Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

بداء کی مثالیں

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

 شیعہ کی کتابوں میں بداء کے واقعات بہت مذکور ہیں ذیل میں دو واقعات کا ذکر کیا جاتا ہے۔

1: سیدنا جعفر صادقؒ نے بتایا کہ میرے بعد اللہ تعالیٰ نے میرے فرزند اسماعیل کو امامت کے لیے نامزد کیا ہے لیکن بعد میں فرمایا کہ بجائے اسماعیل کے موسیٰ کاظم کو خدا نے امام بنا دیا ہے جیسے کہ علامہ مجلسی نے بحارُ الانوار میں روائیت کی ہے۔

عَنْ جَعْفَر الصَّادِقِ أَنَّهُ جَعَلَ ِاِسْمَاعِيلَ قَائِمَ مَقَامَهٗ بَعْدَهٗ فَظَهَرَ مِنْ اِسْمَاعِيلَ مَالَمْ يَرثَضِهٖ فَجَعَلَ قَائِمَ مَقَامِهٖ مُوسیٰ فَسُئِلَ عَنْ ذٰلِک فَقَالَ بَدَاء لِلّٰهِ فِی اِسْمَاعِيلَ مَا بَدَاء اللّٰهِ فِی شی كَمَا بَدَاء لَهٗ اِسْمَاعِيلَ ابْنِی۔

ترجمہ: سیدنا جعفر صادقؒ سے روایت ہے کہ انہوں نے اسماعیل کو اپنا قائم مقام اپنے پیچھے بنایا پھر اسماعیل سے کچھ ناپسندیدہ حرکت سرزد ہوئی تو پھر موسیٰ کاظم کو اپنا قائم مقام بنا دیا اس کی وجہ دریافت کی گئی تو سیدنا جعفر صادقؒ نے فرمایا اسماعیل کے متعلق خدا کو بداء ہوا اور خدا کو پہلے ایسا بداء نہیں ہوا جیسا میرے بیٹے اسماعیل کے بارہ میں ہوا۔

(تعجب ہے کہ حسبِ نوشتہ کتبِ شیعہ امام کی یہ علامت کہ وہ بجائے رحم کے ران سے پیدا ہوئے ہیں اور ان کی پیشانی پر آیت: وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدۡقًا وَّعَدۡلاً الخ۔

(سورۃ الانعام آیت 115) لکھی ہوئی ہے نیز رسول اللہﷺ نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو بارہ لفافے سر بمہر کے نام بنام لکھ کر دیے تھے جو جبرائیل درگاہِ الٰہی سے لائے تھے پھر سیدنا جعفرؒ کو مغالطہ کیسے لگا؟ اسماعیل بھی ران سے پیدا ہوئے ہوں گے ان کے ماتھے پر آیت بھی لکھی ہوئی ہوگی اور لفافہ بھی ان کے نام کا موجود ہوگا پھر خدا کو بھی شناخت نہ ہوئی مگر اعلان کرنا پڑا کہ اسماعیل نہیں بلکہ موسیٰ کاظم امام ہوں گے یا للعجب)

دوسرا واقعہ: سیدنا علی تقی نے خبر دی ہے کہ میرے بعد میرا بیٹا محمد امام ہو گا لیکن شاید خدا کو علم نہ تھا کہ وہ باپ کی زندگی میں فوت ہو جائے گا جب وہ نہ ہوا تو معاذ اللہ خدا کو رائے بدلنی پڑی حسن عسکری امام ہوئے یہ واقعہ اصولِ کافی صفحہ 204 میں مذکور ہے۔

عَنْ اَبِی الْهَاشِمُ الجعْفَرِی قَالَ كُنتُ عِندَ أَبِیِ الْحَسَنْ عَلَيْهِ السَّلامُ بَعْدَ مَا مضى اِبْنُهٗ اَبُو جَعْفَرَ وَاِنِی لافكر فِیْ نَفْسِی اُرِيدُ اَقُولَ كَاَنَّهُمَا اعْنِیْ ابَا جَعْفَرَ وَأَبَا مُحَمَّدٍ فِی هَذَا الْوَقْتِ كَاَبِی الْحَسَن مُوسَىٰ وَاِسْمَاعِيلَ وَإِنَّ قِصَّتَهٗ كقصَّتهِمَا اِذْ كَانَ اَبُو مُحَمَّدٍ الْمَرْجَا اَبِی جَعْفَرَ فَاقَبَلَ عَلىٰ اَبُو الْحَسنَ عَلَيْهِ السَّلَامَ قَبْلَ اَنْ اَنْطِقَ فَقَالَ نَعم يَا اَبَا هاشِمِ بدا للهِ فِیْ اَبِی مُحَمَّدٍ بَعْدَ أَبِی جَعْفَرَ مَالَمْ تَكُنْ تُعْرَف لَهٗ كَمَا بَدَاء لَهُ فِی مُوسىٰ بَعْدَ مَضِی اِسْمَاعِيلَ مَا كَشَفَ بِهِ عَنْ حَالِهٖ وَهُوَ كَمَا حدَّثْتكَ نَفْسُکَ فَاِنْ كَرِهَ الْمُبْطِلُونَ وَأَبُو مُحَمَّدِ ابْنی الْخَلَفْ مِن بَعْدِى عَنْدَهٗ عِلْمُ مَا يُحتَاجِ اِلَيْهِ وَ مَعَهٗ آية الْاِمَامَةَ۔

ترجمہ: ابوالہاشم جعفری سے روایت ہے کہتے ہیں کہ میں ابو الحسن (سیدنا تقی) کے پاس بیٹھا ہوا تھا جب ان کے بیٹے ابو جعفر (محمد) فوت ہو گئے اور میں اپنے دل میں خیال کر رہا تھا اور کہنا چاہتا تھا کہ محمد اور حسن عسکری کا معاملہ اس وقت موسیٰ کاظم اور اسماعیل کا سا ہے ان دونوں کا واقعہ بھی ان دو کی طرح ہے اچانک سیدنا تقی میری طرف متوجہ ہو گئے ابھی یہ بات کہنے نہ پایا تھا اور کہا کہ اے ابو ہاشم خدا کو ابو محمد یعنی حسن عسکری کے بارہ میں محمد کے بعد بداء ہوا جو بات معلوم نہ تھی معلوم ہو گئی جیسا کہ خدا کو دربارہ موسیٰ کاظم اسماعیل کے بعد بداء ہوا جس سے اصل حقیقت ظاہر ہو گئی اور یہ بات ویسی ہی ہے جیسے تم نے اپنے دل میں خیال کی اگرچہ بدکار لوگ اس کو ناپسند کریں اور ابو محمد (حسن عسکری) میرے بعد میرا خلیفہ ہے اس کے پاس تمام ضرورت کی چیزوں کا علم ہے اور نیز اس کے پاس آیتِ امامت بھی ہے اور یہ بات کہ بداء کے ماننے سے معاذاللہ خدا کا جاہل ہونا لازم آتا ہے خود علماءِ شیعہ نے تسلیم کر لیا ہے چنانچہ مولوی دلدار علی مجتہد اعظم شیعہ نے اپنی مصنفہ کتاب اساسُ الاصول صفحہ 419 میں تحریر کیا ہے:

اِعْلَمْ اَنَّ الْبَدَاء لَا يَنْبِغَىْ اَنْ يَّقُولَ بِهٖ اَحَدٌ لَإِنَّهٗ يَلْزَمُ أَنْ يَتصِفَ الْبَارِئُ تَعَالَى بِا الْجَهْلِ كَمَا لَا يَخْفىٰ۔

ترجمہ: جاننا چاہیے کہ بداء کا قائل نہیں ہونا چاہیے کیوں کہ اس سے باری تعالیٰ کا جاہل ہونا لازم آتا ہے۔

متاخرین شیعہ میں سے مولوی دلدار علی صاحب جیسے علماءِ مناظرین کو جب اہلِ سنت نے شرمندہ کیا تو کہنے لگے کہ بداء کا قائل نہ ہونا چاہیے لیکن شیعہ مولوی دلدار کو مانیں یا اصولِ کافی جیسی مستند اور مصدقہ امام مہدی کتاب حدیث کا اعتبار کریں؟ شیعہ بداء کے ماننے پر مجبور ہیں۔

آنچہ استاد ازل گفت ہماں مے گویم نعوذ بااللہ حضرات شیعہ خدا کے بداء کے قائل ہو کر خدا کو جاہل بتا رہے ہیں تو دوسروں کو کیا شکائیت۔

سمجھ میں ہی نہیں آتی ہے کوئی ذوقِ بات ان کی کوئی جانے تو کیا جانے کوئی سمجھے تو کیا سمجھے؟