Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی سے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی شادی

  علی محمد الصلابی

شعیب بن یسار سے مروی ہے کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کے ایک صاحبزادے (وہ اسحاق بن طلحہ ہیں) کے پاس آ کر کہا: میں آپ کے پاس ایک ضرورت سے آیا ہوں، آپ مجھے نامراد واپس نہیں کریں گے، پوچھا: کیا ضرورت ہے؟ فرمایا: آپ اپنی بہن کی شادی مجھ سے کر دیں، انھوں نے کہا: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے یزید کا پیغام میرے پاس بھیجا ہے، سیدنا حسنؓ نے فرمایا: جب میں آپ کے پاس آگیا ہوں تو آپ مجھے نامراد واپس نہ کریں، چنانچہ انھوں نے ان کی شادی مجھ سے سے کردی، پھر فرمایا: اپنی بیوی کے پاس جاؤ، چنانچہ ان کے پاس ایک جوڑا کپڑا بھیج دیا، اور ان کے پاس گئے، اس کی خبر معاویہ رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو مروان کو لکھا کہ انھیں اختیار دے دو، چنانچہ انھوں نے ان کو اختیار دیا، آپ نے حسن رضی اللہ عنہ کو پسند کیا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کی اس شادی کو برقرار رکھا، ان کے بعد ان سے حسین رضی اللہ عنہ نے شادی کرلی۔

(الطبقات بتحقیق السلمی: جلد 1 صفحہ 292، اس کی سند لا بأس بہ ہے۔)