Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

مسائل شیعہ جو ائمہ اہل بیت کی طرف منسوب کیے گئے ہیں

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

پہلا مسئلہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کو بداء ہوتا ہے یعنی معاذ اللہ وہ جاہل ہے اس کو سب باتوں کا علم نہیں اسی وجہ سے اس کی اکثر پیشنگوئیاں غلط ہو جاتی ہیں اور اس کو اپنی رائے بدلنا پڑتی ہے یہ ایسا ضروری مسئلہ سمجھا جاتا ہے کہ اس کے برابر کوئی عبادت نہیں ہے چنانچہ اصولِ کافی صفحہ 83 میں مستقل باب ہی بداء کے متعلق باندھا گیا ہے۔ احادیث ذیل ملاحظہ ہوں:

1: عَنْ زُرَاةَ بِن اعْيَن عَنْ اَحَدَهِمَا قَالَ مَا عبْداللَّهِ بِشَی مِثْل الْبَدَاءِ۔

2: عَنْ مَالک الْجهنِی قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْداللّٰهِ يَقُولُ لَوْ عَلِمَ النَّاسُ مَافِی الْقَولِ بَا الْبَدَاءِ مِنَ الْأَجْرِ مَافَتَر وعَنِ الكلام فيه۔

3 عَنْ مَرَازِمِ بِنْ حَكِيمٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِاللّٰهِ يَقُولُ مَاتنَباء نَبِی قَطعَتّٰى بِقِرَّ اللّٰهِ بِخَمْسٍ بِالبَداء والمشِيَّةِ والسُّجُودِ وَالْعَبُوديَّةِ والطَّاعَةِ۔

1: ترجمہ: زراہ بن امین نے سیدنا باقر صادقؒ سے روایت کی ہے کہ خدا کی عبادت بداء کے برابر کسی چیز میں نہیں۔

2: مالک جہنی کہتے تھے کہ سیدنا صادقؒ نے کہا اگر لوگوں کو معلوم ہو کہ بداء کے اقرار کرنے میں ثواب ہے تو وہ اس سے باز نہ رہیں۔

3: مرازم بن حکیم راوی ہے کہ سیدنا صادقؒ نے کہا کسی نبی کو نبوت نہیں ملی جب تک اس سے پانچ چیزوں کا اقرار نہ لیا گیا ہو بداء اور مشیت اور سجدہ اور عبودیت اور اطاعت کا۔

ان روایات سے بداء کا ضروری مسئلہ ہونا اس کا ثواب عظیم اعلیٰ عبادت میں داخل ہو جانا ثابت ہوتا ہے رہی یہ بات کہ بداء کیا چیز ہے؟ سو اس کے متعلق کتبِ لغت کی طرف رجوع کرنا چاہیے کتبِ لغت میں لکھا ہے: بَدَءَ لَهُ اَیْ ظهَرَ لَهٗ مَالَمْ يظهر۔

ترجمہ: فلاں شخص کو بداء ہوا یعنی وہ چیز معلوم ہوئی جو پہلے معلوم نہ تھی: