Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

بد مذہبوں کے ساتھ تعلقات رکھنا


قال الله تعالیٰ:  وَاِمَّا يُنۡسِيَنَّكَ الشَّيۡطٰنُ فَلَا تَقۡعُدۡ بَعۡدَ الذِّكۡرٰى مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ۞

(سورۃ الانعام: آیت نمبر 68)

ترجمہ: اور اگر تجھے شیطان بھلا دے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھے، کہ بد مذہب سے زیادہ ظالم کون ہے؟

وقال الله تعالیٰ وَلَا تُلۡقُوۡا بِاَيۡدِيۡكُمۡ اِلَى التَّهۡلُكَةِ وَاَحۡسِنُوۡا

(سورۃ البقرہ: آیت نمبر، 195)

ترجمہ: اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑھو اور بد مذہبی ہلاکت حقیقی ہے۔

اسی لئے احادیث کریمہ میں بد مذہب سے دور بھاگنے کا حکم دیا گیا ایا كم واياهم لا يضلونكم ولا يفتنونکم گمراہوں سے دور بھاگو، انہیں اپنے سے دور رکھو، کہیں وہ تمہیں بہکا نہ دیں، کہیں وہ تمہیں فتنے میں نہ ڈال دیں۔

ایک اور حدیث شریف میں ہے: اياك وقرين السوء فانک به تعرف 

ترجمہ: بُرے ہم نشینوں سے دور بھاگ کہ تو انہیں کے ساتھ شمار ہو گا۔

علمائے کرام تصریح فرماتے ہیں کہ بد مذہب کیلئے حکم شرعی یہ ہے کہ اس سے بغض و عداوت رکھیں، رُوگردانی کریں، اس کی تذلیل و تحقیر بجا لائیں، اس سے لعن طعن سے پیش آئیں۔

(فتاویٰ خلیلیہ: جلد، 1 صفحہ، 156)