو وہ جس نے سرکشی کی تھی۔ اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی تھی۔ تو دوزخ ہی اس کا ٹھکانا ہوگی۔ لیکن وہ جو اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہونے کا خوف رکھتا تھا اور اپنے نفس کو بری خواہشات سے روکتا تھا۔ تو جنت ہی اس کا ٹھکانا ہوگی۔

2۔ اسی طرح نفس انسانی اپنی ہی جنس کے لوگوں پر برتری اور سربلندی چاہتا ہے، اور یہیں سے کبر و حسد وجود میں آتا ہے، لیکن عقلمند اس سربلندی میں دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتا ہے جسے دوام و بقا ہے، جس میں اللہ کی خوشنودی و قربت ہے، اور اس سربلندی سے اعراض کرتا ہے جسے زوال و فنا ہے، جس سے اللہ کا غضب اور اس کی ناراضی ملتی ہے، بندہ اللہ سے دور ہو جاتا ہے، اور لوگوں کی نگاہوں سے گرجاتا ہے۔

یہ دوسری مذموم سربلندی حقیقت میں روئے زمین میں ناحق سرکشی اور تکبر ہے، لیکن پہلی سربلندی اور اس کی حرص محمود ہے۔ فرمان الہٰی ہے:

خِتٰمُهٗ مِسۡكٌ ‌وَفِىۡ ذٰلِكَ فَلۡيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوۡنَ ۞ (سورۃ المطففين آیت 26)

ترجمہ: اس کی مہر بھی مشک ہی مشک ہوگی۔ اور یہی وہ چیز ہے جس پر للچانے والوں کو بڑھ چڑھ کر للچانا چاہیے۔

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا قول ہے:

إِذَا رَأَیْتَ الرَّجُلَ یُنَافِسُکَ فِی الدُّنْیَا فَنَافِسْہُ فِی الْآخِرَۃِ۔

’’جب کسی کو پاؤ کہ وہ دنیا کے بارے میں تم پر سبقت لے جانے کی کوشش کر رہا ہے تو تم آخرت کے بارے میں اس پر سبقت لے جانے کی کوشش کرو۔‘‘

وہیب بن ورد کا قول ہے:

إن استطعت أن لا یسبقک إلی اللّٰہ أحد فافعل۔

(شرح حدیث: ما ذئبان جائعان لابن رجب: صفحہ 72)

’’اگر تم سے ہوسکے کہ اللہ کے تئیں تم پر کوئی سبقت نہ لے جاسکے تو تم ایسا ہی کرو۔‘‘

آخرت کے باقی رہنے والے درجات، اس کے بلند منازل کی طلب، اس کے اسباب کو اپنا کر اس کے حریص بننے میں تنافس مشروع ہے اور یہ بھی مشروع ہے کہ جو بلند درجات حاصل کر سکتا ہے وہ ان سے کم پر قناعت نہ کرے۔

رہی فانی اور زوال پذیر سربلندی جس کے طلب کرنے والے کے حصے میں کل کے دن حسرت وندامت، ذلت و رسوائی ہی آنے والی ہے تو اس سے کنارہ کشی اور اعراض مطلوب ہے۔

(شرح حدیث: ما ذئبان جائعان لابن رجب: صفحہ 73)

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی سیرت سے اس گہری سمجھ اور عظیم فقہ کا پتہ چلتا ہے، چنانچہ سیدنا حسنؓ نے مسلمانوں کی خوں ریزی کو روکنے اور آخرت کی طلب میں خلافت و سلطنت کو ترک کر دیا، قوت و شوکت کے مالک ہوتے ہوئے بھی سیدنا حسنؓ نے اسے چھوڑ دیا تھا۔ چنانچہ سیدنا حسنؓ فرماتے ہیں:

کَانَتْ جَمَاجِمُ الْعَرَبِ بِیَدِیْ یُسَالِمُوْنَ مَنْ سَالَمْتُ وَ یُحَارِبُوْنَ مَنْ حَارَبْتُ فَتَرَکْتُہَا ابْتِغَائَ وَجْہِ اللّٰہِ۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 11 صفحہ 206)

’’تمام عرب میری مٹھی میں تھے، میں جن کے لیے پر امن رہتا ان کے ساتھ وہ پر امن رہتے اور جن سے میں جنگ کرتا ان سے وہ بھی جنگ کرتے، لیکن میں نے اللہ کی خوشنودی کے لیے اسے (خلافت کو) ترک کردیا۔‘‘

ایک دوسری روایت میں سیدنا حسنؓ نے فرمایا:

وَ لٰکِنْ خَشِیْتُ أَنْ یَّجِیْئَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ سَبْعُوْنَ أَلْفًا أَوْ ثَمَانُوْنَ أَلْفًا أَوْ أَکْثَرُ أَوْ أَقَلُّ کُلُّہُمْ تَنْضِحُ أَوْدَاجُہُمْ دَمًا کُلُّہُمْ یَسْتَعْدِی اللّٰہُ فِیْمَ ہُرِیْقَ دَمُہٗ۔

(تاریخ دمشق: جلد 14 صفحہ 104)

’’لیکن میں ڈر گیا کہ قیامت کے دن ستر ہزار یا اسّی ہزار یا کچھ کم و بیش لوگ اس حال میں آئیں کہ ان کی رگوں سے خون بہ رہا ہو، سب کے سب اللہ سے فریاد کر رہے ہوں کہ کس سلسلے میں ان کا خون بہایا گیا۔‘‘

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے ہاتھ پر نوے ہزار لوگ بیعت کر چکے تھے،

(تاریخ دمشق: جلد 14 صفحہ 98)

پھر بھی سیدنا حسنؓ خلافت سے کنارہ کش ہوگئے اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حوالے یہ کہتے ہوئے کردی: ’’میری وجہ سے کچھ بھی خون نہ بہے۔ ‘‘

(تاریخ دمشق: جلد 14 صفحہ 98)

ایک دوسری روایت میں کہتے ہیں: میں نہیں چاہتا کہ میں امت محمدیہ کی کسی ایسی ادنیٰ چیز کا ذمہ دار بنوں جس میں خون بہے، میں اپنے لیے ضرر رساں اور نفع بخش چیزوں کو جانتا ہوں، تم سب اپنے علاقوں کو لوٹ جاؤ۔

(تاریخ دمشق: جلد 14 صفحہ 89)


صفحہ 2 از 2