Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اگر کوئی کافر مسلمان ہو جائے تو مسلمانوں پر اس کی حفاظت لازم ہے


سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک عورت نو مسلم نے اپنی خوشی سے اسلام قبول کیا، جس کی تصدیق کورٹ نے کر دی۔ اس کے بعد عورت مذکورہ نے شادی بھی کر لی، اب اس کے سابقہ مذہب کے چند وڈیروں نے اسے دوبارہ مسلم شوہر سے چھین کر ہندوؤں کے حوالے کر دیا ہے، عورت بدستور اسلام پر قائم ہے۔

ایسی صورت میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ کیا اس کو وہیں رہنے دیا جائے؟ تو اس صورت میں اسلام سے پھر جانے کا خطرہ موجود ہے، یا اسے وہاں سے واپس لایا جائے تو اس کی کیا صورت ہوگی؟

جواب: جو عورت مسلمان ہو چکی اور اسلامی برادری کا ایک فرد بن چکی، اس کی حفاظت، ہر مسلمان صاحب و ایمان پر فرض ہے، مسلمانوں پر لازم ہے کہ اسے اس کے کافر رشتہ داروں سے ملنے نہ دیں، اسے ہرگز ایسی جگہ نہ جانے دیں جہاں اس کے بہکنے کا اندیشہ ہو، ایسے مقام پر کھڑے ہونے سے روک دیں جہاں شیطان اور اس کی ذریت اسے بہکا سکے۔ جو مسلمان، نام کا صاحب ایمان ہو، اس میں آڑے آئے، اس سے قطع تعلق رکھیں، اس سے سلام کلام موقوف کر دیں۔

علمائے کرام فرماتے ہیں الرضاء بالکفر کفر کفر پر راضی ہونا بھی کفر ہے۔ تو جن وڈیروں نے اس مسلمان عورت کو کافروں کے قبضے میں دے دیا، وہ خود بھی انہیں کافروں میں شامل ہو گئے۔ اگر ان کے نکاح ہو چکے ہیں تو ان کے نکاح ٹوٹ گئے، اور حج کر چکے ہوں تو دوبارہ حج کرنا بھی ان پر لازم ہوگیا، از سر نو کلمہ پڑھیں تجدیدِ ایمان کریں اور مسلمان بنیں، ان کے وہ ہی احکام ہیں جو مرتدین کے ہیں۔

حدیث شریف میں ہے: من كثّر سواد قوم فهو منهم

ترجمہ: جو کسی قوم کی گنتی بڑھائے وہ اس قوم سے ہے۔

ظاہر ہے کہ ان وڈیروں نے ایک مسلمان بی بی، انہیں واپس کر کے ان کی تعداد میں اضافہ کیا تو یہ خود بھی ان میں ہو گئے، غرض مسلمانوں پر فرض ہے کہ اس عورت کو واپس لائیں اور حکومت وقت سے مدد۔لیں۔

(فتاویٰ خليليہ: جلد، 2 صفحہ، 34)