امیر المؤمنین سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا قول ہے -…

امیر المؤمنین سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا قول ہے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 4

آپ کے اس ارشاد میں ضرورت سے زائد کھانے کو ترک کرنے کی دعوت دی گئی ہے اس لیے کہ زائد کھانا انواع و اقسام کی پینے کی چیزوں کا متقاضی ہوتا ہے، اور یہ چیزیں معاصی کے ارتکاب اور اطاعتوں کو ترک کرنے کا باعث ہوتی ہیں، اور یہ دونوں باتیں بہت بری ہیں، چنانچہ خوب پیٹ بھر کھانا بہت سارے معاصی کے ارتکاب اور بہت ساری اطاعتوں کے ترک کا سبب بنتا ہے۔ چنانچہ جس نے اپنے آپ کو پیٹ کی برائی سے بچا لیا اس نے اپنے آپ کو بڑی برائی سے بچا لیا، جب انسان خوب پیٹ بھر کھانا کھاتا ہے تبھی اس پر شیطان کا اچھی طرح بس چلتا ہے۔

(جہاد النفس: علی الدہامی: صفحہ 93)

اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ہمیں شیطان کی ان چالوں سے بچنے کے لیے کہا ہے جو حلال پر اکتفا کرنے کے بجائے پیٹ کا بندہ بننے کی دعوت دیتی ہیں، چنانچہ فرمان الہٰی ہے:

يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ كُلُوۡا مِمَّا فِى الۡاَرۡضِ حَلٰلًا طَيِّبًا وَّلَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ اِنَّهٗ لَـكُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ ۞ (سورۃ البقرة آیت 168)

ترجمہ: اے لوگو! زمین میں جو حلال پاکیزہ چیزیں ہیں وہ کھاؤ اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو، یقین جانو کہ وہ تمہارے لیے ایک کھلا دشمن ہے

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے کھانے پینے میں اعتدال کا حکم دیا ہے اس لیے کہ اعتدال پیٹ کی خواہشات کو کنٹرول رکھتا ہے:

وَّكُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا وَلَا تُسۡرِفُوۡا‌ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الۡمُسۡرِفِيۡنَ۞

(سورۃ الأعراف آیت 31)

ترجمہ: اور کھاؤ اور پیو، اور فضول خرچی مت کرو۔ یاد رکھو کہ اللہ فضول خرچ لوگوں کو پسند نہیں کرتا۔ 

پیٹ کا بندہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ وہ شخص ضرورت سے زیادہ کھائے اور پیئے اور آسودہ ہونے میں مبالغہ اور افراط سے کام لے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح کیا ہے کہ ضرورت سے زیادہ کھانا پینا جسم اور نفس کے لیے نقصان دہ ہے، جیسا کہ امام ترمذیؒ نے مقدام بن معد یکرب رضی اللہ عنہ کی روایت درج کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے:

مَا مَلَأَ آدَمِیٌّ وَعَائً شَرَّا مِنْ بَطْنِہِ، بِحَسْبِ ابْنِ آدَمَ أَکْلَاتٌ یُقِمْنَ صُلْبَہُ فَإِنْ کَانَ لَا مَحَالَۃَ فَثُلُثٌ لِطَعَامَہِ، وَ ثُلُثٌ لِشَرَابَہِ وَ ثُلُثٌ لِنَفْسَہِ۔

(سنن الترمذی: کتاب الزہد: حدیث نمبر 380، حدیث حسن صحیح ہے۔(

’’کسی آدمی نے کوئی برتن اپنے پیٹ سے زیادہ برا نہیں بھرا، آدمی کے لیے چند لقمے ہی کافی ہیں جو اس کی پشت کو سیدھا رکھیں اور اگر زیادہ ہی کھانا ضروری ہو تو پھر پیٹ کا تہائی حصہ کھانے کے لیے اور دوسرا تہائی حصہ پانی کے لیے، اور تیسرا تہائی حصہ سانس لینے کے لیے ہو۔‘‘

اس حدیث میں مذکور کم کھانے پینے اور اسراف سے بچنے سے متعلق نبویﷺ طریقے کو اپنانا چاہیے، اس لیے کہ یہ اسراف بڑی خرابی کا باعث ہوتا ہے، خرابی سے مراد معدے کی بیماریاں ہی نہیں ہیں، بلکہ وہ خرابی مراد ہے جو نفس میں پیدا ہو جاتی ہے جس سے نفس بہت زیادہ کھانے پینے کا عادی ہو جاتا ہے، کھانا پینا اس کے نزدیک غذا اور بدن کی تقویت کے بجائے ایک مستقل مقصد بن جاتا ہے، جس کے حصول میں وہ ہمیشہ لگا رہتا ہے، اس کی پوری تگ و دو اسی کے لیے ہوتی ہے، اس کا پیٹ اگر آسودہ ہو بھی جاتا ہے تو اس کا نفس آسودہ نہیں ہوتا، پیٹ ہی اس کے نزدیک خوش حالی کا معیار ہوتا ہے۔

(امراض النفس: دیکھیے: انس کرزون: صفحہ 109)

پیٹ کا بندہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ صرف زیادہ کھاتا ہے، اس لیے کہ زیادہ کھانا اس کے مرض کی ظاہری علامت ہے، اس کی حقیقت یہ ہوتی ہے کہ نفس مادہ پرست اور لالچی ہو جاتا ہے، کھانا اس کے نزدیک وسیلۂ غذا کے بجائے ایک مستقل مقصد بن جاتا ہے، وہ جانوروں جیسا ہو جاتا ہے جو اپنی خواہشات کے غلام ہوتے ہیں، اس سلسلے میں فرمان الہٰی ہے:

 وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يَتَمَتَّعُوۡنَ وَيَاۡكُلُوۡنَ كَمَا تَاۡكُلُ الۡاَنۡعَامُ وَالنَّارُ مَثۡوًى لَّهُمۡ ۞ (سورۃ محمد آیت 12)

ترجمہ: اور جنہوں نے کفر اپنا لیا ہے وہ (یہاں تو) مزے اڑا رہے ہیں، اور اسی طرح کھا رہے ہیں جیسے چوپائے کھاتے ہیں، اور جہنم ان کا آخری ٹھکانا ہے۔

نیز فرمان نبویﷺ ہے:

اَلْکَافِرُ یَأْکُلُ فِیْ سَبْعَۃِ أَمْعَائٍ وَ الْمُؤْمِنُ یَأْکُلُ فِیْ مِعًی وَاحِدٍ۔

(صحیح مسلم: رقم: 2060)

’’کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے، اور مومن ایک آنت میں۔‘‘

اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ مؤمنین کا طریقہ کم کھانا ہوتا ہے تاکہ عبادات میں مشغول رہ سکیں، کافر اس کے برخلاف ہوتا ہے اس لیے کہ وہ اپنی خواہشات کا غلام ہوتا ہے، انھی کے پیچھے پڑا رہتا ہے، اس سلسلے میں حرام سے بھی گریز نہیں کرتا، اگر کم کھاتا بھی ہے تو دنیا سے بے رغبتی کے باعث نہیں بلکہ صحت اور جسم کی حفاظت کے لیے،

دنیا کا حریص ہونے اور اس کے پیچھے پڑے رہنے کے سبب گویا وہ سات آنتوں میں کھاتا ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے فلاں پوری دنیا کھاجاتا ہے۔ لیکن مومن ایک آنت میں کھاتا ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس حدیث میں دنیا سے متعلق مومن کے زہد اور کافر کے حرص کی مثال بیان کرتے ہیں۔

(فتح الباری: شرح صحیح البخاری: جلد 9 صفحہ 538، 539)

امام نوویؒ نے اس حدیث کا ایک دوسرا مفہوم بیان کرتے ہوئے کہا: ایک قول کے مطابق سات آنتوں سے مراد سات صفتیں ہیں: حرص، ہوس، لمبی امید، لالچ، بری طبیعت، حسد اور موٹاپا۔

(شرح النووی: علی صحیح مسلم: جلد 14 صفحہ 23)

ابن القیم رحمہ اللہ کا قول ہے:

دل کو خراب کرنے والی چیزوں میں سے کھانا ہے، اور اس کھانے کی دو قسمیں ہیں:

پہلی قسم: ایسا کھانا جو بذات خود دل کو خراب کردے جیسے حرام چیزیں۔

صفحہ 2 از 4