Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضرت ت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا ناطق فیصلہ

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے شیعہ و سنی سوال کا صاف الفاظ میں ناطق فیصلہ فرما دیا ہے چنانچہ نہج البلاغت صفحہ 199 وایضاً مطبوعہ طہران صفحہ 178 میں ہے:

سيهلك فی صنفان محب مفرط تذهب به الحب غير الحق ومبغض مفرط تذهب به البغض الى غير الحق وخير الناس فی حالا النمط الا وسط فالذموا السواد الاعظم فان يد الله على الجماعة واياكم والفرقة فان الشاذ من الناس للشيطان كما ان الشاذ من الغنم للذئب الا من دعا الى هذا الشعار فاقتلوه ولو كان تحت عمامتی هذه۔

ترجمہ: دو فریق میرے بارے میں ہلاک ہو جائیں گے۔ محبت دوستی میں افراط (غلو) کرنے والا کہ اس کو یہ دوستی حق سے دور لے جائے اور دشمن دشمنی میں افراط کرنے والا کہ اس کو یہ عناد حق سے دور کر دے۔ خوشحال انسان میرے بارہ میں وہ ہیں جو میانہ روی اختیار کرتے ہیں۔ تم اس جماعت کے تابع ہو جاؤ اور بڑی جماعت کی اتباع کرو۔ کیونکہ خدا کا ہاتھ بڑی جماعت کے سر پر ہے۔ تفرقہ سے باز آجاؤ کیونکہ جماعت سے علیحدہ ہونے والا انسان شیطان کا شکار ہوتا ہے جیسا کہ ریوڑ سے الگ ہونے والی بکری بھیڑیے کا شکار بنتی ہے۔ خبردار جو تمہیں جماعت سے علیحدگی کی دعوت دیں ان کو قتل کر دو اگرچہ میری اس دستار کے نیچے ہوں۔

جناب امیرؓ نے اپنے خطبہ میں حقانیت مذہب اہل سنت و الجماعت پر مہر کردی ہے اور رافضیوں اور خارجیوں کے مذہب کو مردود قرار دیا ہے کیونکہ روافضی محب مفرط ہیں جو جناب امیرؓ اور دیگر ائمہ کومثل انبیاءؑ معصوم سمجھتے ہیں اور حضرت علیؓ کو دیگر انبیاءؑ سے افضل اور نبی آخر الزمان کا ہم پلہ سمجھتے ہیں۔ رافضیوں میں ایسے فرقے بھی ہیں جو جناب امیر کی رسالت بلکہ الوہیت کے بھی قائل ہیں (اس کی تفصیل آگے آئے گی) اور حال کے شیعہ اگرچہ بظاہر آپ کی الوہیت کے قائل نہیں تا ہم اوصاف ایسے بیان کرتے ہیں جو آپ کو درجہ الوہیت پر پہنچا دیتے ہیں۔ چنانچہ علم ماکان و ما یکون ان کو حاصل ہونا، اشیائے حلال و حرام کرنے کا اختیار، موت وحیات پر اختیار وغیرہ وغیرہ بہت سے اوصاف ہیں جو شان الوہیت تک پہنچا دیتی ہیں اس لثئے بقول جناب امیرؓ یہ مذہب باطل ہے۔ ایسے ہی خارجی جو جناب امیرؓ سے اس درجہ بغض رکھتے ہیں کہ آپ کو مشرک و کافر قرار دیتے ہیں۔ وہ بھی مردود ازلی ہیں۔ ہاں نمط اوسط میانہ روی اختیار کرنے والا مذہب اہلسنت و الجماعت ہے جو جناب امیرؓ سے محبت رکھتے ہیں لیکن شان نبوت والوہیت تک پہنچانا کفر جانتے ہیں اور آپ سے بغض رکھنا بھی کفر و الحاد سمجھتے ہیں۔ اس لیے یہی مذہب جناب امیرؓ کے نزدیک مذہب برحق ہے۔

دوم جناب امیرؓ نے کھلے الفاظ میں فرما دیا ہے۔ کہ مذہب حق وہ ہے جس طرف مسلمانوں کا سواد اعظم (بڑا گروہ) ہے اب یہ امر مسلم الثبوت ہے کہ روافض و خارجی بمقابلہ مسلمانان اہل سنت والجماعت آٹے میں نمک بھی نہیں ہیں اور اسلام کا سواد اعظم یہی مذہب اہلسنت رکھتا ہے۔ اس لیے حسب فیصلہ امیرؓ یہی لوگ اہل حق ہیں اور خدائے واحد کا دست فضل اسی بڑی جماعت کے سر پر ہے اور اس مذہب سے علیحدگی اختیار کرنے والے شہادت جناب امیرؓ شیطان کے متبع ہیں۔ اگرچہ وہ کتنے ہی محبان علی کہلاتے ہوں، کیونکہ آپ نے بالتصریح فرمایا ہے کہ جو تمہیں اس بڑی جماعت سے علیحدگی کی طرف مدعو کرے وہ واجب القتل ہے اگرچہ میری دستار مبارک کے زیر سایہ ہونے کا مدعی یعنی حب علیؓ کا دعویدار ہو۔

امید ہے کہ جناب امیرؓ کے اس ناطق فیصلہ کے ہوتے ہوئے سنی و شیعہ نزاع کے فیصلہ کے لیے اور کسی مزید دلیل کی ضرورت نہ ہوگی۔ ہاں جن لوگوں کی قسمت میں ضد اور ہٹ دھرمی لکھی ہے وہ ایسے روشن دلائل سے بھی فائدہ نہیں اُٹھا سکتے۔

حلیم بخت کے را کہ بافند سیاه 

بآب زمزم و کوثر سفید نتوان کرد