Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ برا سلوک کرنے والوں کے ساتھ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا معاملہ

  علی محمد الصلابی

مدینہ سے ایک شخص آیا جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتا تھا، اس کا سفر موقوف ہوگیا، اس کے پاس زاد راہ اور سواری نہ رہی، اس نے بعض اہل مدینہ سے اپنی پریشانی بتلائی تو انھوں نے اس سے کہا: تم سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے پاس جاؤ، اس آدمی نے ان لوگوں سے کہا، کیا مجھے یہ چیز حسن و حسین رضی اللہ عنہما ہی کے پاس مل سکتی ہے؟ اسے جواب ملا: تمھیں بھلائی انھیں سے مل سکتی ہے، چنانچہ وہ گیا اور ان سے اپنی پریشانی بتلائی، سیدنا حسنؓ نے اسے زادِ راہ اور سواری مہیا کرانے کا حکم دے دیا، آدمی نے کہا: اللہ تعالیٰ اچھی طرح جانتا ہے کہ وہ اپنی رسالت سے کس کو نوازے، سیدٹ حسن رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: آپ سے اور آپ کے والد سے بغض رکھنے والا شخص آپ کے پاس آیا اور آپ نے اس کو زادِ راہ اور سواری دینے کا حکم دے دیا، سیدنا حسنؓ نے جواباً کہا: کیا میں اس سے زاد و راحلہ کے بدلے اپنی عزت و آبرو محفوظ نہ کرلوں۔

(تاریخ ابن عساکر: جلد 14 صفحہ 76)