Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

تکبر بیماری سے بچاؤ اور اس کا علاج

  علی محمد الصلابی

 مسلمان اپنے آپ سے پوچھتا رہے، اپنے دل کی نگرانی کرتا رہے کہ وہ متکبر تو نہیں ہوگیا ہے؟ وہ مائل بہ تکبر تو نہیں ہے، اگر وہ اپنے آپ کو تواضع وانکساری کی جانب مائل اور تکبر اور اہل تکبر کو نہ پسند کرنے والا پائے تو اپنے اوپر اللہ کے انعام اور فضل کا شکریہ ادا کرے، ورنہ اپنے نفس کو ملامت کرے، اس کا محاسبہ کرے، اور بطور سزا اس سے بکثرت ذکر و عبادت، صوم و اطاعت کرائے، اسے بہت سارے مباح آرام و آسائش، لہو و لعب اور مرغوبات سے محروم رکھے تاکہ نفس سدھر جائے، ضلالت و گمراہی سے باز آجائے اور اپنی بیماری سے شفا یاب ہوجائے۔

 مسلمان اس بیماری کی حقیقت کو سامنے رکھے، دنیا و آخرت میں اس کے نتائج، شریعت میں اس کے حکم، دنیا و آخرت میں اس پر سزا، قرآن و سنت، امر واقعی، صالحین کے واقعات اور ان کی زندگیوں کی روشنی میں اس کے انجام سے غافل نہ رہے۔

قرآن کریم صراحت سے اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ تکبر شیطان کی صفت ہے، ابلیس لعین کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَاِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلٰٓئِكَةِ اسۡجُدُوۡا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوۡٓا اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ اَبٰى وَاسۡتَكۡبَرَ وَكَانَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ۞ (سورۃ البقرة آیت 34)

ترجمہ: اور (اس وقت کا تذکرہ سنو) جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو چنانچہ سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے کہ اس نے انکار کیا اور متکبرانہ رویہ اختیار کیا اور کافروں میں شامل ہوگیا،

 متکبر کو اللہ تعالیٰ محبوب نہیں رکھتا، جیسا کہ فرمان الہٰی ہے:

لَا جَرَمَ اَنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ مَا يُسِرُّوۡنَ وَمَا يُعۡلِنُوۡنَ‌اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الۡمُسۡتَكۡبِرِيۡنَ‏ ۞ (سورۃ النحل آیت 23)

ترجمہ: ظاہر بات ہے کہ اللہ وہ باتیں بھی جانتا ہے جو وہ چھپ کر کرتے ہیں، اور وہ بھی جو وہ علی الاعلان کرتے ہیں۔ وہ یقیناً گھمنڈ کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

وَلَا تُصَعِّرۡ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمۡشِ فِى الۡاَرۡضِ مَرَحًا  اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخۡتَالٍ فَخُوۡرٍ ۞ ( سورۃ لقمان آیت 18)

ترجمہ: اور لوگوں کے سامنے (غرور سے) اپنے گال مت پھلاؤ، اور زمین پر اتراتے ہوئے مت چلو۔ یقین جانو اللہ کسی اترانے والے شیخی باز کو پسند نہیں کرتا۔

فخر و گھمنڈ متکبر کی صفت ہے اور متکبر کے دل پر اللہ تعالیٰ مہر لگا دیتا ہے، جیسا کہ فرمان الہٰی ہے:

اۨلَّذِيۡنَ يُجَادِلُوۡنَ فِىۡۤ اٰيٰتِ اللّٰهِ بِغَيۡرِ سُلۡطٰنٍ اَتٰٮهُمۡ كَبُـرَ مَقۡتًا عِنۡدَ اللّٰهِ وَعِنۡدَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كَذٰلِكَ يَطۡبَعُ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ قَلۡبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ ۞ (سورۃ غافر آیت 35)

ترجمہ: جو اپنے پاس کسی واضح دلیل کے آئے بغیر اللہ کی آیتوں میں جھگڑے نکالا کرتے ہیں۔ یہ بات اللہ کے نزدیک بھی قابل نفرت ہے اور ان لوگوں کے نزدیک بھی جو ایمان لے آئے ہیں۔ اسی طرح اللہ ہر متکبر جابر شخص کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔‘

اگر کوئی علم و عبادت میں تکبر کرتا ہے (جب کہ وہ تکبر کی بدترین شکل ہے) تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل علم پر اتمام حجت کردیا ہے، جاہل کی بعض باتوں سے صرف نظر کرتا ہے جب کہ عالم سے نہیں کرتا، جو علم رکھتے ہوئے محض تکبر کی بنا پر اللہ کی نافرمانی کرتا ہے تو اس کا یہ گناہ عظیم ترین ہے۔

اگر حسب و نسب کی وجہ سے تکبر کرتا ہے تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ وہ دوسروں کی خوبیوں پر فخر کرتا ہے، پھر اسے اپنے باپ دادا کی حقیقت سے بھی آگاہ ہونا چاہیے، اس کے قریبی باپ کی حقیقت ایک حقیر نطفہ ہے، اس کے بعید ترین باپ آدم علیہ السلام کی حقیقت مٹی ہے۔ جو خوب صورتی پر فخر کرتا ہے اسے جانوروں کی طرح ظاہر کے بجائے عقلمندوں کی طرح اپنے باطن کو دیکھنا چاہیے۔ جس کو اپنی قوت پر فخر ہو تو اسے یقین کرنا چاہیے کہ اس کی ایک رگ درد کرنے لگتی ہے تو بالکل عاجز بن جاتا ہے، جو مالداری کے باعث تکبر کرتا ہے تو اسے اپنے سے زیادہ مالدار قارون، ہامان اور ان کے انجام کو دیکھنا چاہیے۔

مذکورہ باتوں پر عمل کرنے سے وہ تکبر چھوڑ دے گا، انسان کو تواضع و خاکساری اپنانا چاہیے، نتیجتاً اللہ تعالیٰ اسے عزت و رفعت سے نوازے گا، دنیا و آخرت میں اس سے خوش ہوجائے گا، اسے قرآن وحدیث میں مذکور پہلے کے متکبروں اور دور حاضر کے متکبروں کے واقعات اور دنیا و آخرت میں ان کے انجام سے عبرت حاصل کرنی چاہیے، ایسی صورت میں وہ تکبر سے بچے گا، اور اگر اس بیماری میں مبتلا ہے تو اس سے چھٹکارا کی کوشش کرے گا، اسے صالح خاکساروں کے ساتھ رہنا چاہیے تاکہ ان سے اچھے اخلاق، اقوال اور دوسروں کے ساتھ اچھے برتاؤ کو سیکھے، متکبروں سے دور رہے، ان کے ساتھ نہ اٹھے بیٹھے تاکہ ان سے دنیا و آخرت میں ضرر رساں چیزیں نہ سیکھے یا ان سے متاثر ہو کر ان کی گمراہیوں کے پیچھے دوڑنے نہ لگے۔

(منہج الإسلام فی تزکیۃ النفس: صفحہ 346)