سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی خاکساری
علی محمد الصلابیسیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا گزر کچھ غریبوں کے پاس سے ہوا جو راستے سے روٹی کے ٹکڑوں کو چن کر زمین پررکھ کر کھا رہے تھے، انھوں نے سیدنا حسنؓ کو اپنے ساتھ شریک ہونے کی دعوت دی، چنانچہ سیدنا حسنؓ نے یہ کہتے ہوئے ان کی دعوت قبول کرلی کہ اللہ تعالیٰ متکبروں کو پسند نہیں کرتا، جب سیدنا حسنؓ کھا کر فارغ ہوئے تو ان کی دعوت کی انھیں کھلایا پلایا، کپڑا دیا، اور ان کے ساتھ کافی احسان کیا۔
(حیاۃ الإمام الحسن بن علی: جلد 1 صفحہ 291)
سیدنا حسنؓ کی خاکساری کا ایک واقعہ یہ ہے کہ سیدنا حسنؓ کا گزر کچھ بچوں کے پاس سے ہوا جو کھانا کھا رہے تھے، انھوں نے آپ کو شریک ہونے کی دعوت دی، آپ نے ان کی دعوت قبول کرلی، پھر انھیں اپنے گھر بلا لائے اور انھیں نوازتے ہوئے فرمایا:
’’احسان انھی کا ہے اس لیے کہ ان کے پاس صرف وہی چیز تھی جو انھوں نے مجھے کھلائی اور جو ہم نے دیا ہے اس کے علاوہ بھی ہمارے پاس ہے۔‘‘
(صلاح الأمۃ فی علوم الہمۃ: جلد 5 صفحہ 437)
خاکساری اللہ کے بندوں کی صفات میں سے ہے۔ فرمان الہٰی ہے:
وَعِبَادُ الرَّحۡمٰنِ الَّذِيۡنَ يَمۡشُوۡنَ عَلَى الۡاَرۡضِ هَوۡنًا۞(سورۃ الفرقان آیت نمبر 63)
ترجمہ: اور رحمن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر عاجزی سے چلتے ہیں۔
خاکساری بندے سے اللہ کی محبت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ فرمان الہٰی ہے:
يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَنۡ يَّرۡتَدَّ مِنۡكُمۡ عَنۡ دِيۡـنِهٖ فَسَوۡفَ يَاۡتِى اللّٰهُ بِقَوۡمٍ يُّحِبُّهُمۡ وَيُحِبُّوۡنَهٗۤ اَذِلَّةٍ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اَعِزَّةٍ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ يُجَاهِدُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَلَا يَخَافُوۡنَ لَوۡمَةَ لَاۤئِمٍ ذٰلِكَ فَضۡلُ اللّٰهِ يُؤۡتِيۡهِ مَنۡ يَّشَآءُ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيۡمٌ ۞ (سورۃ المائدة آیت 54)
ترجمہ: اے ایمان والو! اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھر جائے گا تو اللہ ایسے لوگ پیدا کردے گا جن سے وہ محبت کرتا ہوگا، اور وہ اس سے محبت کرتے ہوں گے جو مومنوں کے لیے نرم اور کافروں کے لیے سخت ہوں گے۔ اللہ کے راستے میں جہاد کریں گے، اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے، یہ اللہ کا فضل ہے جو وہ جس کو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، اور اللہ بڑی وسعت والا، بڑے علم والا ہے۔
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی سیرت سے ہمیں خاکساری کا پتہ چلتا ہے۔ شاعر کہتا ہے:
تواضع کالنجم لاح لناظر علی صفحات الماء و ہو رفیع
’’ستارے جیسی خاکساری اختیار کرو کہ وہ بلند ہونے کے باوجود دیکھنے والے کے لیے پانی میں ظاہر ہوتا ہے۔‘‘
و لاتک کالدخان یعلو بنفسہ علی طبقات الجو و ہو وضیع
(الأخلاق بین لاطبع و التطبع: صفحہ 128)
’’دھواں کے مانند نہ ہو جو معمولی چیز ہونے کے باوجود
بذات خود فضاؤں میں بلند ہوتا ہے۔‘‘