Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی ہجو ملیح

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

طفولیت کا معجزہ شیعہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت علیؓ ابھی شیر خوار بچے تھے کہ مکہ میں اژدہا نمودار ہوا جس کا سر مثل پہاڑ کے تھا۔ چار سو گز لمبا تھا۔ دانت چار چار بالشت لمبے، منہ بیس گز چوڑا اور گہرائی میں غار کی طرح تھا۔ اس نے ایک دن شہر کا رخ کیا۔ سب لوگ مارے ڈر کے جنگلوں میں بھاگ گئے۔ اژدہا سیدھا حضرت کی طرف آیا۔ آپ نے لیٹے لیٹے اس کو سر سے پاؤں تک چیر دیا۔ خون کا دریا جاری ہو گیا۔ اژدہے کے دو ٹکڑے بچے کے گہوارے کے دونوں طرف ایسے پڑے ہوئے تھے جیسے پہاڑ کے دو ٹکڑے، آٹھ سو آدمیوں نے بمشکل ان کو اٹھا کر شہر کے باہر پھینکا اور جناب امیر (سیدنا علیؓ) کی تحسین و آفرین کا غلغلہ بلند ہوا۔

( فضائلِ مرتضوی: صفحہ 21، 22)

دوسرا معجزہ: خیبر کی لڑائی میں یہود کی طرف سے ایک جوان مرحب نامی سیدنا علی المرتضیٰؓ کے مقابل آیا۔ آپؓ نے جو تلوار ماری اس کو دو نیم کرتی ہوئی زمین پر اور وہاں سے اتر کر گاؤ زمین تک پہنچی حامل زمین کو چیرنے کو تھی کہ جبرئیل علیہ السلام نے پر نیچے بچھائے جو کٹ کر پرے جاپڑے۔

زیں کو جلا کے پشت فرش پر کیا گذر

دو کر کے زین خاک پر آئی وہ شعلہ ور

سیماب کی طرح نہ کہیں دم لیا مگر 

پہنچی زمین سے گاؤ زمین پر بہ کروفر 

بیٹھی تو پاس پیک جدائے جلیل کے 

اٹھی تو کاٹتی ہوئی پر جبرئیل کے

نیز سید نعمت اللہ جزائری نے انوارِ نعمانیہ میں یوں لکھا ہے:

روى البرسی فی كتابه لما وصف وقعة خيبر وان الفتح فيها كان على يد علی ان جبرائيل جاء الى رسول اللهﷺ مستبشرا بعد قتل مرحب فقال النَّبِیﷺ عن استبشاره فقال يا رسول اللهﷺ ان عليا لما رفع السيف ليضرب به امر الله سبحانه اسرافيل وميكائيل ان يقبضا عضدهما فی الهواء حتىٰ لا يضرب بكل قوته مع هذا قسمه نصفين وكذا ما عليه من الحديد كذا فرسه ووصل السيف الى طبقات الارض فقال لی الله سبحانه يا جبرائيل بادر الى تحت الارض وامنع سيف علی عن الوصول الى ثور الارض حتىٰ لا تنقلب الارض فمضيت فامسكته وكان على جناحی القلم من المدائن قوم لوط وهی سبع مدائن قطعتها من الارض السماء رفعتها فوق ريشة واحدة من جناحی الى قرب السماء ويقيت منتظر المر الوقت السحر حتىٰ امرنی الله بقلبها فما وجدت لها ثقلا كثقل سيف علی فسئله النَّبِیﷺ لم لم تقلبها من ساعة رفعتها فقال يا رسول اللهﷺ انه قد كان فيهم شيخ كافر نائم على قفاه وشيبته الى السماء فاستحى الله سبحانه ان يعذبهم فلما ان كان وقت السحر القلب ذلك الشائب عن قفاه فامرنی بعذابها

ترجمہ: برسی نے اپنی کتاب میں راویت کی ہے جب کہ اس نے خیبر کا واقعہ بیان کیا اور یہ کہ وہ سیدنا علیؓ کے ہاتھ پر فتح ہوا کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام مرحب کے قتل ہو جانے کے بعد جناب رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بشارت دی تو نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ یہ کیسی بشارت ہے؟ پس جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا کہ اے رسولِ اکرمﷺ جب سیدنا علیؓ نے مرحب کے مارنے کے لیے تلوار اُٹھائی تو اللہ نے حضرت اسرافیل علیہ السلام اور حضرت میکائیل علیہ السلام دونوں کو حکم دیا کہ وہ ہوا میں حضرت علیؓ کا ہاتھ تھام لیں تاکہ پورے زور سے تلوار نہ مارنے پائیں اور باوجود اس کے انہوں نے مرحب کو دو ٹکڑے کر دیا اور اسی طرح اس کی آہنی ذرہ اس کے گھوڑے کو بھی دو نیم کر دیا اور تمام طبقات تک اتر گئی تو مجھے اللہ نے حکم دیا کہ جبرائیل زمین کے نیچے فوراً پہنچو اور حضرت علیؓ کی تلوار روک لو تاکہ وہ گاؤ زمین کو نہ کاٹ ڈالے تا کہ زمین زیر و زبر نہ ہو جائے۔ پس میں گیا اور اس کو روک لیا اور تلوار میرے پروں پر قومِ لوط کے شہروں سے بھی زیادہ بھاری تھی حالانکہ وہ سات شہر تھے، جن کو میں نے ساتویں زمین سے اکھیڑا اور اپنے بازؤں کے ایک پَر پر آسمان کے قریب تک اُٹھا لیا تھا اور میں حکم کی انتظار میں سحر تک ٹھہرے رہا۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ان کے الٹ دینے کا حکم فرمایا، لیکن میں نے اُن کا بوجھ سیدنا علیؓ کی تلوار کے بوجھ کے برابر نہ پایا۔ حضورِ اکرمﷺ نے فرمایا تو نے اُٹھانے کے وقت ہی کیوں نہ الٹ دیا تو جبرائیلؑ نے عرض کیا کہ اے رسولﷺ اس لیے کہ ان لوگوں میں ایک بوڑھا کافر پیٹھ کے بل سویا ہوا تھا اور اس کے بال سفید آسمان کی طرف تھے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کو ان کے عذاب دینے سے شرم آئی اور پھر جب سحر کا وقت ہوا بوڑھے نےکروٹ بدلی تو خدا تعالیٰ نے مجھے ان کو عذاب دینے کا حکم فرمایا۔

شیعہ صاحبان کو ایسی دور از عقل و قیاس روایت لکھنے سے شرمانا چاہیے کیا یہ جناب شجاعتِ مآب کی تعریف ہے یا آپ کی نسبت تمسخر ہے۔ تعجب ہے کہ تلوار کا وجود زیادہ سے زیادہ تین چار فٹ ہوگا پھر وہ کسی طرح ساتویں طبقات زمین کو چیر کر گاؤ زمین تک جا پہنچی باوجود یہ کہ جناب ممدوح نے اپنی پوری قوت سے بھی تلوار نہ چلائی تھی پھر اس کا ثقل جبرائیل علیہ السلام کے بازوں پر حضرت لوط علیہ السلام کے سات شہروں کی زمینوں سے جو ساتویں طبقہ تھیں، کو جبرائیل علیہ السلام نے سحر تک اُٹھائے رکھا۔ کس طرح زیادہ ہو گیا پھر حق تعالیٰ کو جب اس امر کا علم تھا کہ جناب امیرؓ (سیدنا علیؓ) کی تلوار اس قدر غضب ڈھانے والی ہے تو بجائے اس کے کہ اسرائیلؑ و میکائیلؑ کو ہوا میں ان کے بازو تھام رکھنے اور جبرائیلؑ کو ساتویں زمین کے نیچے جا کر سیفِ علیؓ کی زد سے زمین کو بچانے کا حکم دے۔ جناب امیرؓ کے دل ہی میں القاء کیا جاتا کہ تلوار چلاتے وقت ذرا رحم سے کام لینا ایسا نہ ہو کہ سیفِ علیؓ طبقاتِ ارض کو چیر کر گاؤ زمین کے ٹکڑے ہی کر ڈالے اور زمین تہ و بالا ہو جائے۔

ایسا ہی جنات سے لڑائی وغیرہ دور از عقل کہانیاں بیان کی گئی ہیں جن کو پڑھ کر مخالفین اسلام مضحکہ اڑاتے ہیں۔ پھر اس کے مقابلے میں جب تفریط سے کام لے کر آپؓ کی شان گھٹانے لگتے ہیں تو خارجیوں سے بھی بڑھ جاتے ہیں۔