سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما اور ایک فقیر یہودی
علی محمد الصلابیایک دن سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اپنے گھر سے غسل کرکے نکلے، سیدنا حسنؓ بہترین کپڑے زیب تن کیے ہوئے تھے، لمبے بال بڑے خوب صورت نظر آ رہے تھے، سیدنا حسنؓ کے سامنے ایک محتاج یہودی آیا، اس کے جسم پر چمڑے کا ٹکڑا تھا، بیماری نے اسے لاغر کردیا تھا، اس پر ذلت و محتاجی کے آثار نمایاں تھے، دوپہر کی تمازت سے جھلسا ہوا تھا، اپنی پیٹھ پر پانی کا گھڑا اٹھائے ہوئے تھا، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو روکا اور کہا: اے نواسۂ رسول! ایک سوال ہے، سیدنا حسنؓ نے پوچھا: کون سا سوال ہے؟ کہا: آپ کے نانا صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے:
اَلدُّنْیَا سِجْنُ الْمُوْمِنِ وَ جَنَّۃُ الْکَافِرِ۔
(صحیح مسلم: وابن ماجہ: رقم: 4113)
’’دنیا مومن کی جیل اور کافر کی جنت ہے۔‘‘
اور تم مومن ہو، میں کافر ہوں، میری رائے میں دنیا تمھاری جنت ہے اس کی نعمتوں سے لطف اندوزہو رہے ہو، اور میرے لیے جیل ہے، اس کی پریشانیوں نے مجھے ہلاکت تک پہنچا دیا ہے، محتاجی سے برا حال ہے، جب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے اس کی بات سنی تو اس سے کہا: آخرت میں اللہ تعالیٰ نے میرے لیے جو نعمتیں تیار کر رکھی ہیں اگر تم انھیں دیکھ لو تو تمھیں معلوم ہوجائے گا کہ میری یہ حالت اس کے مقابلے میں جیل جیسی ہے اور آخرت میں اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے جو عذاب تیار کر رکھا ہے اگر تم اسے دیکھ لو تو تمھیں معلوم ہوجائے گا کہ تم اس وقت بڑی وسیع و عریض جنت میں ہو۔
(الحسن والحسین: محمد رشید رضا: صفحہ 32)
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما بڑے ہی حاضر جواب تھے، سیدنا حسنؓ نے نہایت تشفی بخش اور مسکت جواب دیا، سیدنا حسنؓ نے واضح کردیا کہ اس کی موجودہ خستہ حالی آخرت میں کافروں کے لیے جو عذاب تیار کیا گیا ہے اس کے بالمقابل جنت ہے، اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی حالت جسے وہ نعمتوں سے پُر سمجھتا تھا جنت میں متقیوں کے لیے جو نعمتیں تیار کی گئی ہیں ان کے بالمقابل وہ جیل جیسی ہے۔
(الحسن و الحسین: صفحہ 33)