Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی بردباری

  علی محمد الصلابی

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما اور مروان بن حکمؓ کے مابین کوئی بات تھی، چنانچہ سیدنا حسنؓ کے پاس مروان آئے اور سیدنا حسنؓ سے سخت کلامی کرنے لگے، سیدنا حسنؓ خاموش رہے، مروان نے اپنے داہنے ہاتھ سے ناک جھاڑی تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کہا: تیرا برا ہو، کیا تمھیں معلوم نہیں کہ دایاں ہاتھ چہرے کے لیے ہے، اور بایاں ہاتھ شرمگاہ کے لیے، چنانچہ مروان چپ ہوگئے۔

(سیر أعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 260)

جب تک معاملہ ذاتی رہا، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ چپ رہے، جب مروان نے سنت نبویﷺ کی مخالفت کی تو اللہ کے لیے اور سنت نبویﷺ کی مخالفت کے باعث ناراض ہوگئے اور جو درست بات تھی وہ بیان کردی۔

(الدوحۃ النبویۃ الشریفۃ: صفحہ 87)

جب سیدنا حسنؓ کا انتقال ہوا تو سیدنا حسنؓ کے جنازے میں مروان بن حکم رونے لگے، ان سے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے کہا: تم ان پر رو رہے ہو جب کہ انھیں بار بار غصہ دلایا کرتے تھے؟ اس پر انھوں نے پہاڑ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’’میں ایسا اس سے بھی زیادہ بردبار شخص کے ساتھ کرتا تھا۔‘‘

(تہذیب الکمال: جلد 6 صفحہ 235)

ابنِ عائشہ ذکر کرتے ہیں کہ ایک شامی شخص کا بیان ہے: میں مدینہ پہنچا، خچر پر سوار ایک شخص کو دیکھا، میں نے اس سے اچھا چہرے مہرے، کپڑے اور سواری والا نہیں دیکھا، میرا دل اس کی جانب مائل ہوگیا، میں نے اس کے بارے میں پوچھا تو جواب ملا، یہ سیدنا حسن بن علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ ہیں، یہ سن کر میرا دل ان کے بغض سے بھر گیا، اور مجھے سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر حسد آنے لگا کہ ان کا اس طرح کا کوئی بیٹا ہے، میں ان کے پاس گیا، پوچھا: کیا تم علی بن ابوطالب( رضی اللہ عنہ ) کے بیٹے ہو؟ کہا: ہاں، میں ان کا بیٹا ہوں۔ میں نے کہا: تمھاری اور تمھارے باپ کی ایسی تیسی، میں انھیں گالی دینے لگا، جب میری بات ختم ہوئی تو سیدنا حسنؓ نے مجھ سے کہا: شاید آپ یہاں کے رہنے والے نہیں ہیں؟ میں نے کہا: ہاں، کہا: آپ ہمارے پاس آیے، اگر آپ کو ٹھہرنے کی جگہ چاہیے تو ہم آپ کو دیں گے، اگر آپ کو پیسے کی ضرورت ہے تو ہم آپ کے لیے مہیا کریں گے، اور اگر کوئی اور ضرورت ہے تو ہم آپ سے تعاون کریں گے، اس آدمی کا بیان ہے کہ جب میں آپ کے پاس سے واپس ہونے لگا تو روئے زمین پر ان سے زیادہ پسندیدہ کوئی شخص میرے نزدیک نہیں تھا، ان کے اور اپنے کیے پر کچھ نہ سوچا بلکہ ان کا شکریہ ادا کیا، اور اپنے آپ پر نادم ہوا۔

(وفیات الأعیان: جلد 2 صفحہ 67، 68)

ان بہترین کارناموں سے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی بردباری کا پتہ چلتا ہے، اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ اس آیت ( خُذِ الۡعَفۡوَ وَاۡمُرۡ بِالۡعُرۡفِ وَاَعۡرِضۡ عَنِ الۡجٰهِلِيۡنَ۞سورۃ الأعراف آیت 199)

ترجمہ: (اے پیغمبر) درگزر کا رویہ اپناؤ، اور (لوگوں کو) نیکی کا حکم دو، اور جاہلوں کی طرف دھیان نہ دو۔) پر عمل کرتے ہوئے اور اپنے نانا کی اقتداء کرتے ہوئے مخالفین کو کس طرح، ان کے ساتھ بھلائی اور نرمی کرکے، ان کی تکلیف پر صبر کرکے، ان کی بھلائی چاہتے ہوئے اپنا بنا لیتے تھے، جب کہ ان میں سے اکثر جاہل اور حقائق سے ناآشنا ہوتے تھے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی حلم و بردباری، عفو و درگزر، اپنے خلاف تہمتوں اور بے بنیاد باتوں پر، ساتھ ہی ساتھ مشرکین عرب (جیسے ابولہب کی بیوی، ابوجہل، ابی بن خلف جیسے مکہ کے بے وقوف لوگوں) کی ایذا رسانیوں پر صبر و ضبط کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے۔

(الأخلاق بین الطبع و التطبع فیصل: الحاشدی: صفحہ 139) 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کو بیان کرتے ہوئے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

لَا یَجْزِیْ بِالسَّیِّئَۃِ السَّیَئَۃَ وَ لٰکِنْ یَعْفُوْ وَ یَصْفَح 

(سنن الترمذی: رقم: 2016، البانی نے صحیح سنن الترمذی: رقم: 1640 میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔)

’’آپﷺ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں لیتے تھے، بلکہ عفو و درگزر سے کام لیتے تھے۔‘‘

انھی سے مروی ہے کہتی ہیں: جہاد فی سبیل اللہ کو چھوڑ کر آپ نے اپنے ہاتھ سے کسی کو ہرگز نہیں مارا، نہ کسی عورت اور خادم کو، اور جب بھی آپﷺ کو ستایا گیا تو آپﷺ نے اس کا ذاتی انتقام نہیں لیا الا یہ کہ کوئی اللہ کے محارم کی بے حرمتی کرے تو اللہ کے واسطے آپﷺ بدلہ لیتے تھے۔

(صحیح مسلم: رقم: 2328)

سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنا غصہ اتارنے پر قادر ہونے کے باوجود غصہ پی جاتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن لوگو ں کے سامنے بلا کر اسے اجازت دے گا کہ وہ حوروں میں سے جسے چاہے پسند کرلے۔

(سنن الترمذی: رقم: 4777، البانی نے صحیح سنن الترمذی: جلد 2 صفحہ 6518 میں اسے حسن قرار دیا ہے۔)

بردباری کی صفت کے بارے میں شاعر کہتا ہے:

وفی الحلم ردع للسفیہ عن الأذی و فی الخرق إغراء فلا تک أخرقا

’’بردباری بے وقوف کو تکلیف سے دور رکھتی ہے، اجڈپن دوسروں کے خلاف ابھارتا ہے، اس لیے اجڈ مت بنو‘‘

فتندم إذ لا تنفعک ندامۃ کما ندم المغبون لما تفرقا

 ( الأخلاق بین الطبع و التطبع: صفحہ 151)

’’کہ تمھیں اس وقت ندامت ہو جب کہ ندامت نفع بخش نہیں ہوتی، جیسے ٹھگا گیا شخص ٹھگ سے دور ہونے پر نادم ہوتا ہے۔‘‘