Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

آٹھواں مسئلہ

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

موت و حیات ائمہ کے اختیار میں: یہ مُسلَّم امر ہے کہ موت وحیات خدا کے اختیار میں ہے، کسی انسان کو اس کا اختیار نہیں دیا گیا، لیکن شیعہ کا اعتقاد ہے کہ ائمہ اہلِ بیتؓ کو موت و حیات پر کُلی اختیار تھا، چاہے مریں یا نہ مریں چنانچہ اصولِ کافی صفحہ 158 میں باب یوں باندھا گیا ہے بَابُ اِنَّ الاَئِمَّةَ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ يَعْلَمُونَ مَتیٰ يَمُوتُونَ وَاَنَّهُم لا يَمُوتُونَ الَّا بِاِخْتِيَارِ مِنْهُم۔

ترجمہ: باب اس کا کہ ائمہ اپنی موت کا وقت جانتے ہیں اور موت ان کے اختیار میں ہے۔

اس صفحہ میں ہے:

عَنْ اَبِی بَصِيرٍ قَالَ قَالَ أَبُو عَبْدِاللّٰهِ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ ایُّ امَامٍ لا يَعْلَمُ مَا يُصِيبُهٗ وَالىٰ مَا يُصِيبُ فَلَيْسَ ذالک بحجة اللّٰه۔ 

ابوبصیر کہتا ہے سیدنا صادقؒ نے فرمایا جس امام کو اپنی مصیبت کا علم نہ ہو اور کہ اس کو کب مصیبت پہنچے گی تو وہ خدا کی طرف سے مخلوق پر حجت نہیں ہو سکتا۔