عمرؓ بن عبدالعزیز کے دور میں حضرت علیؓ پر سب و شتم کا سلسلہ بند ہوا (تاریخ ملت)
مولانا ابوالحسن ہزارویعمرؓ بن عبدالعزیز کے دور میں حضرت علیؓ پر سب و شتم کا سلسلہ بند ہوا (تاریخ ملت)
الجواب اہلسنت
اردو کی اس تاریخ میں بھی بلا حوالہ و سند یہ بات لکھ دی گئی ہے کہ بنو امیہ کے دور میں سب و شتم کا سلسلہ جاری تھا۔ مکمل روایت حاضر خدمت ہے:
عن لوط بن یحیی قال کان الولاة بنی امیة قبل عمر بن عبد العزیز یشتمون علیا فلما ولی عمر امسک عن ذالک۔
ترجمہ: عمر بن عبدالعزیز سے پہلے بنو امیہ کے والی اور حاکم حضرت علیؓ بن ابی طالب کو سب و شتم کرتے تھے جب عمرؓ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے اس بات سے روک دیا۔(طبقات ابن سعد ج 5 صفحہ 291 تذکرہ عمر بن عبدالعزیز)
اہل نظر جان چکے ہونگے کہ سب و شتم کا اولین کہانی ساز کون ہے وہی لوط بن یحیی ابو مخنف
جس کا حال گذشتہ اعتراضات میں ہم عرض کر چکے ہیں۔ یہ ماہر کہانی باز، جلا بھنا رافضی اور قصہ گو شخص تھا۔ اس قصہ گو کہانی باز نے مرض رافضیت میں مجبور ہوکر ایک کہانی تیار کی جو اس صفائی اور تیزی کے ساتھ پھیلائی گئی کہ شیطان بھی اس سرعت روی اور قصہ خوانی پرہکا بکا رہ گیا گویا اس بات میں وہ لوط بن یحیی کو بھی اپنا باپ سمجھنے لگا۔ چنانچہ یہ لوط بن یحیی رافضی اور متعصب اسلام دشمن کی تیار کی ہوئی کہانی ہے جو اہل سنت و الجماعت کے لئے حجت نہیں اور نہ ہی محتاط ارباب علم کا اس جیسی رافضیانہ باتوں کو نقل کرنا مناسب ہے ۔عمر بن عبدالعزیزرحمتہ اللہ علیہ بلاشبہ عادل نیک طبیعت اور عظیم انسان تھا اور کیوں نہ ہوتا جو عمر اس کے عدیم المثال کارناموں پر آج بھی آفرین کی جاتی ہے مگر یہ بات بھی حقیقت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز سے قبل کوئی ایسا جرم نہ ہوتا تھا جسے سب و شتم کے نام سے جانا جاتا ہو۔