امیر المؤمنین سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا قول ہے -…

امیر المؤمنین سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا قول ہے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 4

میں تمھیں اپنے ایک بھائی کی خبر دے رہا ہوں جو میری نگاہ میں بہت عظیم تھا، اس کی عظمت کا سب سے اہم راز یہ تھا کہ دنیا اس کی نگاہ میں حقیر تھی اور وہ اپنے پیٹ کا بندہ نہیں تھا، نہ ملنے والی چیز کی وہ خواہش نہیں کرتا تھا، مل جانے پر زیادہ نہیں کھاتا تھا، اپنی شرمگاہ کا غلام نہیں تھا، چنانچہ اس کے پیچھے اپنی عقل و رائے کا دامن نہیں چھوڑتا تھا، جاہلوں کا دست نگر نہیں تھا، منفعت کا یقین ہونے کے بعد ہی ہاتھ پھیلاتا تھا، بلاسبب نہ ناراض ہوتا نہ اکتاتا، علماء کی مجلس میں بولنے سے زیادہ سننے کا حریص ہوتا، گفتگو میں مغلوب ہو بھی جاتا لیکن خاموشی میں نہیں، اکثر اوقات خاموش رہتا، جب بولتا تو بولنے والوں پر فوقیت لے جاتا، جس کے قول و عمل میں ہم آہنگی نہ ہو، ایسے قاضی کو دیکھ کر ہی کسی مقدمے اور جھگڑے میں بلامعاوضہ احساناً دخل اندازی کرتا اور دلیل دیتا، اپنے بھائیوں کا خیال رکھتا، انھیں چھوڑ کر اپنے لیے کوئی چیز خاص نہ کرتا، لائق عذر کسی چیز کے سلسلے میں کسی کی ملامت نہ کرتا، جب اس کے نزدیک دو باتوں میں سے کسی کا اقرب الی الحق ہونا واضح نہ ہوتا تو دیکھتا کہ ان میں سے کون سی بات خواہش کے زیادہ قریب ہے پھر اس کی مخالفت کرتا۔

(البدایۃ والنہایۃ:جلد 11 صفحہ 199)

سیدنا حسنؓ کے اس قول میں لوگوں کے لیے خصائل حمیدہ اور اخلاق حسنہ کی جانب رہنمائی ہے، یہ تربیت کا اعلیٰ ترین منہج ہے، جس کے مطابق ہمیں اپنی اور اپنے بچوں کی تربیت کرنی چاہیے، اس قول سے ہمیں درج ذیل چیزوں کا سبق ملتا ہے:

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا قول

’’میری نگاہ میں اس کی عظمت کا سب سے بڑا راز یہ ہے کہ دنیا اس کی نگاہ میں حقیر تھی۔‘‘

(البدایۃ والنھایۃ: جلد 11 صفحہ 199)

دنیا اس کی نگاہ میں حقیر ہوتی ہے جو حقائق سے آگاہ ہو، قضا و قدر، جنت و جہنم، دنیا و زندگی اور اللہ تعالیٰ سے متعلق صحیح تصور اس کے ذہن نشین ہو، اللہ کے حضور حاضر ہونے کی حقیقت کو سمجھتے ہوئے دنیا سے بے رغبت ہو کر آخرت کے لیے عمل کرے، اسے یقین ہو کہ دنیا امتحان و آزمائش کی جگہ اور آخرت کی کھیتی ہے، اس بات سے بچتا ہو کہ دنیا اپنی تمام تر چمک دمک اور رعنائیوں کے ساتھ اس پر غالب آجائے، ظاہراً و باطناً اپنے رب کے سامنے سر تسلیم خم کر چکا ہو، جاں گزیں ہو جانے والی ان حقیقتوں کا ادراک کر چکا ہو جو دنیا سے بے رغبت ہونے میں اس کی معاون و مددگار ہوں، انھیں میں سے درج ذیل حقیقتیں ہیں:

 اس بات کا کامل یقین کہ ہم اس دنیا میں اجنبیوں یا مسافروں کے مانند ہیں، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

کُنْ فِی الدُّنْیَا کَأَنَّکَ غَرِیْبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِیْلٍ۔

(سنن الترمذی: کتاب الزہد: رقم: 2333، یہ حدیث صحیح ہے۔)

’’تم دنیا میں اجنبی یا مسافر کے مانند رہو۔‘‘

 اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس دنیا کی کوئی قدر و قیمت نہیں، اگر کچھ قدر و قیمت ہے تو دنیا کے اسی حصے کی ہے جو اللہ کی اطاعت کے لیے ہو، اس لیے کہ فرمان نبویﷺ ہے:

لَوْ کَانَتِ الدُّنْیَا تَعْدِلُ عِنْدَ اللّٰہِ جَنَاحَ بَعُوْضَۃٍ مَا سَقَی کَافِرًا مِنْہَا شَرْبَۃَ مَائٍ۔

(سنن الترمذی: کتاب الزہد: رقم: 2320)

’’اگر دنیا کی وقعت اللہ کے نزدیک ایک مچھر کے پَر کے برابر بھی ہوتی تو وہ کسی کافر کو اس میں سے ایک گھونٹ پانی بھی نہ پلاتا۔‘‘

نیز فرمان نبویﷺ ہے:

اَلدُّنْیَا مَلْعُوْنَۃٌ وَ مَلْعُوْنٌ مَا فِیْہَا إِلَّا ذِکْرَ اللّٰہِ وَمَا وَالَاہُ أَوْ عَالِمًا أَوْ مُتَعَلِّمًا۔

(سنن الترمذی: کتاب الزہد: رقم: 2322)

’’دنیا ملعون ہے اور جو کچھ اس میں ہے وہ بھی ملعون ہے سوائے اللہ تعالیٰ کے ذکر اور ان چیزوں کے جو اس سے تعلق رکھتی ہیں اور سوائے دینی علوم سے بہرہ ور اور ان کا علم حاصل کرنے والوں کے۔‘‘

دنیا کی عمر ختم ہونے کے قریب ہے، جیسا کہ فرمان نبویﷺ ہے:

بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَۃُ کَہَاتَیْنِ وَ یَقْرَنُ بَیْنَ اَصْبُعَیْہِ السَّبَّابَۃِ وَالْوَسْطَی۔

(صحیح مسلم: کتاب الفتن و أشراط الساعۃ: رقم: 132، 135) 

’’میں اور قیامت ایسے مبعوث کیے گئے ہیں جیسے یہ دونوں انگلیاں ہیں، اور (یہ کہتے ہوئے) آپﷺ اپنی انگشت شہادت اور درمیانی انگلی ملا لیتے (یعنی جس طرح یہ دونوں انگلیاں متصل ہیں درمیان میں کوئی فاصلہ نہیں، اسی طرح میرے اور قیامت کے درمیان کسی نبی کا فاصلہ نہیں)‘‘

انسان کی قیامت اس کی موت سے شروع ہو جاتی ہے، اور عمر بہت مختصر ہوتی ہے جب ہم اس میں سے بچپنے اور نیند کا حصہ نکال دیں تو کتنا بچے گا؟

 آخرت کی زندگی باقی رہنے والی ہے، اور وہ دار القرار ہے، جیسا کہ مومنِ آل فرعون نے کہا:

يٰقَوۡمِ اِنَّمَا هٰذِهِ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا مَتَاعٌ وَّاِنَّ الۡاٰخِرَةَ هِىَ دَارُ الۡقَرَارِ۞ مَنۡ عَمِلَ سَيِّـئَـةً فَلَا يُجۡزٰٓى اِلَّا مِثۡلَهَا وَمَنۡ عَمِلَ صَالِحًـا مِّنۡ ذَكَرٍ اَوۡ اُنۡثٰى وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ يَدۡخُلُوۡنَ الۡجَـنَّةَ يُرۡزَقُوۡنَ فِيۡهَا بِغَيۡرِ حِسَابٍ ۞(سورۃ غافر آیت 39، 40)

ترجمہ: اے میری قوم! یہ دنیوی زندگی تو بس تھوڑا سا مزہ ہے۔ اور یقین جانو کہ آخرت ہی رہنے بسنے کا اصل گھر ہے۔ اور جس شخص نے کوئی برائی کی ہوگی، اسے اسی کے برابر بدلہ دیا جائے گا، اور جس نے نیک کام کیا ہوگا، چاہے وہ مرد ہو یا عورت جبکہ وہ مومن ہو تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے وہاں انہیں بےحساب رزق دیا جائے گا۔

جس مومن کے دل میں یہ حقیقتیں رچ بس جائیں دنیا اس کی نگاہ میں حقیر ہو جائے گی۔

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے اس قول کی شرح

کَانَ خَارِجًا مِنْ سُلْطَانِ بَطْنِہِ فَلَا یَشْتَہِیْ مَالًا یَجِدُ وَ لَا یُکْثِرُ إِذَا وَجَدَ۔

(البدایۃ والنھایۃ: جلد 11 صفحہ 199)

’’وہ اپنے پیٹ کا بندہ نہیں تھا، نہ ملنے والی چیز کی وہ خواہش نہیں کرتا تھا، مل جانے پر وہ زیادہ نہیں کھاتا تھا۔‘‘

صفحہ 1 از 4