سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھانا
علی محمد الصلابیامیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے چالیس روز بعد اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوگیا، آپ کی صلاۃ جنازہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے پڑھائی۔
(الکامل فی التاریخ: جلد 3 صفحہ 444)
سیدنا حسنؓ اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کے داماد تھے۔
(تہذیب التہذیب: جلد 2 صفحہ 300)
بعض ضعیف روایتیں اس جانب اشارہ کرتی ہیں کہ امیر المؤمنینؓ کے قتل میں اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کا ہاتھ تھا، لیکن اس کی کوئی دلیل نہیں، اس لیے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت میں ان کے کردار کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مخلص اور وفادار تھے۔ پانی کے سلسلے میں اثناء جنگ میں اہل شام سے لڑنے میں پیش پیش تھے، خوارج کے شروع ہی سے دشمن تھے، انھوں نے ہی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ان (خوارج) کے اس قول کی خبر دی تھی کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنی غلطی سے تائب ہوچکے ہیں، اور تحکیم سے رجوع کر لیا ہے، اور مقام نہروان میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خوارج سے جنگ کی ہے۔
ان کی شدید خواہش تھی کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے خاندان والوں سے اپنے تعلقات کو مضبوط بنائیں، اسی لیے اپنی بیٹی سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے عقد میں دے دی، جب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے بیوی کی رخصتی کرانی چاہی تو ’’بنوکندہ‘‘ نے سیدنا حسنؓ کے دروازے سے اشعث رضی اللہ عنہ کے دروازے تک اپنی چادروں کو فرش راہ بنا دیا۔
(تہذیب الکمال: جلد 3 صفحہ 393، 394، الطبقات: جلد 6 صفحہ 23)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد اشعث رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی، ان کی صلاۃِ جنازہ جیسا کہ گزرا سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے پڑھائی، آل علیؓ سے یہ بات منقول نہیں ہے کہ انھوں نے اشعث رضی اللہ عنہ پر یہ تہمت لگائی ہو یا اس سبب سے آلِ اشعث میں سے کسی کی ہتکِ عزت کی ہو، راجح بات یہی ہے کہ نہروان کے مقتولین کے بدلے میں خوارج نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے قتل کی سازش کی تھی۔
(دراسۃ فی تاریخ الخلفاء الأمویین: بطاینۃ: صفحہ 52)