خولہ بنت منظور سے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی شادی
علی محمد الصلابیابن ابی ملیکہ سے مروی ہے کہتے ہیں: سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے خولہ بنت منظور سے شادی کی، لکڑی کے تخت پر رات گزاری، انھوں نے اپنا دوپٹہ آپ کے پاؤں اور اپنے پازیب سے باندھ دیا، جب آپ بیدار ہوئے تو پوچھا: یہ کیا ہے؟ جواب دیا: میں ڈر گئی کہ آپ رات میں گہری نیند میں بیدار ہوں اور گر جائیں تو میں عرب کی منحوس ترین عورت نہ بن جاؤں، چنانچہ سیدنا حسنؓ ان سے محبت کرنے لگے، اور ان کے پاس سات دن رہے۔
(خولہ چونکہ ثیبہ تھیں، پہلے ان کی شادی محمد بن طلحہ بن عبید اللہ سے ہوچکی تھی اس لیے ان کا حق تین دن کا تھا، سات دن گزارنے کا ذکر حدیث کے ضعیف ہونے کا پتہ دیتا ہے۔)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں ابومحمد کو چند روز سے نہیں دیکھ رہا ہوں، چلو ان کے پاس چلیں، چنانچہ وہ لوگ ان کے پاس گئے، ان سے خولہ نے کہا: کیا آپ انھیں روکیں گے کہ ہم ان کے لیے کھانا تیار کریں؟ آپ نے کہا: ہاں، ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: سیدنا حسن رضی اللہ عنہ ہم سے باتیں کرنے لگے، ہم بہت شوق سے سن رہے تھے، اس میں ہمیں مشغول رکھا یہاں تک کہ کھانا آگیا۔
(الطبقات بتحقیق السلمی: جلد 1 صفحہ 307، 308، اس کی سند ضعیف ہے۔)