Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

فضول باتوں سے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا دور رہنا

  علی محمد الصلابی

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما اکثر خاموش رہتے تھے، جب بولتے تو بولنے والوں پر سبقت لے جاتے، وہ ہمیں فضول باتوں سے دور رہنے کی تعلیم دیتے تھے، یہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

لَا یَسْتَقِیْمُ إِیْمَانَ عَبْدٍ حَتَّی یَسْتَقِیْمَ قَلْبُہُ وَ لَا یَسْتَقِیْمُ قَلْبُہُ حَتَّی یَسْتَقِیْمَ لِسَانُہُ۔

(سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: رقم: 2841)

’’کسی بندے کا ایمان اس وقت تک درست نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کا دل نہ درست ہو جائے اور اس کا دل درست نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کی زبان نہ درست ہو جائے۔‘‘

نیز فرمایا:

مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلْیَقُلْ خَیْرًا أَوْ لِیَصْمُتْ۔

(صحیح البخاری: رقم: 6136) 

’’جسے اللہ اور یوم آخرت پر ایمان ہو وہ یا تو اچھی بات کہے یا چپ رہے۔‘‘

نیز آپﷺ نے فرمایا:

مَنْ صَمَتَ نَجَا

(صحیح الجامع: رقم: 6367) 

’’جو چپ رہا نجات پایا۔‘‘

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون سی چیزیں جہنم میں جانے کا زیادہ سبب بنیں گی، تو سیدنا حسنؓ نے فرمایا: 

اَلْفَمُ وَ الْفَرْجُ۔

(سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ: رقم: 669)

منہ اور شرم گاہ۔

سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے عمل کے بارے میں پوچھا جو جنت میں لے جائے اور جہنم سے دور رکھے تو آپﷺ نے دین کے سر، اس کے ستون، اور اس کے کوہان کی بلندی بتلانے کے بعد فرمایا: ((ألا أخبرک بملاک ذلک کلہ۔))’’کیا میں تمھیں ایسی بات نہ بتلا دوں جس پر ان سب کا دارو مدار ہے؟‘‘ انھوں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا: (( کف علیک ہذا۔)) ’’اس کو روکے رکھو‘‘ انھوں نے کہا: کیا ہم زبان سے جو بات کہتے ہیں اس پر بھی ہماری گرفت ہوگی؟ آپ نے فرمایا: 

ثَکِلَتْکَ أُمُّکَ یَا مَعَاذُ وَ ہَلْ یَکُبُّ النَّاسَ فِی النَّارِ عَلَی وُجُوْہِہِمْ أَوْ عَلَی مَنَاخِرِہِمْ إِلَّا حَصَائِدُ اَلْسِنَتِہِمْ۔

(سنن الترمذی اور کہا حدیث صحیح ہے۔)

’’تیری ماں تجھے گم پائے اے معاذ! (یہ بددعا نہیں عربی محاورہ ہے) جہنم میں لوگوں کو ان کی زبان کی کاٹی ہوئی کھیتیاں ہی منہ کے بل یا ناک کے بل گرائیں گی۔‘‘

ابن عبید کا قول ہے:

’’جو شخص بھی اپنی زبان کا خیال رکھتا ہے تو یہ چیز اس کے دوسرے اعمال کی درستی کا سبب بنتی ہے۔‘‘

(صفۃ الصفوۃ: جلد 3 صفحہ 372)

ابن الکاتب کا قول ہے:

’’جب دل میں خوف الہٰی ہوتا ہے تو زبان سے کام ہی کی بات نکلتی ہے۔‘‘

(صفۃ الصفوۃ: جلد 3 صفحہ 372)

امام اوزاعیؒ کا قول ہے:

’’عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے میرے ایک خط میں لکھا: اما بعد! جو موت کو بکثرت یاد کرتا ہے وہ دنیا کے معمولی حصے پر راضی ہو جاتا ہے جو اپنی گفتگو کو اپنا عمل سمجھتا ہے وہ صرف مفید باتیں کرتا ہے، والسلام۔‘‘ 

(سیر أعلام النبلاء: جلد 5 صفحہ 133)

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما اپنی گفتگو کو اپنا عمل سمجھتے تھے، اس لیے اکثر چپ رہتے تھے۔